پاکستان میں چینی سرمایہ کاری داؤ پر کیوں لگ گئی؟

پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے سی پیک منصوبہ 2017 میں شروع کیا گیا تھا، اس پراجیکٹ میں شامل منصوبوں کو 2030 تک مکمل کیا جانا تھا لیکن ابھی صرف منصوبے کے 28 فیصد حصے پر کام کیا جا سکا ہے جبکہ 68 فیصد منصوبوں پر ابھی کام کا آغاز ہی نہیں ہو سکا جبکہ صرف 6 سال کا عرصہ باقی ہے۔پاکستان میں سی پیک جس دھوم دھام سے شروع ہوا تھا، اب اس میں وہ تیزی نظر نہیں آ رہی، سیاسی جماعتوں نے سی پیک کو الیکشن مدعا کے طور پر جس طرح استعمال کیا عام آدمی کیلئے یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ سی پیک کا مستقبل کیا ہوگا؟سی پیک بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک بہت اہم حصہ ہے جس کی باقاعدہ بنیاد 2013 میں رکھی گئی تھی، اس منصوبے کے تحت چین نے پاکستان میں 17 سالوں میں 62 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنا تھی، اپریل 2015 میں 46 ارب ڈالر کی 51 یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔نومبر 2017 میں لانگ ٹرم معاہدے کی مدت کے سمجھوتے پر دستخط کیے گئے جس کا دورانیہ 2017 سے 2030 ہے۔پہلا مرحلہ 2020 تک مکمل ہونا تھا۔ درمیانی مرحلہ 2025 تک اور تیسرا مرحلہ 2030 تک مکمل ہونا تھا۔ اب تک تقریباً 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری والے تقریباً 28 منصوبے مکمل ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 37 ارب ڈالرز سے زیادہ والے 62 منصوبے یا تو شروع ہی نہیں ہوئے یا نامکمل ہیں۔کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے سینئر نائب صدر آغا گل خلجی نے ’’انڈپینڈنٹ اردو‘‘ کو بتایا کہ ’سی پیک کے تحت بلوچستان میں کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے، گودار بندرگاہ سی پیک کا مرکزی منصوبہ ہے، گوادر بندرگاہ کا معاہدہ بھی عجیب ہے، اس میں 91 فیصد ریونیو شیئر چین کا ہے اور باقی پاکستان کا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا اور کس کا مفاد زیادہ ہے۔کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکرٹری ظفر پراچہ نے ’’انڈپینڈنٹ اردو‘‘ کو بتایا کہ ’پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کا مسئلہ چینی قرض ہیں، صرف چینی پاور کمپنیوں کا بل تقریبا 500 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اگر سی پیک منصوبے پرانی شرائط پر چلتے رہے تو پاکستان کبھی بھی اس مکڑی کے جال سے نہیں نکل پائے گا۔ موجودہ شرائط پر سی پیک کا مکمل ہونا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔سیالکوٹ چمبر آف کامرس کے سابق صدر میاں نعیم جاوید کے مطابق ’بن قاسم سپیشل اکنامک زون کو استعمال کرنے کی بجائے نئے زون بنائے گئے جس کی دلیل یہ تھی کہ چین پاکستان میں انڈسٹری لگائے گا، چین میں مزدوری مہنگی ہے، پاکستان بہترین متبادل ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہوسکا بلکہ قرض 28 بلین ڈالرز سے بھی زیادہ بڑھ گیا جو عوام نے ادا کرنا ہے۔سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سی پیک اکنامک کے ساتھ ڈپلومیٹک ایشو بھی ہے، وزیراعظم چائنا جا رہے ہیں اس کے بعد ہی اندازہ ہو سکے گا کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’پاکستان رواں سال 300 ملین ڈالرز کے پانڈا بانڈز چینی مارکیٹ میں جاری کرے گا۔ چینی سرمایہ کار پانڈا بانڈز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور پاکستان کی فنڈنگ کےذرائع وسیع ہو سکتے ہیں۔’ایک طرف بانڈز جاری کرنے کی بات کی جا رہی ہے اور دوسری طرف پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان چینی آئی پی پیز کے 493 ارب ادا کرنے کے لیے مزید بجٹ مختص نہیں کرے گا، اس وقت چین سی پیک میں مزید سرمایہ کاری میں محتاط ہو گیا ہے اور اگلے مہینوں میں چین سے تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

Back to top button