اقرار الحسن عدالت میں پیش، چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

کراچی کی سٹی کورٹ نے ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں عوام راج تحریک کے سربراہ اور معروف اینکر پرسن اقرار الحسن کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا،جہاں این سی سی آئی اے نے ملزم سے مقدمے کے سلسلے میں تفتیش کےلیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران عدالت نے اقرار الحسن سے استفسار کیاکہ کیا ان پر تشدد کیا گیا ہے؟ اس پر اقرار الحسن نے جواب دیاکہ انہیں مارا پیٹا نہیں گیا۔
عدالت نے ملزم سے یہ بھی پوچھاکہ کیا ان کا کوئی وکیل ہے؟جس پر اقرار الحسن نے بتایاکہ انہوں نے ابھی تک کوئی وکیل نہیں کیا۔
این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایاکہ ملزم سے مقدمے کےحوالے سے تفتیش کرنی ہے،تاہم عدالت نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کرنےکے بجائے اقرار الحسن کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایجنسی کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ این سی سی آئی اے کراچی کے انسپکٹر محمد علی خان کی رپورٹ کی بنیاد پر درج ایف آئی آر کےمطابق، اقرار الحسن کےخلاف الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون (پیکا) 2016، ترمیم شدہ 2025، کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-اے کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیاگیا ہے کہ ملزم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جن میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام اور فیس بک شامل ہیں، کے ذریعے ایسا مواد شائع اور شیئر کیاجس کا مقصد عوام کو ریاست اور آئینی اداروں کے خلاف اکسانا، ریاستی اقدامات کو متنازع بنانا اور عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کی تعریف کرنا تھا۔
مقدمے کے متن کےمطابق، اس مواد سے عوام میں خوف و ہراس،بدامنی اور مختلف گروہوں کے درمیان نفرت پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا محمد فیصل منیر خان کی قیادت میں تفتیشی ٹیم نے لاہور میں کارروائی کرتےہوئے سید اقرار الحسن کو 12 اکتوبر 2026 کو گرفتار کیا۔گرفتاری اور تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے متعدد ڈیجیٹل آلات تحویل میں لیےگئے،جن میں دو آئی فون 16 پرو، دو آئی فون 11 پرو اور ایک آئی پیڈ ایئر شامل ہیں۔
شام میں اسرائیلی کارروائیاں امن کےلیے خطرہ ہیں : پاکستان
ابتدائی تکنیکی رپورٹ کےمطابق، ایک آئی فون 16 پرو میں اقرار الحسن کے ٹک ٹاک،انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس لاگ اِن پائے گئے،جب کہ فون کی گیلری سے مبینہ طور پر متعلقہ ویڈیو بھی برآمد ہوئی۔رپورٹ میں ان آلات کو تفصیلی فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔
13 اکتوبر 2026 کو تفتیشی افسر نے اقرار الحسن کو جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ (شرقی) کراچی، محمد رضا انصاری کی عدالت میں پیش کیا۔تفتیشی افسر نے مزید تفتیش،سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مکمل کنٹرول کی تصدیق اور دیگر آلات و موبائل فونز کی برآمدگی کےلیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے اور کیس ڈائری کا جائزہ لینے کےبعد اقرار الحسن کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے انہیں 17 اکتوبر 2026 کو پیشرفت رپورٹ کے ساتھ دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

One Comment