سہیل وڑائچ کی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ لچک کی ناکامی اور ضد و انا کی جیت ہے جس کا فائدہ نہ تو حکومت کا ہو گا اور نہ ہی پاکستان کو۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان سیاسی مفاہمت نہ ہونے کے باعث معاملات غیر معمولی اقدامات تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اس فیصلے سے سیاسی بحران ختم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان مسلسل محاذ آرائی، صوبائی حکومت اور وفاق کے اختلافات اور امن و امان کی صورت حال نے بحران کو سنگین بنایا۔ مذاکرات اور مفاہمت کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج کا راستہ اختیار کیا گیا، جس سے صوبے کی سیاست میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 13 سال تک حکمرانی کرنے والی تحریک انصاف کے لیے صوبائی اقتدار سے محرومی بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ پرویز خٹک، محمود خان، علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے ادوار میں صوبائی حکومت جماعت کی سیاسی طاقت کا اہم مرکز رہی۔ اب حکومت ختم ہونے سے تحریک انصاف صوبے میں انتظامی اختیار اور حکومتی فورمز پر اپنے مؤقف کی نمائندگی سے محروم ہو جائے گی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ خے بعد تحریک انصاف کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے لیے احتجاج، عوامی اجتماعات، تنظیمی رابطوں اور عدالتی و آئینی ذرائع پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔ اس فیصلے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت اس اقدام کو اپنے خلاف سیاسی کارروائی قرار دے کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتی ہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھنے کا خدشہ ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد وفاقی حکومت پر سکیورٹی پالیسیوں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری زیادہ براہ راست عائد ہوگی۔ اگر تحریک انصاف ان کارروائیوں کی مخالفت میں زیادہ سرگرم ہوئی تو صوبے میں سیاسی اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
انکا کہنا یے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے وفاقی حکومت کو صوبائی انتظامی معاملات چلانے میں زیادہ اختیار مل سکتا ہے، لیکن اسے امن و امان بہتر بنانے اور عوامی مسائل حل کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھانا ہوگی۔ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو حکومت کو سیاسی تنقید اور عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ فیصلے کے آئینی جواز کو بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق خیبر پختونخوا کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بظاہر ایک صفحے پر دکھائی دیتی ہیں، تاہم نئے صوبوں کے قیام، اختیارات کی تقسیم اور مستقبل کے سیاسی انتظامات پر اختلافات برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس لیے موجودہ تعاون کو حکمران اتحادیوں کے درمیان تمام اختلافات کے خاتمے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ انکا کہنا یے کہ ملکی سیاست پر اس فیصلے کا بڑا اثر تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان مفاہمت کے امکانات پر پڑے گا۔ سہیل آفریدی کی حکومت کے خاتمے سے سیاسی تنازع حل ہونے کی ضمانت نہیں ملتی، بلکہ اس سے احتجاجی سیاست، وفاق اور صوبے کے تعلقات میں تناؤ اور سیاسی عدم استحکام بڑھنے کا امکان ہے۔
انکا کہنا ہے کہ دوسری طرف وفاقی حکومت کی کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ صوبے میں انتظامی نظام اور امن و امان کو کس حد تک بہتر بناتی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج سیاسی مفاہمت کی ناکامی کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی بحرانوں کا مستقل حل مذاکرات اور لچک میں ہے، جبکہ ضد اور انا فریقین کو مزید دور کر دیتی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ محاذ آرائی جاری رکھتے ہیں یا مذاکرات کے ذریعے سیاسی بحران کم کرنے کا راستہ نکالتے ہیں۔
۔
