خیبرپختونخوا حکومت کے خاتمے کے باوجودPTIپنجاب میں احتجاج سے انکاری کیوں؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو توقع تھی کہ پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں میں احتجاجی سرگرمیاں تیز کرکے وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا جائے گا، لیکن عملی طور پر پارٹی کی متبادل حکمتِ عملی بھی مشکلات کا شکار ہوگئی۔ مبصرین کے مطابق، پنجاب میں اہم رہنماؤں کا احتجاج سے گریز، قیادت کے درمیان رابطوں کی کمی، گرفتاریوں کا خدشہ اور دفعہ 144 کی پابندیوں نے پی ٹی آئی کے لیے صورتِ حال مزید پیچیدہ بنا دی۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب خیبرپختونخوا میں پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو پنجاب کی قیادت نے سڑکوں پر نکلنے سے گریز کیوں کیا، اور کیا پارٹی کے پاس احتجاج جاری رکھنے کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ موجود تھا؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں، 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا اسلام آباد لانگ مارچ پی ٹی آئی کی ایک اہم سیاسی مہم تھی، جس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کررہے تھے۔ عمران خان کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کی اجازت اس احتجاج کے بنیادی مطالبات تھے۔ قافلہ لکی مروت سے کرک، کوہاٹ، پشاور، چارسدہ اور مردان سے ہوتا ہوا صوابی کی جانب بڑھ رہا تھا، جہاں بڑے اجتماع اور مارچ کے اگلے مرحلے کے اعلان کی توقع تھی۔

مبصرین کے مطابق، 11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور پورے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ نے احتجاجی منصوبے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق، پولیس اور انتظامیہ کی کارروائیوں کے دوران مختلف علاقوں میں کارکن گرفتار ہوئے، جبکہ متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ نتیجتاً صوابی میں متوقع اجتماع منعقد نہ ہوسکا اور مارچ کی پیش قدمی رک گئی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے پہلے ہی متبادل حکمتِ عملی تیار کی تھی، جس کے تحت خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں احتجاج مختلف شہروں میں جاری رکھا جانا تھا۔ لاہور میں لطیف کھوسہ اور حافظ فرحت عباس، کراچی میں سابق صدر عارف علوی، ڈیرہ اسماعیل خان میں علی امین گنڈاپور اور ملتان میں علی زین قریشی کو احتجاجی سرگرمیوں کی ذمہ داریاں دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اس منصوبے کا سب سے کمزور پہلو یہ تھا کہ اجتماعی اجلاس میں حمایت کے باوجود عملی وقت آنے پر متعدد رہنما احتجاج کے لیے باہر نہ نکلے۔ رپورٹ کے مطابق، لطیف کھوسہ نے لاہور میں دفعہ 144 کے نفاذ اور ممکنہ گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے ریلی کی قیادت سے انکار کیا، جبکہ عارف علوی، علی امین گنڈاپور اور علی زین قریشی بھی متوقع احتجاجی سرگرمیاں شروع نہ کرسکے۔ پارٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض رہنماؤں نے رابطے بھی منقطع کرلیے تھے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں، پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ اور گرفتاریوں کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے احتجاج کے دوران کارکنوں کی حفاظت، قانونی پابندیوں اور انتظامی ردعمل کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم، اگر قیادت نے متبادل احتجاج کا فیصلہ کیا تھا تو اس کے لیے واضح ذمہ داریاں، رابطوں کا مؤثر نظام اور متبادل مقامات و طریقۂ کار طے کرنا بھی ضروری تھا۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس صورتِ حال میں مرکزی قیادت اور صوبائی رہنماؤں کے درمیان اعتماد اور رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر رہنماؤں نے پہلے احتجاج کی حمایت کی لیکن عملی مرحلے پر پیچھے ہٹ گئے تو اس کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیا یہ فیصلہ گرفتاریوں کے خدشے کے باعث کیا گیا، کیا قیادت کو کارکنوں کی مناسب تعداد جمع ہونے کا یقین نہیں تھا، یا پارٹی کے پاس وفاقی حکومت کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے واضح منصوبہ موجود نہیں تھا؟ دستیاب رپورٹ ان سوالات کو جنم دیتی ہے، تاہم ان کے حتمی جواب کے لیے متعلقہ رہنماؤں کا مؤقف بھی ضروری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اس پورے معاملے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سیاسی احتجاج صرف اعلانات اور اجلاسوں سے کامیاب نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی، قیادت کی عملی موجودگی، کارکنوں سے رابطہ اور بدلتے حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد پنجاب میں احتجاج نہ ہونا پی ٹی آئی کے لیے تنظیمی اور سیاسی سطح پر ایک اہم سوال بن گیا ہے: کیا پارٹی اپنے احتجاجی فیصلوں کو عملی تحریک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یا قیادت اور کارکنوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اس کی سیاسی مہمات کو محدود کررہا ہے؟

Back to top button