نونی سیاست شروع؟

تحریر:سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘کے مصداق بالآخر نون نے سیاست شروع کردی ہے ۔غیر سیاسی شہباز شریف نے سیاسی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے،خیبر پختونخوا مسلم لیگ ن کا اجلاس بلایا جانا وہ پہلا پارٹی اجلاس ہے جو وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر اعلان کرکے بلایا ہے وگرنہ وزیر اعظم نے تو اپنی جماعت کے نام اور تنظیم دونوں ہی کو بھلا دیا تھا۔اسی پراکتفا نہیں وزیر اعظم نے گزشتہ چند دنوں میں اپنےقائم کردہ دانش اسکولوں اور دانش یونیورسٹی کو دوبارہ سے زندہ کرکےاسے رائے عامہ کے سامنےمشتہر کیا ہے۔ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ نوجوان طلبہ وطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرکے الیکشن2013ء میں یوتھ کے ووٹ تقسیم کردئیے تھے اور نون نے وفاق اور پنجاب میںبآسانی حکومت بنالی تھی، اپنی اسی پرانی روایت اور تجربے کو دہراتے ہوئے انہوں نے یونیورسٹیوں اور مدارس کے طلبہ وطالبات میں کروم بک بانٹنی شروع کردی ہے ۔حمزہ شہباز شریف کی وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں مسلسل موجودگی اور پھر باری باری ساری وفاقی وزارتوں کے بارے میں بریفنگ بھی نونی سیاست کی ایک اہم پیش رفت ہے۔حالیہ چند ہفتوں کے معاملات کو دیکھیں تو صاف لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے طویل غیر سیاسی گورننس کے بعد مسلسل ایسے سیاسی اقدامات کیے ہیں جنہیں نونی سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا کہا جاسکتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے سیاست نہ کرنے، سیاسی بیانیہ نہ بنانے اور معیشت میں انقلابی تبدیلی نہ لانے کے حوالے سےتنقید بڑھ رہی تھی، جون میں جو بجٹ پیش کیا گیا وہ وزیر اعظم کا مسلسل پانچواں بجٹ تھا ۔لیکن بجا طور پرکہا گیا کہ حکومت کا دورِ عروج گزر گیا اب زوال شروع ہے، اس تجزیے پر بہت لے دے ہوئی مگر جولائی ہی میں نظام کی ناکامی کا اعلان ہوگیا سیاست پھر بھی خاموش رہی مگر اوپر نیچے اس قدر جھٹکے لگے کہ وفاقی حکومت کو بالآخرسیاست اور سیاسی بیانیے پر بھرپور توجہ دینی پڑی ۔ وفاقی حکومت کے بچاؤ اور کامیابی کا واحد راستہ سیاسی بیانیہ اور معاشی خوشحالی ہے۔ خلیجی جنگوں نے فی الحال معاشی خوشحالی کے امکانات مسدود کررکھے ہیں مگر سیاست کا راستہ تو کھلا ہے، سیاسی بیانیہ بنانے سے کس نے روکا ہے؟ اہل صحافت سے مکالمے کے دروازے کیوں بند ہیں؟ پریس کانفرنسز، جلسوں اور انٹرویو ز کا سلسلہ جاری کیوں نہیں ہوا؟نہ کسی سے ملتے ہیں نہ کسی کو اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہیں اور نہ ہی ذہنوں میں پیدا ہونیوالے سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ چپ، قطع تعلقی،بیگانگی اور اقتدار سے وارفتگی نے نہ ماضی میں کسی حکمران کو فائدہ دیا ہے نہ اس سے موجودہ حکومت کو فائدہ ہوگا ۔ابلاغ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے آپ کو ہم نوائی ملتی ہے سوائے رانا ثناءاللہ اور عطاء اللہ تارڑ کے کوئی ابلاغ کی سرے سے کوشش ہی نہیں کرتا۔
یہ کہنے میں نہ کوئی باک ہے اورنہ اعتراف کرنے میں کوئی شرم کہ نونی قیادت سے ماضی میں جب بھی بات ہوتی تھی تو وہ کہتے تھے ابھی سیاست کی گنجائش نہیں جب ایسا وقت آئے گا تو ہم بھرپور سیاست کریں گے۔ گویا نونی قیادت درست ہی کہتی تھی اب سانس بحال ہوا ہے تو تبھی سیاست شروع ہو سکی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیاست کوئی خطرہ محسوس کرکے شروع کی جارہی ہے یا میدان بالکل کھلا مل گیا ہے چنانچہ سیاست شروع کردی گئی ہے۔تجربہ یہی کہتا ہے کہ موجودہ حالات میں دونوں سوالات کی ملی جلی صورتحال ہے نئے نظام کی آمد آمد ہے ،نئے چہروں اور نئی سیاست کی پیش گوئیوں پر خطرے کی گھنٹی بجنا تو لازم ہے۔