خیبر پختونخوا میں بھی PTI قیادت منظرِ عام سے غائب کیوں؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صورتحال نے تحریک انصاف کی قیادت کو ایک نئے سیاسی امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ صوبے میں پارٹی رہنماؤں کی سرگرمیوں، ممکنہ اجتماعی استعفوں، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور عوامی ردعمل کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کے معاملے پر مشاورت کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج نہ ہونے کو بھی سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جبکہ پشاور میں موجود پنجاب اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماؤں کی سرگرمیوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بڑے احتجاجی مظاہروں کی عدم موجودگی نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ تحریک انصاف ماضی میں خیبر پختونخوا، بالخصوص پشاور، میں اپنی مضبوط عوامی حمایت کا دعویٰ کرتی رہی ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں پارٹی کی احتجاجی حکمت عملی اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق مختلف خبریں، تصاویر اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ان میں بعض مواد جعلی، غلط یا گمراہ کن ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر پولیس، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے مواد کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور قانونی کارروائی کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ تاہم اس معاملے میں ضروری ہے کہ غلط معلومات پھیلانے اور محض اختلافی سیاسی مؤقف اختیار کرنے کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔ کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی مستند شواہد اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے، جبکہ صحافتی آزادی اور پرامن سیاسی اظہار کا تحفظ بھی اہم ہے۔

صوبے میں انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ایم پی ایز ہاسٹل، بعض دفاتر اور شاہی مہمان خانے کو بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پشاور میں تعلیمی اداروں اور دفاتر کے کھلنے اور بی آر ٹی سروس کی بحالی کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔ ٹرانس پشاور انتظامیہ کے مطابق بس سروس کے مرکزی اور فیڈر راستوں پر معمول کے مطابق سفری سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اگر یہ انتظامی سرگرمیاں معمول پر آ رہی ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باوجود روزمرہ زندگی اور شہری سہولتوں کو برقرار رکھنا حکام کی ترجیحات میں شامل ہے۔

تحریک انصاف کے لیے سب سے اہم سیاسی سوال اجتماعی استعفوں کا معاملہ بن سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنما اس آپشن پر غور اور باہمی مشاورت کر رہے ہیں، تاہم فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ اجتماعی استعفوں کا اعلان بظاہر احتجاج کی ایک بڑی سیاسی حکمت عملی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے نتائج پارٹی کے اندرونی اتحاد، پارلیمانی نمائندگی اور آئندہ سیاسی مذاکرات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر بعض ارکان استعفے دینے سے گریز کرتے ہیں یا اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہیں تو پارٹی کو داخلی اختلافات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے قیادت کے لیے یہ فیصلہ محض احتجاجی اعلان نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی کا ایک اہم مرحلہ ہوگا۔

اسی دوران عوامی حلقوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید اور گورنر راج کے بعد بعض مقامات پر خوشی کے اظہار کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پشاور سمیت کچھ علاقوں میں لوگوں نے ریلیاں نکالیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں، جبکہ بعض افراد نے 11 اکتوبر کو یومِ نجات قرار دیا۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں سیاسی ردعمل یکساں نہیں اور تحریک انصاف کی حمایت کے ساتھ اس کی حکومتی کارکردگی سے متعلق شکایات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان واقعات کی وسعت، شرکا کی تعداد اور عوامی رجحانات کا درست اندازہ لگانے کے لیے آزادانہ رپورٹنگ اور قابلِ اعتماد شواہد درکار ہیں۔

مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال تحریک انصاف کے لیے سیاسی حکمت عملی، تنظیمی یکجہتی اور عوامی رابطے کے حوالے سے ایک اہم مرحلہ ہے۔ اجتماعی استعفوں کا فیصلہ پارٹی کے لیے احتجاج کا نیا راستہ کھول سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ پارلیمانی نمائندگی، اندرونی اختلافات اور آئندہ سیاسی کردار سے متعلق پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اقدامات، انتظامی فیصلوں اور سوشل میڈیا کے مواد پر کارروائی کے حوالے سے قانونی جواز اور شفافیت کو یقینی بنائے۔ آنے والے دنوں میں اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ تحریک انصاف اجتماعی استعفوں کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے، اس کے ارکان اس فیصلے پر کس حد تک متفق رہتے ہیں اور صوبے میں سیاسی حالات آئینی و قانونی دائرے میں کس سمت آگے بڑھتے ہیں۔

Back to top button