اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود سعودی عرب غیر محفوظ کیوں؟

جدید ترین امریکی میزائل شکن نظام، اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے، جدید ریڈار اور طاقتور فضائی نگرانی کے باوجود اگر کسی ملک کے اہم ہوائی اڈے اور حساس تنصیبات میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آ جائیں تو سوال صرف دفاعی نظام کی کارکردگی کا نہیں رہتا، بلکہ اس پورے عسکری تصور کی افادیت پر اٹھتا ہے جس کے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ بھاری سرمایہ کاری سے فضائی خطرات کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب کی موجودہ صورت حال اسی بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود حوثی میزائل اور ڈرون سعودی فضائی دفاع میں شگاف ڈالنے میں کیسے کامیاب ہو رہے ہیں؟ کیا مسئلہ جدید ٹیکنالوجی کی حدود کا ہے، دفاعی نظاموں کے درمیان رابطے کی کمزوری کا، یا پھر ایک نسبتاً کم وسائل رکھنے والے مسلح گروہ نے ایسی جنگی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے جس کے سامنے روایتی دفاعی طاقت بھی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق سعودی عرب گزشتہ ایک دہائی کے دوران اپنے فضائی اور میزائل دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے خطیر سرمایہ خرچ کرتا رہا ہے۔ 2017 میں امریکہ نے تھاڈ دفاعی نظام کے لانچروں اور میزائلوں کی فروخت کے لیے تقریباً 15 ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی، 2022 میں پیٹریاٹ میزائلوں کے لیے تقریباً 3 ارب ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی گئی، جبکہ 2026 میں اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 9 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا۔ اس کے باوجود سعودی تنصیبات پر حملوں نے واضح کیا ہے کہ جدید ہتھیاروں کی خریداری اور ہر حملے کو روکنے کی صلاحیت دو مختلف معاملات ہیں۔ دفاعی کامیابی کا انحصار صرف ہتھیاروں پر نہیں بلکہ انٹیلیجنس، ریڈاروں کی کارکردگی، بروقت فیصلوں اور مختلف دفاعی نظاموں کے درمیان مؤثر رابطے پر بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب کا فضائی دفاع مختلف فاصلے اور بلندی پر آنے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے متعدد نظاموں پر مشتمل ہے۔ امریکی ساختہ پیٹریاٹ نظام اس نیٹ ورک کی بنیادی کڑی ہے، جو مخصوص اقسام کے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب تھاڈ نظام بلند پرواز کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے پاس آئی ہاک، کروٹال، شاہین اور میکا جیسے دیگر دفاعی نظام بھی موجود ہیں، جو مختلف نوعیت کے خطرات کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان تمام نظاموں کی موجودگی اس وقت تک مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتی جب تک ان کے ریڈار، سینسر، معلومات کی ترسیل اور کمانڈ نظام ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر انداز میں کام نہ کریں۔

حوثیوں کی حکمتِ عملی کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں ڈرونز اور مختلف نوعیت کے میزائل استعمال کرکے سعودی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ فوجی اصطلاح میں اسے سیچوریشن حملہ کہا جاتا ہے، جس کا مقصد دفاعی نظام کو اتنے زیادہ اہداف سے نمٹنے پر مجبور کرنا ہے کہ اس کی نگرانی اور کارروائی کی صلاحیت محدود ہو جائے۔ پہلے ڈرونز کی بڑی تعداد بھیج کر دفاعی نظام کو مصروف کیا جا سکتا ہے اور پھر کروز یا بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے حساس اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ایسے حملوں میں ضروری نہیں کہ ہر ہتھیار کامیاب ہو؛ چند میزائلوں یا ڈرونز کا دفاعی حصار عبور کرنا بھی حملہ آور کے لیے اہم کامیابی بن سکتا ہے۔

ان ہتھیاروں کی مختلف رفتار اور پروازی انداز بھی دفاعی کارروائی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ بیلسٹک میزائل انتہائی تیز رفتاری سے ہدف کی طرف بڑھتے ہیں، جس سے دفاعی نظام کو ردعمل کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ کروز میزائل نسبتاً کم بلندی پر زمین کے نشیب و فراز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پرواز کر سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے ڈرونز کی کم رفتار اور محدود جسامت بعض ریڈاروں کے لیے ان کی شناخت مشکل بنا سکتی ہے۔ طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار ہر قسم کے چھوٹے اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے ہدف کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی بھی اس وقت مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے جب حملہ آور مختلف سمتوں اور مختلف بلندیوں سے بیک وقت حملے کریں۔

سعودی عرب کے لیے ایک بنیادی مسئلہ اس کا وسیع جغرافیہ بھی ہے۔ 20 لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ملک میں تیل کی تنصیبات، پائپ لائنوں، ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں اور دیگر حساس مراکز کی حفاظت ایک بڑا چیلنج ہے۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید دفاعی نظام مہنگے ہونے کے ساتھ تعداد میں بھی محدود ہوتے ہیں، اس لیے انھیں ہر مقام پر تعینات کرنا ممکن نہیں۔ دفاعی منصوبہ سازوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کن تنصیبات کو زیادہ تحفظ دیا جائے اور دستیاب وسائل کو مختلف ممکنہ خطرات کے مقابلے میں کیسے تقسیم کیا جائے۔ مزید یہ کہ سعودی عرب کو صرف یمن سے آنے والے خطرات ہی نہیں بلکہ ایران سے منسلک ممکنہ خطرات اور خطے کی مجموعی کشیدگی کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