پنجاب اور وفاق دونوں پر یہ دباؤ تو موجود ہے مگر اس وقت نون کیلئےسب سے زیادہ موزوں سیاسی لمحات ہیں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے تحریک انصاف پندرہ بیس سال سسٹم کا حصہ رہنے کے بعد باہر نکال دی گئی ہے ،حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی طاقتور حلقوں کے تعلقات اونچ نیچ کا شکار رہتے ہیں ایسے میں شہبا ز شریف اہم حلقوں کی آنکھ کا تارہ بنے ہوئے ہیں اور انکے لئے سیاسی میدان نہ صرف کھلا ہے بلکہ گراؤنڈ میں کوئی مخالف ٹیم بھی نہیں ہے ڈر صرف ’’گستاخ‘‘ تماشائیوں کا رہ گیا ہے کہ کہیں وہ میدان میں پتھر نہ ماردیں ۔بظاہر نونی سیاست کے آغاز کا یہ وقت موزوں ہے سوال یہی ہے کہ حالات نے گستاخ تماشائیوں کی تعداد کو کم کرنے کی بجائے نہ صرف بڑھا دیا ہے بلکہ ان کی انصافی ٹیم کی مسلسل ناکامیوں اور بالآخر گراؤنڈ سے باہر نکالے جانے پر انکی مایوسیاں بڑھی ہیں اور جذبات مزید بھڑکے ہیں۔ نون کو اپنی سیاسی گاڑی چلانی ہے تو سیاسی ٹمپریچر کو نیچے لانا ہوگا پتھروں کی سڑک پر گاڑی چلانا ازحد مشکل ہوتا ہے، راستے کو تھوڑا بہت ہی سیدھا کرلیں تو گاڑی چلتی رہے گی اور کچھ نہ کچھ فاصلہ ضرور طے کرلے گی۔
اگلے دوماہ اس لئے اہم ہیں کہ ان میں آئینی امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ نئے صوبے ، بلدیاتی نظام اور مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کا خاکہ انہی آئینی امور سے جڑا ہوا ہے ۔ویسےتو سیاست میں کوئی ٹائم ٹیبل یا ڈیڈ لائن حتمی نہیں ہوتی حالات، تاریخیں اور نتائج دونوں بدل دیتے ہیں لیکن بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ مارچ سے پہلے آئینی امور کا ایجنڈا نئی شکل اختیار کرلے گا۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پانچ ماہ آگے کا جو سفر ہے کیا اس میں پیپلز پارٹی آئینی امور پرنون کا ساتھ دے گی یا کوئی اور راستہ اختیار کرے گی۔ بظاہر نون نئے صوبوں کے بارے میں کسی مزاحمت کا ارادہ نہیں رکھتی لیکن پنجاب کے اندر نئے صوبے بننے اور نونی اقتدار واختیار کم ہونے پر انکے دلی تحفظات بہرحال موجود ہیں مگر فی الحال نونی سیاسی حکمت عملی یہ ہے کہ طوفان اور آندھی کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا بہادری نہیں بے وقوفی ہے ،جب تک آندھی اور طوفان کا زور رہے آپ نیچے بیٹھ کر یا لیٹ کر طوفان کو گزر جانے دیں اور پھر آہستہ آہستہ اُٹھ کھڑے ہوں موسم صاف ہوجائے گا تو آپ اکڑ کرچل سکیں گے ۔آندھی اور طوفان کے موسم میں پھیل کرچلنے کی آزادی نہیں ہوتی سیاست کبھی سکڑنے اور کبھی پھیلنے کا دوسرا نام ہے۔
نون لیگ نے خیبر پختونخوا پارٹی کا اجلاس بلایا ہے جسکا مقصد ظاہر ہے پارٹی کو متحرک کرنا ہوگا مگر نون کا سب سے بڑا اسٹیک پنجاب میں ہے جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اپنی کرشماتی شخصیت کے ساتھ ہرروز کسی نہ کسی نئے ترقیاتی پروگرام یا منصوبے کا اعلان کرتی ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ ان کے کاموں سے ان کا صرف ذاتی قد وقامت بلند ہوا ہے یا اس سے نون کا ووٹ بینک بھی بڑھا ہے؟ نون کا اسوقت سب سے بڑا مسئلہ اعلیٰ قیادت اور ووٹر کے درمیان خلا کا ہے ،تنظیم کمزور ہونا بھی اسکی وجہ ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ گورننس کو مکمل طور پر غیر سیاسی رکھنے کے باعث ورکرز اور مڈل آرڈر لیڈرشپ پنجاب کے ترقیاتی کاموں اور اصلاحات کی سیاسی اونر شپ یا سیاسی ولدیت نہیں لے رہے ہیں ،یہی وہ خلا ہے جس سے ذاتی مقام تو ملتا ہے ووٹرز نہیں ملتے۔اب جبکہ نون نے بالآخر سیاست شروع کردی ہےتو ضروری ہے کہ ورکرز اور اراکین اسمبلی کو سیاسی اونر شپ بھی دی جائے۔
