گورنرراج پرتنقید:اینکراقرارالحسن بھی شکنجے میں

معروف ٹیلی ویژن اینکر اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو نقاب پوشوں کی جانب سے گھر میں گھس کر زبردستی ساتھ لے جانے کا معاملہ پراسراریت اختیار کر گیا ہے، وجہ یہ ہے کہ نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی نے انہیں گرفتار کرنے کی تردید کر دی ہے، جبکہ کسی دوسرے حکومتی یا ریاستی ادارے نے بھی انہیں اپنی تحویل میں لینے کی تصدیق نہیں کی۔
اقرار الحسن کو 11 اکتوبر کی رات لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ان کی رہائش گاہ سے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد خود کو پولیس اہلکار بتلا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اب انکے اہل خانہ بشمول ان کی تینوں بیویاں اقرار کی تلاش میں مختلف اداروں کے دفاتر اور عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کون اپنے ساتھ لے کر گیا، وہ اس وقت کہاں ہیں اور ان کے خلاف کوئی کیس درج کیا گیا ہے یا نہیں۔
اقرار الحسن کے اہل خانہ کے مطابق یہ واقعہ 11 اکتوبر کی رات تقریباً تین بجے پیش آیا، جب سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں ان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ ان کی دوسری اہلیہ فرح اقرار کے مطابق ان افراد نے دروازہ کھلوایا اور بعدازاں گھر میں داخل ہو کر اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ فرح اقرار کا دعویٰ ہے کہ ان افراد کے ساتھ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جن کے لباس پر این سی سی آئی اے کے نام کے بیجز دکھائی دے رہے تھے۔
فرح اقرار کے مطابق نقاب پوش چھاپے کے دوران ان کے گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ساتھ لے گئے، تاہم یہ معاملہ تب ذیادہ پراسرار ہو گیا جب این سی سی آئی اے نے اقرار الحسن اپنی تحویل میں ہونے کی تردید کر دی۔ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقرار الحسن ان کی حراست میں نہیں حالانکہ ان کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں جو لوگ اپنے ساتھ لے کر گئے تھے ان کے لباس پر این سی سی آئی اے کے بیجز چسپاں تھے۔
تاحال کسی دوسرے سرکاری یا ریاستی ادارے نے بھی ان کی تحویل کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جس کے باعث ان کی موجودگی اور قانونی حیثیت کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر سے بھی رجوع کیا، لیکن انہیں ان کی موجودگی کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ اہل خانہ کی جانب سے پولیس سے رابطہ کیا گیا، اور کافی کوشش کے بعد اقرار الحسن کے اغوا کی درخواست وصول کی گئی۔
دوسری جانب اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے قانونی کارروائی کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے، تاکہ عدالت کے ذریعے معلوم کیا جا سکے کہ انہیں کس ادارے نے اپنی تحویل میں لیا اور آیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے یا نہیں۔ اقرار الحسن کی تینوں بیویاں واقعے کے وقت ڈیفنس لاہور والے گھر میں اکٹھے موجود تھیں جو 12 اکتوبر کو اپنے شوہر کی تلاش میں مختلف اداروں کے دفاتر اور عدالتوں تک گئیں۔ اہل خانہ کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود یہ بنیادی سوال بدستور موجود ہے کہ اگر این سی سی آئی اے نے انہیں گرفتار نہیں کیا تو پھر انہیں گھر سے لے جانے والے افراد کون تھے اور وہ اس وقت کہاں موجود ہیں۔
اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اقرار الحسن کو غیر قانونی طور پر حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست دائر کی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام سے اقرار الحسن کے بارے میں جواب طلب کیا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر انہیں کسی ریاستی ادارے نے تحویل میں رکھا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔
اس دوران سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ اقرار الحسن نے خیبر پختون خوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی سخت مذمت کرتے ہوئے ویڈیو پیغامات ریکارڈ کروائے تھے۔ ان پیغامات میں انہوں نے وفاقی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر تنقید کی تھی۔ غالب امکان یہی ہے کہ اقرار الحسن کو نیشنل سائبر کرائم ایجنسی یا آئی ایس آئی نے اٹھایا ہو کیونکہ آدھی رات کو ڈاکو یا لٹیرے کسی کے گھر میں گھس کر اسے گرفتار نہیں کرتے۔