دفاعی نظاموں کی ایک اور اہم حد انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر ہیں۔ آنے والے میزائل یا ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دفاعی میزائل خود انتہائی مہنگے ہو سکتے ہیں۔ اگر حملہ آور نسبتاً کم قیمت ڈرونز بڑی تعداد میں استعمال کرے اور دفاع کرنے والا ملک ان کے خلاف مہنگے میزائل داغنے پر مجبور ہو تو طویل مدت میں دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بار بار ہونے والے حملوں سے میزائلوں کے ذخائر کم ہوتے ہیں، جنھیں دوبارہ بھرنے اور نئے ہتھیار حاصل کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اس طرح حملہ آور ناکام ہونے کے باوجود دفاعی ملک کو مسلسل مالی اور عسکری دباؤ میں رکھ سکتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی فضائی دفاعی نظام سو فیصد مؤثر نہیں ہوتا، اس لیے کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ دستیاب وسائل کو کس خطرے کے خلاف اور کس ترجیح کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے پاس مختلف فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ بعض میزائلوں میں پرواز کے آخری مرحلے میں رہنمائی اور راستے میں تبدیلی کی صلاحیت سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے انھیں روکنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حملوں میں کون سے مخصوص ہتھیار اور تکنیکی صلاحیتیں استعمال ہوئیں، اس کا تعین مستند شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے حوالے سے ایرانی معاونت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ متعدد دفاعی ماہرین نے حوثیوں کے بعض ہتھیاروں اور ایرانی میزائل و ڈرون نظاموں کے درمیان مماثلت کی نشاندہی کی ہے، جبکہ بعض ہتھیاروں کے ملبے کے تجزیوں کو بھی اس تعلق کے شواہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایران اور حوثی ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، اس لیے کسی مخصوص حملے میں ایران کے براہِ راست کردار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔ اس کے باوجود ماہرین کے مطابق بیرونی معاونت، پرانے فوجی ذخائر کے استعمال، مقامی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری اور متحرک لانچروں سے میزائل داغنے کی صلاحیت نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

سعودی فضائی دفاع کی مؤثریت کے لیے مختلف ریڈاروں، سینسرز اور عسکری اداروں کے درمیان رابطہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ایک نظام کسی ہدف کی نشاندہی کرے لیکن اس کی معلومات دوسرے دفاعی نظام تک بروقت نہ پہنچیں تو ردعمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح تکنیکی عدم مطابقت، معلومات کے تبادلے میں رکاوٹ اور مشترکہ کارروائی میں کمزوری دفاعی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حالیہ حملوں کی بنیادی وجہ لازماً دفاعی نظاموں کے درمیان رابطے کی ناکامی تھی۔ اس کے لیے تفصیلی تحقیقات اور متعلقہ شواہد درکار ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع ایک غیر متناسب جنگ کی مثال بھی ہے۔ سعودی عرب کو اپنے شہریوں، ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی مراکز کی مسلسل حفاظت کرنا ہوتی ہے، جبکہ حوثیوں کے لیے کبھی کبھار کسی اہم ہدف کو نشانہ بنانا بھی سیاسی اور عسکری فائدے کا باعث بن سکتا ہے۔ سعودی عرب کو تقریباً ہر ممکنہ حملے کے خلاف تیار رہنا پڑتا ہے، لیکن حوثیوں کو ہر حملے میں کامیابی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی فرق سعودی دفاعی نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ جدید ہتھیاروں کی موجودگی کے باوجود خطرے کا مکمل خاتمہ آسان نہیں۔

یمن کے پہاڑی اور دشوار گزار علاقے بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ فضائی حملے بعض عسکری تنصیبات اور لانچ مراکز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے قابلِ اعتماد انٹیلیجنس، ہتھیاروں کی تیاری اور ترسیل کے ذرائع کی نگرانی اور مسلسل عسکری و سیاسی دباؤ ضروری ہو سکتا ہے۔ کئی برسوں کی کارروائیوں کے باوجود حوثیوں کی بعض صلاحیتوں کا برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض فضائی حملوں سے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا مشکل ہے۔

سعودی عرب کے لیے آگے کا راستہ صرف مزید مہنگے میزائل خریدنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ کم بلندی پر پرواز کرنے والے ڈرونز کی شناخت، مختلف دفاعی نظاموں کے درمیان رابطے، مشترکہ کمانڈ، انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر اور ان کی بروقت فراہمی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ مختلف نوعیت کے خطرات کے خلاف مناسب لاگت والے دفاعی ذرائع کا استعمال بھی اہم ہے تاکہ ہر چھوٹے ہدف کے مقابلے میں انتہائی مہنگے میزائل استعمال کرنے کی ضرورت کم ہو۔ طویل مدت میں یمن کے تنازع کے سیاسی حل، حوثیوں کی حملہ آور صلاحیتوں کو محدود کرنے اور خطے میں پائیدار سلامتی کے قیام پر توجہ دینا بھی ناگزیر ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظام کسی ملک کو مضبوط تحفظ تو فراہم کر سکتے ہیں، لیکن مکمل ناقابلِ تسخیر نہیں بنا سکتے۔ سعودی عرب کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ دفاعی طاقت کا اصل معیار صرف اربوں ڈالر کے ہتھیار، جدید ریڈار یا میزائل شکن نظاموں کی تعداد نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق ان وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ حوثیوں کے حملوں نے سعودی عرب کے دفاعی حصار کی بعض حدود کو نمایاں ضرور کیا ہے، تاہم ان حملوں کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے دفاعی کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔ اگر سعودی عرب اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں تکنیکی بہتری، وسائل کے دانش مندانہ استعمال اور تنازع کے بنیادی اسباب کے حل کو یکجا کر سکے تو خطرات کو کم کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں؛ بصورتِ دیگر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود میزائلوں اور ڈرونز کا خطرہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

Back to top button