ریاست بہاولپور کی اربوں مالیت کی شاہی شکار گاہ کا اصل مالک کون؟

سابق ریاست بہاولپور کی 3 لاکھ 12 ہزار 440 ایکڑ پر مشتمل شاہی شکارگاہ کی ملکیت کا تنازع ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 555 ارب روپے مالیت کی اس وسیع اراضی پر پنجاب حکومت کا حق ہے یا سابق امیر بہاولپور کے 23 قانونی ورثا اور بعد کے خریدار اس کے حق دار ہیں؟ کئی دہائیوں سے جاری اس تنازعے کا ایک اہم موڑ 2003 میں سامنے آیا، جب ایک سرکاری حکم نامے میں ہاتھ سے لفظ ’’تمام‘‘ شامل کیے جانے نے زمین کی تقسیم اور ملکیت کے دعوؤں کو نئی قانونی جہت دے دی۔ سرکاری ریکارڈ میں اراضی حکومت کی جانب سے واپس لی گئی زمین کے طور پر درج ہے، لیکن مختلف افراد اور گروہوں کے نام انتقالات اور قبضے کے دعوے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ نیب کی تحقیقات، متضاد سرکاری مؤقف اور عدالتی کارروائیوں کے باعث اب بنیادی سوال یہ ہے کہ اس قیمتی اراضی کا قانونی مالک کون ہے اور اس کی تقسیم و منتقلی کا عمل کس حد تک قانونی تھا؟
اس تنازعے کی بنیاد 1947 میں ریاست بہاولپور کے پاکستان سے الحاق اور 1954 میں مغربی پاکستان میں انضمام کے بعد ہونے والے انتظامی فیصلوں میں ملتی ہے۔ 8 مئی 1955 کو سابق امیر کی ذاتی جائیدادوں کی فہرست میں شاہی شکارگاہ بھی شامل کی گئی تھی، جس میں قلعہ دراوڑ کے اطراف اور وہاں تک جانے والی سڑک کے دونوں جانب وسیع رقبہ شامل تھا۔ امیر بہاولپور کا انتقال 24 مئی 1966 کو ہوا، جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں اراضی واپس لینے کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کیا تھا۔
21 نومبر 1967 کو لینڈ کمیشن نے ان کے جانشین کو الگ لیز یا انتظامی بندوبست کے تحت 20 ہزار ایکڑ اراضی شکارگاہ کے طور پر رکھنے کی اجازت دی، تاہم یہ اجازت بھی حکومت کی جانب سے زمین واپس لینے کی شرط سے مشروط تھی۔ باقی اراضی واپس لینے اور معاوضے کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت 6 مئی 1968 کو ڈپٹی لینڈ کمشنر نے باقی زمین کی واپسی کا حکم جاری کیا۔
سابق نواب خاندان کے پوتے صاحبزادہ گزین عباسی اس حکومتی مؤقف کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین کی واپسی سے متعلق سرکاری خط و کتابت کو باقاعدہ اور قانونی حکم نامہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق شکارگاہ کی اراضی غیر بندوبست شدہ اور غیر سروے شدہ تھی اور لینڈ ریفارمز کے تحت اسے صفر یونٹس تفویض کیے گئے تھے۔ انہوں نے 1968 کے حکم کی قانونی بنیاد، پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار اور خاندان کا مؤقف سنے بغیر نیب کی تحقیقات پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔
تنازع نے 2003 میں نیا رخ اختیار کیا، جب سابق نواب خاندان کی جائیدادوں کی تقسیم کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ اس دوران ایک سرکاری حکم نامے میں ہاتھ سے لفظ ’’تمام‘‘ شامل کیا گیا، جس کی بنیاد پر یہ تشریح سامنے آئی کہ شاہی شکارگاہ بھی سابق امیر کے 23 قانونی ورثا میں تقسیم ہونی چاہیے۔ اس کے بعد چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ورثا اور بعد کے خریداروں کے نام 95 انتقالات درج کیے۔ تاہم سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کی ہدایت پر ان متنازع انتقالات کی منسوخی کا عمل شروع ہوا اور اتھارٹی نے بالآخر ان پر عمل درآمد کر دیا۔ اس کے باوجود بعض قابضین اور دعوے دار عدالتوں میں اپنے مؤقف کی حمایت کے لیے پرانے ریکارڈ پیش کرتے ہیں۔
