مغربی انفلوئنسرز کے ملالہ یوسفزئی پر چندے میں خردبرد کے سنگین الزامات

نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی اور ان کے قائم کردہ ملالہ فنڈ کے مالی معاملات پر مغربی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکی اور افغان نژاد جرمن صحافیوں اور سوشل میڈیا شخصیات نے سوال اٹھایا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے نام پر جمع ہونے والی کروڑوں ڈالر کی رقم کا کتنا حصہ حقیقتاً تعلیمی منصوبوں اور مقامی تنظیموں تک پہنچتا ہے اور کتنا انتظامی اخراجات، اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مہنگے سفری انتظامات پر خرچ ہوتا ہے۔ تاہم ان الزامات کے ساتھ مالی ریکارڈ کی دوسری تشریحات بھی سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق اخراجات اور آمدن کے درمیان فرق بذاتِ خود مالی بدعنوانی کا ثبوت نہیں۔
امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسر نینسی سڈلی نے ملالہ فنڈ کے مالی سال 2024-25 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ادارے کے اخراجات اس کی سالانہ آمدن سے نمایاں طور پر زیادہ رہے۔ ان کے مطابق فنڈ کی آمدن تقریباً 1 کروڑ 648 لاکھ ڈالر جبکہ اخراجات تقریباً 2 کروڑ 334 لاکھ ڈالر تھے، یعنی اخراجات آمدن سے تقریباً 68 لاکھ 60 ہزار ڈالر زیادہ رہے۔ انہوں نے ادارے کے مالی ذخائر، اعلیٰ عہدیداروں کی تنخواہوں اور مہنگے سفری انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ واضح کیا جائے کہ تعلیم کے لیے مختص رقم کا کتنا حصہ براہِ راست طالبات، تعلیمی منصوبوں اور مقامی شراکت داروں تک پہنچتا ہے۔
نینسی سڈلی کے مطابق مالی دستاویزات میں ادارے کے چیف ایگزیکٹو کی سالانہ تنخواہ تقریباً 3 لاکھ 72 ہزار ڈالر، چیف ایڈوائزر کی 3 لاکھ 20 ہزار ڈالر اور چیف آپریٹنگ آفیسر کی 2 لاکھ 41 ہزار ڈالر بتائی گئی۔ انہوں نے ٹیکس دستاویزات میں اعلیٰ عہدیداروں کے لیے فرسٹ کلاس یا نجی سفری سہولتوں کے ذکر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب کوئی ادارہ عوامی عطیات اور مخیر حضرات کی رقوم سے چلتا ہو تو اس کی انتظامی ترجیحات، تنخواہوں اور سفری اخراجات کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
سڈلی نے ملالہ اور برطانوی شاہی خاندان سے وابستہ میگھن مارکل کی ایک تقریب میں چائے پیتے ہوئے تصویر کو بھی اپنی تنقید کا حصہ بنایا اور ملالہ کے طرزِ زندگی کو غیر معمولی آسائشوں سے تعبیر کیا۔ تاہم کسی تقریب میں شرکت، کسی معروف شخصیت کے ساتھ تصویر یا بلند معیارِ زندگی بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ کسی فلاحی ادارے کی رقم ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کی گئی۔ ایسے دعووں کی جانچ کے لیے اصل مالی دستاویزات، اخراجات کی نوعیت اور متعلقہ شواہد کا جائزہ ضروری ہے۔
اس بحث میں افغان نژاد جرمن صحافی زرلاشتہ ڈیزی واتنمل نے بھی ملالہ فنڈ کے افغانستان سے متعلق منصوبوں پر سوالات اٹھائے۔ ان کے دعوے کے مطابق ادارے نے 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی گرانٹس 57 تنظیموں کو فراہم کیں، جن میں نمایاں حصہ افغانستان سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مختص تھا، لیکن افغانستان میں کام کرنے والی کسی مقامی تنظیم کو براہِ راست رقم نہیں ملی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ افغان لڑکیوں کی تعلیم کے نام پر جمع کی جانے والی رقوم کے زمینی نتائج اور مستفید ہونے والوں کی تفصیلات عوام کے سامنے کتنی واضح ہیں۔ ان کے بیانات میں منصوبوں کو غیر مؤثر قرار دینے اور بعض تعلیمی سرگرمیوں کے حقیقی وجود پر سوال اٹھانے جیسے سخت الزامات بھی شامل ہیں، تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ان الزامات کے جواب میں پاکستانی نژاد اسٹریٹجک تجزیہ کار اقبال لطیف نے عوامی ٹیکس دستاویزات اور مالی ریکارڈ کا جائزہ پیش کیا۔ ان کے مطابق آمدن اور اخراجات کے اعداد و شمار میں فرق کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ رقم ضائع یا خردبرد ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے کو گزشتہ برس 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ کے بڑے عطیات موصول ہوئے تھے، جنہیں اکاؤنٹنگ قواعد کے تحت متعلقہ مالی سال میں آمدن کے طور پر درج کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان رقوم کا کچھ حصہ آئندہ برسوں میں منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ مالی ذخائر کا استعمال کسی غیر منافع بخش ادارے کے لیے معمول کا حصہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اخراجات قانونی، شفاف اور ادارے کے مقاصد کے مطابق ہوں۔
اقبال لطیف نے ملالہ یوسفزئی اور ان کے والد ضیاء الدین یوسفزئی کے کردار کے حوالے سے بھی وضاحت کی کہ وہ ادارے کے بورڈ سے وابستہ ہیں اور ان کے مطابق انہیں بورڈ کی ذمہ داریوں کے عوض تنخواہ نہیں دی جاتی۔ ان کے تجزیے میں ذاتی فائدے کے لیے لین دین یا اثاثوں کی منتقلی کے حوالے سے بھی ایسی تفصیلات سامنے نہیں آئیں جن سے ان الزامات کی خودبخود تصدیق ہو سکے۔ تاہم انہوں نے اعلیٰ انتظامی تنخواہوں میں اضافے، ادارے کے انتظامی ڈھانچے اور عطیات کے مقابلے میں گرانٹس کی تقسیم پر تنقید کی۔ ان کے مطابق بیرونی تنظیموں کو دی جانے والی رقوم اور مرکزی دفاتر کے اخراجات کے درمیان فرق کو مزید واضح ہونا چاہیے تاکہ عطیہ دہندگان بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ ان کی رقم کہاں استعمال ہو رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق یہاں بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ مالی بدانتظامی، غیر مؤثر کارکردگی اور مالی خردبرد تین الگ معاملات ہیں۔ کسی ادارے کا آمدن سے زیادہ خرچ کرنا لازماً بدعنوانی نہیں، کیونکہ وہ سابقہ عطیات، محفوظ رقوم یا مخصوص منصوبوں کے لیے پہلے سے جمع کیے گئے فنڈز استعمال کر سکتا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ تنخواہیں کسی ادارے میں انتظامی اخراجات پر بحث کا جواز تو فراہم کرتی ہیں، لیکن صرف تنخواہ کی رقم سے ذاتی فائدے یا غیر قانونی سرگرمی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف، قانونی مالی ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم رہتا ہے کہ ادارے کی سرگرمیوں سے کتنی طالبات مستفید ہوئیں، کتنے اسکولوں یا تعلیمی منصوبوں میں بہتری آئی اور ان نتائج کی آزادانہ نگرانی کیسے کی گئی۔
ملالہ فنڈ کی ویب سائٹ پر مالی دستاویزات اور آڈٹ شدہ بیانات دستیاب ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ادارے نے افغانستان میں متبادل تعلیم اور لڑکیوں کے تعلیمی حقوق کے لیے مالی معاونت اور وکالت پر مبنی سرگرمیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن کسی منصوبے کے لیے رقم مختص کرنے، کسی بین الاقوامی تنظیم کو گرانٹ دینے اور اس رقم کے نتیجے میں زمین پر حقیقی تبدیلی آنے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ اس لیے مالی شفافیت کا تقاضا صرف اعداد و شمار شائع کرنا نہیں بلکہ منصوبوں کی تکمیل، مستفید ہونے والی طالبات، مقامی شراکت داروں اور حاصل ہونے والے نتائج کی قابلِ تصدیق تفصیلات فراہم کرنا بھی ہے۔
ملالہ فنڈ کے مالی معاملات پر اٹھنے والے سوالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملالہ یوسفزئی اور میگھن مارکل کے درمیان تعاون اور ایک برانڈ کی مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدن فنڈ کو دینے کے اعلان پر بھی سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے۔ بعض معروف شخصیات نے اس شراکت داری پر تنقید کی، جبکہ ناقدین نے ملالہ کی عوامی شناخت اور ان کے ادارے کے اخراجات کے درمیان تعلق پر سوالات اٹھائے۔ تاہم ان مباحث کو مالی بدعنوانی کے ثابت شدہ شواہد سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
