کیا واقعی تمام پاکستانیوں کے موبائل فونNCCIAکے ریڈار پر ہیں؟

پاکستان میں این سی سی آئی اے یعنی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائبر جرائم کی نشاندہی اور بچوں کے آن لائن جنسی استحصال میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیوں کے بعد عوامی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا حکومت لوگوں کے موبائل فون بھی سکین کر رہی ہے؟ این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف میر نے واضح کیا ہے کہ ایجنسی تمام شہریوں کے موبائل فونز کی نگرانی نہیں کر رہی اور نہ ہی ہر صارف کی تصاویر، ویڈیوز اور ذاتی پیغامات کی مسلسل جانچ اس نظام کا مقصد ہے۔ ان کے مطابق خودکار نظام کا بنیادی ہدف بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی شناخت اور اسے پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔عاطف میر کے مطابق این سی سی آئی اے اس مقصد کے لیے Katalyst اور PhotoDNA سمیت جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق مواد کی نشاندہی اور تحقیقات کو مؤثر بنانے کے لیے این سی سی آئی اے نے رواں سال جنوری میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی نظام Katalyst متعارف کرایا تھا۔ یہ نظام وزارت داخلہ و انسداد منشیات اور برطانیہ پاکستان سیریس کرائم اینڈ لا انفورسمنٹ پروگرام کے اشتراک سے تیار کیا گیا، جسے برطانوی ہائی کمیشن کی مالی معاونت حاصل ہے۔

اس نظام کا مقصد بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق موصول ہونے والی رپورٹس اور ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کرکے تحقیقات میں مدد فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس سے امریکی نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن سے موصول ہونے والی رپورٹس پر کارروائی کی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔ ابتدائی طور پر ایجنسی نے اپنی ماہانہ استعداد تقریباً 1200 رپورٹس سے بڑھا کر ایک لاکھ سے زیادہ رپورٹس تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔

این سی سی آئی اے کے مطابق Katalyst کے ساتھ PhotoDNA ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ مائیکروسافٹ کی وضاحت کے مطابق PhotoDNA پہلے سے شناخت شدہ بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق تصاویر کے ڈیجیٹل فنگر پرنٹس، جنہیں ہیش کہا جاتا ہے، تیار کرتی ہے۔ پھر ان فنگر پرنٹس کا موازنہ مشتبہ تصاویر کے ڈیجیٹل فنگر پرنٹس سے کیا جاتا ہے تاکہ پہلے سے شناخت شدہ غیر قانونی مواد کی نقلوں کی نشاندہی کی جا سکے۔اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد بچوں کے استحصال سے متعلق پہلے سے شناخت شدہ تصاویر کی دوبارہ تشہیر اور پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دینا ہے۔ تاہم حکام نے اس نظام کے مکمل تکنیکی طریقۂ کار اور حالیہ کارروائیوں میں اس کے استعمال کی تفصیلات عوامی سطح پر فراہم نہیں کیں۔

این سی سی آئی اے حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران خودکار نظام کے ذریعے این سی سی آئی اے کو تقریباً 10 لاکھ الرٹس یا لنکس موصول ہوئے، جن کا جائزہ لیا گیا اور ان کی بنیاد پر کارروائیاں بھی کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی کا مقصد صرف غیر قانونی مواد کی نشاندہی نہیں بلکہ بچوں کو بلیک میل کرنے اور ان کا استحصال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے۔ انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ایسے مواد کی نشاندہی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔کیا عام شہریوں کے موبائل فون بھی سکین ہوتے ہیں؟اس سوال کے جواب میں عاطف میر نے واضح کیا کہ این سی سی آئی اے تمام شہریوں کے موبائل فون اسکین نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق ایجنسی کا موجودہ نظام مخصوص نوعیت کے جرائم، بالخصوص بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مواد کو استعمال کرنے یا آگے پھیلانے والے افراد خودکار نظام کی نشاندہی میں آ سکتے ہیں۔

حکام کی وضاحت کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شہری کے موبائل فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز، پیغامات اور ذاتی گفتگو کی مسلسل جانچ کی جا رہی ہے۔ عاطف میر نے بتایا کہ فی الحال توجہ ان افراد پر ہے جو بچوں کے استحصال سے متعلق مواد تیار کرنے، استعمال کرنے یا پھیلانے میں ملوث ہیں، جبکہ مستقبل میں اس خودکار نظام کا دائرہ کار بڑھایا جا سکتا ہے۔

Back to top button