مولانا کی دھلائی کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ کیوں؟

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرنے سے سیاسی مفاہمت کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی اور حکومتی کارکردگی پر مولانا کی تنقید کے بعد حکومتی وزرا کی جانب سے جوابی بیانات سامنے آنے لگے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی تنقید نے اس سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت اور جے یو آئی کے درمیان بڑھتے فاصلے نہ صرف قانون سازی بلکہ قومی اسمبلی میں سیاسی مفاہمت اور مجوزہ نئے میثاقِ جمہوریت کی پیش رفت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھانے کے بعد حکومت نے ابتدا میں دفاعی رویہ اختیار کیا، تاہم اب حکومتی وزرا کی کھلی تنقید سے سیاسی ماحول میں تلخی بڑھ رہی ہے۔ قومی اسمبلی میں مولانا نے تہران میں ہونے والی چار ملکی کانفرنس کے تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال کیا تھا کہ جب وہاں دفاعی معاہدوں پر بات ہو رہی تھی تو وزیر دفاع اسمبلی میں کیوں موجود تھے؟ خواجہ آصف نے اس وقت خاموشی اختیار کی، لیکن اگلے روز انہوں نے مولانا کے سیاسی کردار پر تنقید کی، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہو گئے۔
مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان ماضی میں مختلف حکومتوں کے ساتھ سیاسی معاملات میں شریک رہے ہیں۔ ناقدین ان کی کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور حکومتی ادوار میں شمولیت کو سیاسی مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے دوران تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے میں جے یو آئی کے کردار کے باوجود عام انتخابات میں خاطرخواہ کامیابی نہ ملنا اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اقتدار میں شریک نہ کرنا بھی دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھنے کی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ بھی اس کشیدگی کی اہم وجہ بن گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے اس اقدام کو روکنے کے لیے مصالحتی کردار ادا کیا، لیکن حکومت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مولانا کی ناراضی کی ایک وجہ صوبے کے اقتدار میں جے یو آئی کو شریک نہ کرنا بھی ہے۔ یوں اختلافات کا دائرہ گورنر راج سے آگے بڑھ کر دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی، شہدا کی تکریم اور حکومتی کارکردگی تک پھیل گیا ہے۔
اسی دوران سینیٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار پر سخت تنقید کی۔ ان بیانات سے حکومت اور جے یو آئی کے درمیان جاری اختلافات میں مزید شدت کے اشارے مل رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو قومی اسمبلی میں قانون سازی کے لیے حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز بھی پیش کی تھی، تاہم حالیہ تلخ بیانات کے بعد اس تجویز پر پیش رفت مشکل دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب جے یو آئی اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی قربت بڑھنے کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جے یو آئی کھل کر اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہو گئی تو حکومت کے لیے پارلیمانی معاملات چلانا، قانون سازی کے لیے حمایت حاصل کرنا اور سیاسی مفاہمت برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
