ISIکے نام پر دھوکہ، لائبہ اعجاز کیس کا ملزم مستند فراڈیا نکلا؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ویزا فراڈ کے باعث 23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے نے ایک ایسے مبینہ فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے جس پر بیرونِ ملک تعلیم اور سرکاری اداروں میں ملازمتوں کے خواب دکھا کر لوگوں سے لاکھوں روپے بٹورنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ لائبہ اعجاز کے اہلِ خانہ سے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے وصول کرنے کے الزام میں گرفتار محمد نعمان کے بارے میں اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ مانسہرہ میں بھی آرمی اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) میں ملازمتیں دلوانے کے نام پر 85 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ میں مطلوب تھا۔ اس مقدمے میں متاثرہ خاندان کے 12 افراد کو ملازمتوں کے تقرری نامے دینے کا دعویٰ کیا گیا، جو بعد میں مبینہ طور پر جعلی ثابت ہوئے۔ یہ معاملہ محض مالی دھوکہ دہی کا نہیں بلکہ ان لوگوں کی امیدوں، مجبوریوں اور اعتماد کا بھی سوال ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے قانونی طریقوں سے ہٹ کر نام نہاد بااثر افراد کے وعدوں پر بھروسا کر بیٹھتے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق محمد نعمان لائبہ اعجاز کیس میں گرفتار ہے اور تفتیش کے دوران اس کے خلاف مانسہرہ میں درج ایک دوسرے مقدمے کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ پولیس کے دعوے کے مطابق نعمان نے اپنے بھائی وقاص اور دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایک خاندان کے افراد کو فوج اور آئی ایس آئی میں بھرتی کروانے کا جھانسہ دیا اور اس مقصد کے لیے تقریباً 85 لاکھ روپے وصول کیے۔ مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں 27 اگست 2026 کو درج ہونے والے مقدمے میں چار افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق دیگر ملزمان گرفتار ہو گئے، جبکہ محمد نعمان کی عدم گرفتاری کے باعث اسے اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

مقدمے کے مدعی سلطان محمد کے بیان کے مطابق مبینہ فراڈ کا واقعہ جولائی 2024 میں پیش آیا۔ ان کا الزام ہے کہ نعمان کی ایک بھابھی نے ان کے خاندان کو بتایا کہ نعمان ماضی میں ٹرپل تھری بریگیڈ سے منسلک رہا ہے اور اس وقت آئی ایس آئی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعینات ہے۔ اس تعارف اور مبینہ اثرورسوخ کی بنیاد پر خاندان کو یقین دلایا گیا کہ ملزمان اپنے تعلقات استعمال کرکے ان کے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو فوج اور آئی ایس آئی میں ملازمتیں دلوا سکتے ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاندان سے کہا گیا کہ ہر اسامی کے لیے چند لاکھ روپے بطور سکیورٹی ادا کیے جائیں اور باقی رقم تقرری کے بعد وصول کی جائے گی۔ مدعی کا دعویٰ ہے کہ اس یقین دہانی پر خاندان نے 12 افراد کی فہرست ملزمان کے حوالے کی اور مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے وقاص کے اکاؤنٹ میں تقریباً 85 لاکھ روپے منتقل کیے۔ اس کے بعد 3 دسمبر 2024 کو انہیں فوج اور آئی ایس آئی میں تقرری کے لیے 10 اپائنٹمنٹ لیٹرز دیے گئے۔

تاہم جب متاثرین کو نعمان سے راولپنڈی میں ملنے کے لیے کہا گیا تو وہ دستیاب نہ ہوا اور بعدازاں ملزمان سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ شک گزرنے پر متاثرین نے چکلالہ کینٹ میں متعلقہ دستاویزات کی تصدیق کروائی تو ان کے مطابق تقرری نامے جعلی نکلے۔ مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا کہ ان کے خاندان کو ایک منظم منصوبے کے تحت دھوکہ دیا گیا۔ پولیس کو فراہم کردہ شواہد میں مبینہ مالی لین دین، بینک اکاؤنٹس، ایزی پیسہ ٹرانزیکشنز، واٹس ایپ گفتگو اور جعلی تقرری نامے شامل بتائے گئے ہیں۔

اس مقدمے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ واقعے کے تقریباً 2 سال بعد ایف آئی آر کیوں درج ہوئی۔ سلطان محمد کے مطابق انہوں نے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے سے رجوع کیا، لیکن ان کے بقول وہاں درخواست تقریباً 4 ماہ زیرِ غور رہنے کے بعد انہیں پولیس سے رابطہ کرنے کا کہا گیا۔ اس کے بعد متعلقہ تھانے میں درخواست دی گئی، قانونی رائے لینے کے عمل میں مزید وقت لگا اور بالآخر اگست 2026 میں مقدمہ درج ہوا۔ مدعی کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ملازمتوں کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے سے زیادہ ادا کیے تھے، لیکن 85 لاکھ روپے کی ادائیگی کا دستاویزی ریکارڈ موجود ہونے کے باعث ایف آئی آر میں یہی رقم درج کی گئی۔

سلطان محمد کے مطابق ملزمان جعلی تقرری نامے دینے کے بعد ابتدا میں مختلف بہانے بناتے رہے اور رقم واپس کرنے کے لیے مزید مہلت مانگتے رہے، لیکن بعد میں رابطہ ختم کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان میں سے تین پولیس کی گرفت میں آ چکے تھے اور ان کی ضمانت کی درخواستیں ماتحت عدالتوں سے مسترد ہونے کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ یہ تفصیلات مدعی کے بیان اور پولیس کی فراہم کردہ معلومات سے متعلق ہیں؛ مقدمے میں عائد الزامات کا حتمی تعین عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا ہے۔

لائبہ اعجاز کیس اور مانسہرہ کے مبینہ فراڈ میں ایک نمایاں مماثلت یہ ہے کہ دونوں معاملات میں مستقبل کے بہتر امکانات دکھا کر رقم وصول کرنے کا الزام ہے۔ لائبہ کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا وعدہ کیا گیا، جبکہ مانسہرہ کے خاندان کو فوج اور آئی ایس آئی میں ملازمتوں کی یقین دہانی کرائی گئی۔ لائبہ کے معاملے میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ مبینہ فراڈ سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے خودکشی کی، تاہم اس المناک واقعے کے تمام پہلوؤں اور ذمہ داری کا تعین شواہد اور قانونی کارروائی کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

 

Back to top button