کیا جنوبی کوریا پاکستانی طلبا کا پسندیدہ ملک بن سکتا ہے؟

یونیورسٹی تعلیم ختم کرنے کے بعد طلبا کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے شعبے میں مزید مہارت کے لیے یورپی یا بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں کا رخ کریں لیکن آج کل مہنگائی کے دور میں ایسا سوچنا بھی محال ہے، لیکن پاکستانی طلبا کم پیسوں میں اعلیٰ تعلیم کا خواب جنوبی کوریا میں پورا کر سکتے ہیں۔پاکستان بھر میں اکثر یونیورسٹیوں میں اس وقت آخری سیمسٹرز چل رہے ہیں اور اکثر طلبہ کے ذہنوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانے کا خواب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے، عموماً پاکستانی طلبا بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ، کینیڈا، چین، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر ممالک کا رُخ کرنے کا سوچتے ہیں تاہم ان میں سے اکثر ممالک کی جانب سے حال ہی میں اپنی ویزا پالیسیوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔کینیڈا، برطانیہ، فرانس، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے تارکین وطن کے لیے مختلف قسم کے ویزوں کے حصول کے لیے قوانین اور ضوابط کو سخت کر دیا ہے، دیگر آپشنز میں جنوبی کوریا کو مختلف کنسلٹنٹس کی جانب سے ایک ’سستا‘ ملک قرار دیا گیا ہے۔جنوبی کوریا کی وزارت تعلیم نے 2023 کے اواخر میں ایک حکمتِ عملی تیار کی تھی جس کا مقصد حکومت، مقامی تعلیمی اداروں اور کاروباری اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر کے ملک میں 2027 تک تین لاکھ طلبہ کو راغب کرنا تھا۔اس منصوبے کے ذریعے جنوبی کوریا کی حکومت بین الاقوامی طلبہ کے لیے زبان کی رکاوٹوں کو کم کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ مستقل رہائشی پرمٹ حاصل کرنے کا وقت بھی چھ سال سے کم کر کے تین سال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس وقت جنوبی کوریا میں ویتنام، چین، منگولیا اور ازبکستان سے سب سے زیادہ طلبہ موجود ہیں۔ہم نے لاہور میں کوریا جانے کے لیے طلبہ کو کنسلٹنسی فراہم کرنے والی ایک کمپنی یو این آئی گائیڈ کے عاصم سے بات کی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ صرف ایسے طلبہ کو ڈیل کرتے ہیں جو اپنے خرچے پر بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ جنوبی کوریا میں یونیورسٹیوں کی فیس دوسرے ممالک سے خاصی کم ہے جس کی وجہ سے طلبہ یہاں پڑھائی کے لیے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔جنوبی کوریا میں پی ایچ ڈی کی طالبہ شہنیلہ رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پروفیسرز سکالرشپ پر کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کے لیے 2021 میں جنوبی کوریا گئیں۔ پی ایچ ڈی میں داخلے کے بعد آپ ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جس سے آپ روزمرہ کے خرچ پورے کر سکتے ہیں۔جنوبی کوریا میں چار سو سے زیادہ سرکاری اور نجی یونیورسٹیاں ہیں۔ کچھ یونیورسٹیوں میں سائنس کے نئے شعبوں کے لیے جدید ترین تحقیقی سہولیات موجود ہیں۔ عام طور پر سرکاری یونیورسٹی کی فیس پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ سے کم ہوتی ہیں۔جنوبی کوریا کی حکومت کئی سکالرشپ پروگرام بھی چلا رہی ہے جیسے کہ گلوبل کوریا سکالرشپ پروگرام، کورین گورنمنٹ سپورٹ پروگرام فار فارن ایکسچینج سٹوڈنٹس، سپورٹ پروگرام فار سیلف فنانس سٹوڈنٹس، جی کے ایس انویٹیشن پروگرام فار پارٹنر کنٹریز اور جی کے ایس پروگرام۔ آسیان (آسیان) ممالک سائنس اور انجینئرنگ کے طلبہ، اس کے علاوہ بہت سی یونیورسٹیاں اپنے سکالرشپ پروگرام بھی چلاتی ہیں، جو اچھے نمبر والے طلبہ کے لیے 30 فیصد سے 100 فیصد فیس معافی کی پیشکش کرتی ہیں۔کوریا میں ایک بین الاقوامی طالب علم کے ماہانہ اخراجات تقریباً 560 ڈالر سے 750 ڈالر تک ہوتے ہیں، بشمول ان کے رہنے، کھانے، اور آمدورفت کے اخراجات۔امیگریشن کے وکیل اور اجمیرا لا گروپ کے بانی پرشانت اجمیرا نے کہا کہ ’جنوبی کوریا کی کسی یونیورسٹی سے داخلہ کا خط موصول ہونے کے بعد بین الاقوامی طلبہ اس ملک میں کوریا کے سفارت خانے یا قونصل خانے جا کر سٹوڈنٹ ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، اس کے علاوہ وہ آن لائن ویزا کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں، جنوبی کوریا میں 90 دن یا اس سے کم کے لیے سنگل انٹری ویزا کے لیے درخواست کی فیس 40 ڈالر ہے جبکہ 90 دن یا اس سے زیادہ اور ایک سے زیادہ انٹری ویزوں کے لیے ویزے کی درخواست کی فیس 90 ڈالر ہے۔

Back to top button