فیصل نصیر کی جگہ میجر جنرل عاطف بن اکرم نئے ڈی جی سی

پاکستان کی اہم ترین خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلیجنس یعنی ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کی جگہ میجر جنرل عاطف بن اکرم کو نیا ڈی جی سی مقرر کر دیا گیا ہے۔
میجر جنرل عاطف بن اکرم نئی ذمہ داریاں ملنے سے پہلے ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز پنجاب تھے۔ پنجاب رینجرز کی قیادت کے دوران ان کی ذمہ داریوں کا تعلق داخلی سلامتی، سکیورٹی انتظامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطہ کاری سے تھا۔ انہیں مئی 2023 کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے جولائی 2023 میں عاطف بن اکرم بریگیڈیئر سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والے 30 افسران میں شامل تھے۔
دوسری جانب میجر جنرل فیصل نصیر 2022 سے ڈی جی سی کے منصب پر فائز تھے اور اپنے دور میں ملکی سیاسی اور سکیورٹی معاملات کے حوالے سے غیرمعمولی طور پر زیر بحث رہے۔ میجر جنرل فیصل نصیر کو نیکٹا یعنی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کا چیف کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈی جی سی آئی ایس آئی کے اہم ترین عہدوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے بعد انتہائی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس عہدے کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس کا سربراہ کاؤنٹر انٹیلیجنس ونگ چلاتا ہے، تاہم ڈی جی سی دراصل آئی ایس آئی کے انٹرنل ونگ کا سربراہ ہوتا ہے، جو داخلی سلامتی اور دیگر حساس معاملات دیکھتا ہے۔ اس منصب کی نوعیت کے باعث اس پر فائز افسر کو ملک کے اہم سیاسی اور انتظامی مراکز کے ساتھ بھی رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر سیاسی جوڑ توڑ بھی ڈی جی سی کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ اس عہدے پر تعیناتی اور تبادلے کو معمول کی فوجی تبدیلی کے بجائے اہم ادارہ جاتی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ میجر جنرل فیصل نصیر نے 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد ڈی جی سی کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور تقریباً چار سال تک اس منصب پر کام کیا۔ ان کے دور میں پاکستان کے سیاسی حالات، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اور ریاستی اداروں کے کردار کے حوالے سے متعدد تنازعات سامنے آئے۔ فیصل نصیر کا نام مختلف سیاسی مباحث میں بھی زیر بحث رہا اور انہیں اپنے دور کے طاقتور ترین ڈی جی سی افسران میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی تعیناتی کے دوران ڈی جی سی کا عہدہ ملکی سیاسی منظرنامے میں غیر معمولی طور پر نمایاں رہا، خصوصا جب ان پر یہ الزامات عائد ہوئے کہ وہ سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث ہیں۔
آفریدی کے خلاف 9 مئی کا دہشتگردی کیس کھولنے کا فیصلہ
میجر جنرل فیصل نصیر کا فوجی کیریئر انٹیلیجنس اور سکیورٹی سے متعلق ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ سے رہا ہے اور وہ بلوچستان میں بھی مختلف اوقات میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں حساس سکیورٹی معاملات سے متعلق امور شامل رہے، جبکہ انہیں فوجی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ بسالت بھی عطا کیا گیا۔
وفاقی حکومت نے ستمبر 2026 کے آغاز میں میجر جنرل فیصل نصیر کو نیکٹا کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی تعیناتی نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت تین سال کے لیے سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں فوجی ادارے سے ایک دوسرے سرکاری ادارے میں مخصوص مدت کے لیے تعینات کیا گیا۔ اس تقرری کو اس لیے بھی اہم قرار دیا گیا کہ نیکٹا کی سربراہی ماضی میں زیادہ تر پولیس سروس اور سول انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے افسران کرتے رہے ہیں۔ فیصل نصیر کی تعیناتی نے دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر رابطہ کاری کے نظام میں ایک حاضر سروس فوجی افسر کے کردار کو نمایاں کر دیا۔
یاد رہے کہ نیکٹا وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والا قومی ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف حکمت عملی مرتب کرنا، وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانا اور قومی ایکشن پلان سمیت متعلقہ اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی میں مدد دینا ہے۔ پاکستان کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے مسلسل خطرات کا سامنا ہے، اس لیے نیکٹا کی کمانڈ میں تبدیلی اور ایک سابق ڈی جی سی کی وہاں تعیناتی قومی سلامتی کے لیے اہم فیصلہ قرار دی جا رہی ہے۔
