کیاالیکشن ریفارمز پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آ پائیں گے؟

پاکستان میں انتخابی نظام کی شفافیت، ساکھ اور غیر جانب داری ہمیشہ سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کا اہم ترین موضوع رہی ہے۔ انتخابات کے نتائج پر اعتراضات، دھاندلی کے الزامات، انتخابی قوانین اور اداروں کے کردار پر تحفظات نے ملک میں جمہوری عمل کو بارہا متنازع بنایا ہے۔ ایسے میں مشترکہ الیکشن ریفارمز کمیٹی کے قیام کے فیصلے کو حکومت اور اپوزیشن کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے اور انتخابی اصلاحات کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل 30 رکنی مشترکہ الیکشن ریفارمز کمیٹی کے قیام کی تحریک منظور کرا لی ہے، تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا حکومت اور اپوزیشن اپنے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ایسا انتخابی نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو پاتی ہیں جس پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا اعتماد ہو۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق مشترکہ الیکشن ریفارمز کمیٹی کے قیام کی تحریک قومی اسمبلی سے منظور ہو چکی ہے اور اب حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ارکان کے نام نامزد کیے جائیں گے۔ نامزدگیوں کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کمیٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے، جس کے نتیجے میں یہ کمیٹی عملی طور پر اپنا کام شروع کر سکے گی۔
خیال رہے کہ مجوزہ کمیٹی مجموعی طور پر 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں قومی اسمبلی کے 20 اور سینیٹ کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی سطح پر حکومت کو 15 جبکہ اپوزیشن کو 5 ارکان نامزد کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اپوزیشن کی نامزدگیاں قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے سامنے آئیں گی، جبکہ حکومت اپنے ارکان کے نام متعلقہ پارلیمانی قیادت کے ذریعے پیش کرے گی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی اور نشستوں کی تقسیم کا تعین بھی پارلیمانی تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ کمیٹی کے قیام کی تحریک کی منظوری اور ارکان کی حتمی نامزدگی 2 الگ مراحل ہیں۔ اس لیے فی الحال کمیٹی کے قیام کا بنیادی پارلیمانی مرحلہ مکمل ہوا ہے، لیکن اس کی عملی تشکیل کے لیے ناموں کی فراہمی اور باضابطہ نوٹیفکیشن کا اجرا ضروری ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ انتخابی اصلاحات جیسے اہم قومی معاملے پر اپوزیشن کو مشاورت سے باہر نہیں رکھا جانا چاہیے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پارلیمان میں اکثریتی جماعت کو قانون سازی کے حوالے سے فیصلہ سازی میں برتری حاصل ہوتی ہے، لیکن جمہوری عمل کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن کی رائے، تجاویز اور قابلِ عمل سفارشات کو بھی اہمیت دی جائے۔ ان کے بقول قومی اہمیت کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے اور ماضی میں بھی اہم آئینی ترامیم سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے منظور ہوتی رہی ہیں۔
حکومت کی جانب سے اس کمیٹی کو محض ایک رسمی پارلیمانی کارروائی کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں صرف ارکان کی تعداد یا ووٹنگ کی بنیاد پر فیصلوں کو اہمیت نہیں دی جائے گی بلکہ مختلف جماعتوں کی آرا اور تجاویز بھی زیر غور آئیں گی۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن انتخابی نظام میں بہتری کے لیے قابلِ عمل سفارشات پیش کرتی ہے تو ان تجاویز کو سامنے آنا چاہیے اور عوام کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کس جماعت نے کیا سفارش پیش کی اور حکومت نے اس پر کیا مؤقف اختیار کیا۔
تاہم اس پوری پیش رفت کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور اپوزیشن واقعی انتخابی اصلاحات کے معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے اور کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہونے کے لیے تیار ہیں؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ انتخابی اصلاحات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا محض قانونی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سیاسی اعتماد، اقتدار کی کشمکش اور انتخابی عمل پر جماعتوں کے تحفظات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خصوصاً جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے انتخابی مینڈیٹ اور انتخابی نتائج پر سوالات اٹھاتی رہی ہوں تو ایسے ماحول میں مشترکہ اصلاحات کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں انتخابی اصلاحات کی کامیابی کا اصل پیمانہ کمیٹی کے قیام یا اس میں ارکان کی تعداد نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات اور ان پر سیاسی جماعتوں کا اعتماد ہوگا۔ اگر کمیٹی انتخابی قوانین، انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹرز کے اعتماد، انتخابی تنازعات کے حل اور انتخابی اداروں کی غیر جانب داری جیسے بنیادی معاملات پر قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کمیٹی بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، الزام تراشی اور جماعتی مفادات کی نذر ہو گئی تو اس کا قیام ایک رسمی کارروائی سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں کر سکے گا۔
اس تناظر میں اپوزیشن کی شرکت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ محض 5 ارکان کی نامزدگی کافی نہیں ہوگی بلکہ ضروری ہے کہ اپوزیشن کو اپنی تجاویز پیش کرنے، ان پر بحث کرنے اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا حقیقی موقع دیا جائے۔ اسی طرح حکومت کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ انتخابی اصلاحات کو اپنی سیاسی اکثریت کے ذریعے من پسند قانون سازی کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک قومی معاملہ سمجھتی ہے۔
پاکستان میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ جمہوریت کا استحکام صرف انتخابات کے انعقاد سے ممکن نہیں بلکہ انتخابی نتائج پر عوام اور سیاسی جماعتوں کا اعتماد بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا انتخابی نظام ہی جمہوری اداروں کو مضبوط بنا سکتا ہے جس کے قواعد سب کے لیے یکساں ہوں، انتخابی عمل شفاف ہو اور سیاسی جماعتوں کو شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر قانونی راستے میسر ہوں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ 30 رکنی مشترکہ کمیٹی سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا یہ بھی ماضی کی متعدد پارلیمانی کوششوں کی طرح سیاسی اختلافات کی نذر ہو جاتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ انتخابی اصلاحات کو اقتدار کی سیاست سے الگ کرکے قومی ضرورت کے طور پر دیکھیں، کیونکہ انتخابی نظام پر اعتماد کے بغیر جمہوریت کی مضبوطی کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔ اصل سوال کمیٹی کے قیام کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ کیا سیاسی قیادت اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر ایک ایسے انتخابی نظام پر متفق ہو سکتی ہے جسے تمام جماعتیں قبول کرنے کے لیے تیار ہوں؟
