سہیل آفریدی نے خود خیبرپختونخوا میں گورنر راج کیسے لگوایا؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے خاتمے نے کئی اہم سیاسی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اسلام آباد مارچ کا اعلان، پارٹی کے اندر اختلافات، وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل اور احتجاج کی تاریخ میں تبدیلی اس بحران کے اہم عوامل بنے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا سہیل آفریدی نے کارکنوں کے دباؤ میں آکر ایسا سیاسی محاذ کھول دیا جس کے لیے ان کے پاس واضح منصوبہ، مؤثر رابطہ کاری اور متبادل حکمتِ عملی موجود نہیں تھی؟ اور کیا بروقت مذاکرات اور پارٹی کے اندر اتفاقِ رائے اس صورتحال کو مختلف رخ دے سکتے تھے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق، جولائی کے آخری ہفتے میں وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہونے والے اجلاس کے دوران سہیل آفریدی نے پارٹی قیادت کو کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد مارچ کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ سے آگاہ کیا۔ اسد قیصر اور تیمور سلیم جھگڑا نے احتجاج سے پہلے تیاری اور وفاقی حکومت سے سنجیدہ مذاکرات پر زور دیا، تاہم 5 اگست کے پشاور جلسے میں سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو مارچ کا اعلان کردیا۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں، احتجاجی تحریک کی کامیابی کے لیے کارکنوں کے جوش کے ساتھ تنظیمی تیاری، مرکزی قیادت کی حمایت، اتحادیوں سے رابطے اور واضح اہداف بھی ضروری ہوتے ہیں۔ سہیل آفریدی نے پنجاب اور سندھ میں رابطہ مہم کے ذریعے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ سوال برقرار رہا کہ آیا مارچ کے لیے مطلوبہ سیاسی اتفاقِ رائے اور عملی تیاری مکمل تھی یا نہیں۔

مبصرین کے مطابق، وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان ستمبر میں ہونے والے رابطے بھی کشیدگی کم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ وفاق کی جانب سے مارچ کی مخالفت کے باوجود سہیل آفریدی کو توقع تھی کہ انہیں اسلام آباد جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔ دوسری جانب، محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کی احتجاجی کال پارٹی کی اجتماعی کال نہیں تھی، جس سے مارچ کے لیے وسیع تر سیاسی حمایت کے سوالات مزید نمایاں ہوگئے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، 25 ستمبر کو احتجاج کی تاریخ 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کرنا بھی تحریک کے لیے ایک اہم موڑ تھا۔ بعدازاں لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان ہوا، لیکن تیاریوں، مذاکرات اور حکومتی ردعمل سے متعلق مشکلات برقرار رہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مارچ کے لیے تیار کیا گیا کنٹینر بھی تحویل میں لے لیا گیا، جو اس سیاسی مہم کی مشکلات کی علامت بن گیا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بحران میں سہیل آفریدی کے سامنے دوہری ذمہ داری تھی: ایک طرف کارکنوں کی توقعات پوری کرنا اور دوسری طرف صوبائی حکومت کے انتظامی امور اور وفاق کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنا۔ وزیراعلیٰ کے منصب پر احتجاجی سیاست کے ساتھ امن و امان، عوامی خدمات اور حکومتی ذمہ داریوں کو بھی اہمیت دینا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی بڑے سیاسی اقدام سے پہلے ممکنہ نتائج اور متبادل راستوں کا جائزہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اس پورے معاملے میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے کردار اور وفاقی حکومت کی حکمتِ عملی کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ اگر مارچ ایک مشترکہ سیاسی تحریک تھی تو اس کے لیے مرکزی اور صوبائی قیادت میں واضح ہم آہنگی ہونی چاہیے تھی۔ دوسری جانب، وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات کو محض احتجاج کے ذریعے حل کرنے کی کوشش نے سیاسی تناؤ بڑھایا۔ تاہم، گورنر راج کے نفاذ کی مکمل وجوہات سمجھنے کے لیے متعلقہ آئینی فیصلوں، سرکاری مؤقف اور دیگر فریقوں کے بیانات کا جائزہ بھی ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں، سہیل آفریدی کے سیاسی بحران سے یہ سبق ملتا ہے کہ سیاسی عزم کو مؤثر حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کے لیے کارکنوں کے جوش کے ساتھ مضبوط تنظیم، واضح مطالبات، قیادت میں اتفاقِ رائے اور سنجیدہ مذاکرات بھی ناگزیر ہیں۔ اسلام آباد مارچ سے گورنر راج تک کا سفر اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ کیا سیاسی قیادت نے احتجاج کے ممکنہ نتائج کا مناسب اندازہ لگایا تھا، یا ایک سیاسی اعلان رفتہ رفتہ ایسے بحران میں تبدیل ہوگیا جس سے نکلنے کا راستہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا؟

Back to top button