پاکستان کی صدارتی تاریخ عروج و زوال سے کیوں بھری ہے؟

بانی پاکستان قائداعظم علی جناح کی جانب سے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا خواب اس لیے بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا کہ وہ قیام پاکستان کے فوری بعد دنیا سے کوچ کر گئے اور یہ عہدہ طاقت کی ایک کرسی بن گیا، جس کے گرد میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہوگیا۔پاکستان کو اپنے سیاسی نظام کا ڈھانچہ 1935 کے ’انڈیا ایکٹ‘ کے تحت بنانا پڑا اور اسی ایکٹ کے تحت ہندوستان کے آخری وائس رائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے مسلم لیگ کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل اپنے عہدے کا حلف لیا۔ملک میں صدارتی و پارلیمانی نظام اور مارشل لا کے ادوار میں اب تک مجموعی طور پر 14 صدور اس منصب پر فائز رہ چکے ہیں اور پاکستان کے آئینی سربراہ کے عہدے کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان نے 9 مارچ 2024 کو ایک بار پھر نئے صدر کا انتخاب کیا، ملکی تاریخ میں یہ تیسرا موقع تھا کہ ایک منتخب سول صدر کے عہدے کی میعاد مکمل ہونے کے بعد اگلی مدت کیلئے نئے صدر کا چناؤ کیا گیا۔ پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل اسکندر مرزا تھے جو لگ بھگ 2 سال 7 ماہ اس عہدے پر فائز رہے۔27 اکتوبر 1958 کو ایوب خان کی قیادت میں ہونے والی کامیاب فوجی بغاوت میں انہیں اس عہدے ہٹا دیا گیا۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ہری پور میں پیدا ہوئے اور پاکستان کے پہلے فوجی حکمراں بنے جنہوں نے اسکندر مرزا کو برطرف کر کے اقتدار سنبھالا اور تقریباً ساڑھے 10 سال صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ آغا محمد یحییٰ خان چکوال میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور کٹھن ترین دور میں ایک فوجی حکمراں کے طور پر اقتدار سنبھالا۔1971 میں بھارت سے جنگ میں بدترین شکست اور ملک کے دولخت ہونے پر رائے عامہ یحییٰ خان کے اس قدر غیر موافق ہوگئی کہ ان کا مزید اپنے عہدے پر برقرار رہنا ناممکن ہو گیا۔ذوالفقار علی بھٹو پہلے جنرل ایوب کی کابینہ میں وزیر خارجہ اور پھر ان کے خلاف عوامی تحریک کے بانیوں میں سے تھے اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ملک کے پہلے صدر اور سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو 1973 میں متفقہ آئین دیا، اس کے علاوہ ایٹمی صلاحیت کا حصول اور عوامی شعور اُجاگر کرنے میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔فضل الہٰی چوہدری 1973 کے آئین کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کے وہ پہلے صدر بنے جن کے پاس وزیراعظم سے کم اختیارات تھے۔ وہ 5 سال ایک ماہ اس عہدے پر فائز رہے۔جالندھر میں پیدا ہونے والے جنرل ضیاالحق لگ بھگ 10 سال صدارت کے عہدے پر براجمان رہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے غلام اسحٰق خان کا دور صدارت تقریباً 5 برسوں پر محیط رہا۔ غلام اسحٰق خان نے دو سال کے اندر ہی آٹھویں ترمیم کے تحت صدر کو حاصل اختیار استعمال کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی حکومت کی بساط لپیٹ دی۔اس کے بعد نواز شریف کی حکومت آئی۔ شروعات میں تو ان کی حکومت کے غلام اسحٰق خان کے ساتھ تعلقات بہتر رہے لیکن رفتہ رفتہ حالات خراب ہوتے گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جولائی 1993 میں نواز شریف نہ صرف خود وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ غلام اسحٰق خان کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے سردار فاروق احمد خان لغاری پیپلز پارٹی کی بھرپور حمایت کے ساتھ 1993 میں ملک کے صدر بنے، محمد رفیق تارڑ 1997 میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور یکم جنوری 1998 کو ملک کے صدر بنے۔جب جنرل مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت کو برطرف کیا تو انہوں نے اپنے لیے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ منتخب کیا اور رفیق تارڑ کو صدر رہنے دیا۔ لیکن کچھ عرصے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ملک کے دوسرے فوجی سربراہان کی طرح ان پر صدارت ہی سجے گی، اس لیے انہوں نے بھی ایک ریفرنڈم منعقد کروایا اور رفیق تارڑ کو گھر بھجوا کر 20 جون 2001 کو خود صدارت کا حلف اٹھا لیا۔پرویز مشرف کا دور صدارت رفیق تارڑ اور چوہدری فضل الہٰی کی طرح اختیارات سے عاری نہ تھا۔ انہوں نے 58 (ٹو) (بی) کا گڑا مردہ نکالا اور اسے اسمبلی اور وزیرِ اعظم کے سر پر تلوار کی طرح لٹکا دیا جس کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کی حیثیت ثانوی ہوگئی۔ پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی خاطر 30 اپریل 2002 میں ایک صدارتی ریفرنڈم کروایا جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کرلیا۔آصف علی زرداری نے مخالفت کے باوجود اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد مفاہمتی پالیسی اختیار کی اور پانچ سال اس پالیسی پر عمل پیرا رہے۔ ملک کے بارہویں صدر ممنون حسین نے مسلم لیگ (ن) کی مرکز میں حکومت آنے کے بعد 9 ستمبر 2013 کو صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ان کے دور صدارت میں حکومتی فیصلوں کے بعد کئی صدارتی فرمان اور آرڈیننس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ ان کی حیثیت آئین کے تحت رسمی ہی رہی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکز میں حکومت آنے کے بعد 9 ستمبر 2018 کو عہدے کا حلف اٹھایا۔ عارف علوی پر ان کے دور صدارت میں کئی بار آئین شکنی کے الزامات لگے، آصف علی زرداری اتحادی جماعتوں کی حکومت آنے کے بعد 9 مارچ 2024 کو دوسری بار ملک کے صدر منتخب ہوئے۔آصف زرداری کو مجموعی طور پر 411 الیکٹورل ووٹ ملے جس میں سے چاروں اسمبلیوں سے 156 جبکہ پارلیمنٹ سے 255 ووٹ ملے۔مجموعی طور پر پاکستان کے 14 میں سے 5 صدور فوجی جبکہ 9 سویلین تھے۔