شاہی شکارگاہ کی زمینی صورت حال بھی اس تنازعے کی پیچیدگی ظاہر کرتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں مختلف افراد اور گروہوں کے نام تقریباً 100 سے 5 ہزار 650 ایکڑ تک اراضی درج ہے۔ ان میں سیاست دان، وکلا، ریٹائرڈ فوجی افسران اور بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔ مقامی ذرائع نے بعض بااثر افراد پر فرنٹ مینوں کے ذریعے زمین پر قبضہ رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم دستیاب سرکاری ریکارڈ سے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ محض کسی شخص کے نام اراضی کا اندراج ہونا نہ تو قانونی ملکیت کا حتمی ثبوت ہے اور نہ ہی غیر قانونی قبضے کو ثابت کرتا ہے۔
رپورٹ میں درج ریکارڈ کے مطابق عظمت اللہ خان نیازی کے نام 4 ہزار 800 ایکڑ، ملک مجید حسین اور ملک ظہیر حسین بھٹی کے نام 5 ہزار 650 ایکڑ، جنرل (ر) عدنان حیدر کے نام 2 ہزار 800 ایکڑ، عباس مندوخیل اور ناصر ایس بی کے کے نام 2 ہزار ایکڑ، جبکہ راجہ عامر حسین اور راجہ مظہر کے نام 1 ہزار 725 ایکڑ اراضی درج ہے۔ چوہدری بشارت آرائیں کے نام مختلف اندراجات میں مجموعی طور پر 2 ہزار 850 ایکڑ، محمد الیاس اور اعجاز مہدی کے نام 1 ہزار 675 ایکڑ، کرنل خبیب احمد کے نام 1 ہزار 500 ایکڑ اور رکن قومی اسمبلی سید سمیع الحق گیلانی اور ان کے خاندان کے نام 1 ہزار 250 ایکڑ اراضی درج ہونے کا ذکر ہے۔ اسی طرح سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری کے والد سید واجد حسین شاہ بخاری کے نام 1 ہزار 200 ایکڑ، میاں طارق وحید رمدے کے نام 800 ایکڑ، بریگیڈیئر عبداللہ رانجھا کے نام 500 ایکڑ اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کے والد مرحوم ملک اقبال احمد چنڑ کے نام 200 ایکڑ اراضی درج ہے۔ یہ تفصیلات ریکارڈ میں موجود اندراجات کی عکاسی کرتی ہیں، انہیں حتمی قانونی ملکیت کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس اراضی کی مالیت 555 ارب روپے مقرر کی ہے اور اسے بنجر، قابلِ کاشت، ناقابلِ کاشت اور سڑکوں و دیگر مقامات کے قریب واقع زمین سمیت 4 اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ مقامی سطح پر زمین کی قدر کا اندازہ لگانے والے بعض ماہرین اس کی موجودہ مالیت 600 ارب روپے سے زیادہ بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق تنازع حل ہونے اور قانونی حیثیت واضح ہونے کے بعد اس کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک اس اراضی کی قیمت کے تعین کے لیے ڈپٹی کمشنر کی مقرر کردہ شرح یا ایف بی آر کی قدر بندی استعمال نہیں کی گئی۔
قومی احتساب بیورو نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ جولائی 2025 میں تحقیقات کی منظوری دی گئی، جبکہ اسی سال ستمبر میں اسے باقاعدہ انویسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا گیا۔ نیب تاریخی سرکاری ریکارڈ، لینڈ ریفارمز کے فیصلوں، 2003 کی کمیٹی کی کارروائیوں اور عدالتی دستاویزات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ پنجاب حکومت کے ساتھ اراضی کی واپسی اور اصلاحی اقدامات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس تنازعے کا فیصلہ محض قبضے، انتقالات یا سرکاری اندراجات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصل قانونی دستاویزات، 1967 اور 1968 کے احکامات، 2003 کے حکم نامے میں لفظ ’’تمام‘‘ کے اضافے اور بعد کی عدالتی کارروائیوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ جب تک عدالت یا متعلقہ قانونی فورم ملکیت اور انتقالات کی حیثیت کا حتمی تعین نہیں کرتا، 555 ارب روپے مالیت کی اس اراضی کے اصل حق دار کا سوال برقرار رہے گا۔
