آئین کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی گئی : وفاقی وزراء

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال خراب اور حکمرانی کا نظام مفلوج ہوچکا تھا،حالیہ دنوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ ہوا، صدر مملکت نے آئین کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی ۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کو خیبرپختونخوا کی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جدید دور میں ممالک آئینی نظام کے تحت چلائےجاتے ہیں،آئین وہ بنیادی اور فیصلہ کن دستاویز ہےجو درحقیقت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ریاست کو کس طرح چلایا جائے گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے،یہ مسئلہ حالیہ دنوں سے شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں افغانستان کی جنگ یا 1970 کے اواخر میں افغانستان پر روسی جارحیت کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں ۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ دنیا نے دیکھاکہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کس بہادری سے لڑی، ماضی قریب میں دہشت گردی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ جہاں تک دہشت گردی کے واقعات کا تعلق ہےتو اس کی مثال اعداد و شمار سے واضح ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے معاملے پر رویہ غیر سنجیدہ رہا،ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہماری ترجیح ہے،بین الاقوامی برادری کو خطے میں دہشت گردی کے اسباب اور پس منظر کا ادراک ہونا چاہیے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ دہشت گردی کےخلاف مشترکہ پالیسی پر اتفاق رائے کےلیے متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی،تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی انسداد دہشت گردی کے مربوط اقدامات پر آمادہ نہیں ہوئے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا ایجنڈا سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی کےخلاف متحدہ اور متفقہ حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔پی ٹی آئی اپنا مارچ جاری رکھنے اور دیگر سیاسی مطالبات پیش کرنے میں آزاد تھی،لیکن دہشت گردی کے معاملے پر ملک میں 2 مختلف پالیسیاں نہیں ہوسکتیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک طرف عبوری افغان حکومت سے سفارتی سطح پر مطالبہ کررہا ہےکہ افغان سرزمین پاکستان کےخلاف دہشت گردی کےلیے استعمال نہ ہونےدی جائے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں، جب کہ خیبرپختونخوا حکومت کا افغانستان کے بارے میں مؤقف مختلف رہا۔
وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیاکہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق بھی ہوگیا تھا،لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسے مسترد کردیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال خراب اور حکمرانی کا نظام مفلوج ہوچکا تھا۔ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،جب کہ جنوبی اضلاع میں دہشت گردوں کے اثر و رسوخ سے متعلق قابلِ اعتماد اطلاعات موجود ہیں۔صوبے میں سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا اور بعض غیرقانونی تجارتی سرگرمیوں اور سرحد پار سمگلنگ سے دہشت گردوں کو مبینہ طور پر سہولت ملتی رہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت خیبرپختونخوا کو اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں۔سوال یہ ہےکہ ان وسائل کو انسداد دہشت گردی کے محکمے کو مضبوط بنانے،سیف سٹی کیمرے نصب کرنے، فرانزک لیبارٹری قائم کرنے،پولیس کو جدید آلات فراہم کرنے اور پرتشدد انتہاپسندی کےخلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے پر کیوں خرچ نہیں کیاگیا۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کا خاتمہ چاہتےہیں اور اس کے باعث ان کی زندگی اور روزگار شدید متاثر ہوئے ہیں۔کوہاٹ میں دہشت گردی کے واقعے کےبعد زخمیوں اور شہداء کے اہلخانہ سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتےہوئے انہوں نے کہاکہ مشکلات کے باوجود متاثرہ افراد کے عزم میں کمی نہیں آئی۔
ان کاکہنا تھاکہ طالبان کا خواتین کو تعلیم سے محروم رکھنے کا نظریہ حقیقی اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا۔
عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت قومی ایکشن پلان کے تحت اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرنے اور انسداد دہشت گردی کی مربوط پالیسی نافذ کرنے میں سنجیدہ نہیں تھی۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کے نمائندوں کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں عوام کے سڑکوں پر نکلنےکے دعوے کیےگئے،تاہم ان کے بقول ایسا نہیں ہوا۔
وزیراطلاعات نے اسے صوبائی حکومت کے مؤقف سے عوامی عدم اتفاق قراردیا۔
وزیر اطلاعات نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ تعلیم، صحت اور بنیادی سرکاری خدمات کے شعبوں میں مطلوبہ اصلاحات نہیں ہوئیں۔
انہوں نے وزیراعظم کی فیول ریلیف سکیم کے تحت کوہاٹ جاتےہوئے ایک پیٹرول پمپ پر گاڑیوں کی رجسٹریشن نہ ہونے کا ذکر کرتےہوئے سوال اٹھایاکہ گزشتہ ساڑھے 13 برسوں میں ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کیوں نہیں کی گئی۔
گورنر راج کے نفاذ نے PTIکی عوامی مقبولیت کا غبارہ کیسے پنکچر کیا؟
عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ تشکیل دی گئی مشاورتی کونسل میں قبائلی توازن اور صنفی نمائندگی کا خیال رکھاگیا ہے، جب کہ سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنےوالے تجربہ کار افراد شامل کیےگئے ہیں۔نئی ٹیم صوبے میں عوامی خدمات بہتر بنانے اور دہشت گردی کےخلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
وفاقی وزیراطلاعات نے کہاکہ آئینِ پاکستان میں متعلقہ دفعات ایسے حالات سے نمٹنے کےلیے شامل کی گئی تھیں اور ان کے بقول اٹھائےگئے اقدامات 1973 کے آئین کے تحت قانونی طور پر درست ہیں۔

One Comment