کیا واقعی کامران خان ٹیسوری کی کرسی خطرے میں ہے؟

سینیٹ انتخابات کے بعد اب سندھ میں گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے باز گشت میں اپنے عروج پر ہےاور اطلاعات ہیں کہ کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ کے منصب سے ہٹانے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ چند روز میں حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ کامران ٹیسوری کی جگہ متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت نے ایم کیو ایم کی رہنما خوش بخت شجاعت کو گورنر سندھ بنانے کیلئے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

سینیٹ انتخابات کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں گورنر سندھ کو تبدیل کرلیا جائے گا۔اس سے قبل جب بھی اس حوالے سے ایم کیو ایم رہنماؤں سے پوچھا گیا تو ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا لیکن ایک بار پھر یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ کامران ٹیسوری کی جگہ خوش بخت شجاعت اگلی گورنر سندھ ہوں گی۔

ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ مقتدر حلقوں میں اس حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ خوش بخت شجاعت جن کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے کو گورنر سندھ بنایا جائے جبکہ خود ایم کیو ایم ایم کچھ عرصہ پہلے تک اس فیصلے سے اختلاف کرتی نظر آرہی تھی۔

ایم کیو ایم کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق کامران خان ٹیسوری کو گورنر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے اطلاعات گزشتہ دنوں سے گردش کر رہی ہیں اور ان کی جگہ خوش بخت شجاعت کا نام زبان زدِ عام ہے۔ تاہم ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان خواجہ اظہار الحسن اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ رابطہ کمیٹی نے خوش بخت شجاعت کا نام تجویز کیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ خوش بخت شجاعت نے پارٹی کے لیے ایسی کوئی گراں قدر خدمات انجام نہیں دی ہیں جس کی وجہ سے ان کا نام گورنر کے عہدے کے لیے تجویز کیا جائے دراصل خوش بخت شجاعت کا نام آصف علی زرداری نے تجویز کیا تھا اور یہ انہوں نے اس وقت تجویز کیا تھا جب وہ صدر مملکت نہیں بنے تھے۔آصف علی زرداری کی جانب سے خوش بخت شجاعت کا نام تجویز کیا جانا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ یہ نام کہیں اور سے آیا ہے اور یہ تاثر بن چکا ہے کہ یہ نام انہی حلقوں سے آیا ہے جن سے کامران خان ٹیسوری کا نام آیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جو پاور شیئرنگ کا فارمولا طے پایا تھا اس کے مطابق پنجاب اور سندھ میں نون لیگ اپنی مرضی کا گورنر لگائے گی جبکہ کے پی اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی مرضی کے گورنر لگائے جائیں گے، اس فارمولے کی رو سے سندھ میں نون لیگ کی پسند کا گورنر لگایا جائے گا، نون لیگ چاہتی ہے کہ کوئی ایسا گورنر لگایا جائے جو اردو اسپیکنگ ہو، نون لیگ کے قریب ہو اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو قابل قبول بھی ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں صوبے کی گورنر شپ کی تبدیلی پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، جس میں کاروباری حضرات کے ناموں کو اہمیت دی جارہی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سابق وزیر مملکت اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد اظفر احسن کا نام  بھی گورنر سندھ کے عہدے کیلئے لیا جا رہا ہے،احسن اظفر نون لیگ کے قریب بھی سمجھے جاتے ہیں، البتہ نون لیگ کی ایک اور اتحادی ایم کیو ایم پاکستان کا اصرار ہے کہ کامران خان ٹیسوری کو گورنر کے عہدے پر رہنے دیا جائے کیونکہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب  گورنر کی دوڑ میں ایم کیو ایم کی سابق رکن قومی اسمبلی خوش بخت شجاعت، اشتیاق بیگ،ڈاکٹر عاصم حسین، محمد زبیر کے نام بھی شامل ہیں، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر کی تبدیلی کے بارے میں ایم کیو ایم کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

دوسری جانب بعض دیگر مبصرین کے مطابق کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تقرریاگرچہ متحدہ کے کھاتے میں ہی ہوئی تھی۔ لیکن سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ہر شخص کو معلوم ہے کہ کامران ٹیسوری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کی چوائس تھے اس لئے گورنر سندھ کی تبدیلی کی بازگشت کے باوجود کامران ٹیسوری مطمئن ہیں اور وہ مفت آئی ٹی کورسز پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور اب تک وہ 50 ہزار بچوں کے ٹیسٹ بھی گورنر ہاؤس میں لے چکے ہیں جس کے بعد انہوں نے مفت کلاسیں شروع کر دی ہیں، اسی ہفتے انہوں نے مفت کورسز میرپور خاص، نواب شاہ، سکھر اور صوبے کے دیگر شہروں میں بھی کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس اعلان سے اشارہ ملتا ہے کہ بے اختیار گورنر اگر آئی ٹی کی مفت کلاسیں گورنر ہاؤس کی سرپرستی میں دیگر شہروں میں بھی کرانے کا اعلان کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں یہ یقین دہانی کرا دی گئی ہے کہ وہی گورنر رہیں گے۔

Back to top button