سہیل آفریدی ڈٹے تو مگر اپنے بیس کیمپ سے ہٹ بھی گئے

تحریر: نصرت جاوید
فوری نوعیت کے چند مسائل کی وجہ سے پیر کی صبح یہ کالم لکھا نہیں۔ سوشل میڈیا پر چھائے تلنگوں نے مگر یہ فرض کرلیا کہ ’’ٹائوٹ‘‘ صحافی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی جمع گورنر راج پر تبصرہ آرائی سے گھبرا رہا ہے۔ ان میں سے کئی افراد واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے یہ بھی دریافت کرتے رہے کہ پیپلز پارٹی کو جمہوریت کی واحد نمائندہ جماعت تصور کرتا یہ ’’جیالا‘‘ صدر زرداری کی جانب سے اپنی ہی جماعت کے فیصل کریم کنڈی کے ہاتھوں منتخب حکومت کی معطلی کے بارے میں کیا محسوس کرتا ہے۔ ’’…کس منہ سے جائو گے غالب‘‘؟ والے سوال کے ساتھ پوچھے ایسے سوالات نے اشتعال دلانے کے بجائے مشکل کی گھڑی میں مسکرانے کی سہولت فراہم کی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ سے قطعی نآشنا دورِ حاضر کے خود ساختہ انقلابیوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ صحافت کو اپنے رزق کا واحد ذریعہ بنانے کے پہلے دن سے خود کو میسر آزادی صحافت کی حدود میں رہتے ہوئے دہراتا رہا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے زوال کا آغاز اس دن سے ہوا جب وہ ماضی کے صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں کو گورنر راج کے ذریعے برطرف کرنے کو مجبور ہوئے۔ تاریخ کا جبر یہ بھی ہوا کہ ان دو صوبوں کی واحد اکثریتی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کو بالآخر سپریم کورٹ کے ہاتھوں ’’وطن دشمن‘‘ ٹھہرادلوادیا گیا تھا۔ نیپ پر پابندی لگی تو ولی خان سمیت اس جماعت کے دیگر رہ نمائوں کے خلاف غداری اور بغاوت کے مقدمات قائم ہوئے۔ ان کی سماعت کے لئے حیدر آباد ٹربیونل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ حیدر آباد جیل میں مذکورہ مقدمات کی سماعت کے لئے قائم ہوا تھا۔ ابھی ان مقدمات کی سماعت جاری تھی تو انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک کے نتیجے میں جولائی 1977ء کا مارشل لا نافذ ہوگیا۔ جنرل ضیاء نے اس مارشل لاء کے تحت اقتدار سنبھالنے کے چند ہی روز بعد حیدر آباد ٹربیونل توڑ دیا۔ ولی خان کے خلاف مقدمات ختم کردیے گئے اور بعدازاں انہیں بیگم نسیم ولی خان سمیت اپنے ہاں پرتکلف ظہرانے کے لئے مدعو کیا۔ وہاںسے لوٹنے کے بعد ولی خان جیسے جہاںدیدہ سیاستدان بھی انتخاب سے پہلے احتساب کے حامی ہوگئے۔ جنرل ضیاء کو یوں انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا بہانہ مل گیا۔ تاریخ کا جبر یہ بھی ہے کہ انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوئے ولی خان بھی بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا مل جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) نامی اتحاد میں شمولیت کو مجبور ہوئے۔ جمعیت العلمائے اسلام بھی اس اتحادی میں شامل ہوئی۔
ماضی پر نگاہ رکھتے ہوئے بارہا اس کالم میں اصرار کیا ہے کہ ہمارے ہاں سیاست نہیں محلاتی سازشیں ہوتی ہیں۔ آج کے طفلان انقلاب کے مرشد اور مربی کا 2014ء میں اسلام آباد کی پارلیمان کے سامنے دیا اور 126دنوں تک پھیلا دھرنا بھی واجب بنیادوں پر اٹھی خودرو سیاسی تحریک نہیں تھی۔ بنیادی مقصد اس کا تیسری بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر پہنچے نواز شریف کو کامل اختیارات سے محروم رکھنا تھا۔
محلاتی سازش ہی نے بالآخر نواز شریف کو پانامہ دستاویز کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے ہاتھوں فارغ کروایا۔ ان کی فراغت کے بعد ہوئے انتخاب نے 2018ء میں عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر پہنچایا۔ وہاں پہنچنے کے بعد وہ ’’سیم پیج‘‘ کے خمار میں مبتلا رہے۔ ’’سیم پیج‘‘ مگر اکتوبر2021ء کے بعد ’’سیم‘‘ نہ رہا۔ ایک اور محلاتی سازش ہوئی اور اپریل 2022ء میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی۔
’’سیم پیج‘‘ کی برکتوں سے محروم ہوجانے کے بعد بانی تحریک انصاف نے اپنی مقبولیت کی بنیاد پر تخت گرانے اور تاج اچھالنے کی کاوشیں شروع کردیں۔ سیاسی لیڈر کی مقبولیت مگر اپنے تئیں تخت گرانے کے قابل نہیں ہوتی۔ اسے بھی محلاتی سازش درکار ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں سوچ سمجھ کر اپنائی حکمت عملی جو ’’ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے‘‘ کی گنجائش فراہم کرتی رہے۔ بانی تحریک انصاف فقط اپنی مقبولیت پر تکیہ کرتے رہے اور بالآخر جیل چلے جانے کے بعد بتدریج عوامی رابطے سے محروم ہونا شروع ہوگئے۔
عوامی منظر نامے سے ہٹائے جانے کے بعد تحریک انصاف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کا بدترین بحران پیدا ہوچکا ہے۔ مصلحت پسندی نہیں ٹھوس حقائق کا تقاضا تھا کہ فروری 2024ء کے بعد نمودار ہوئے حکومتی بندوبست کے نتیجے میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ خیبرپختونخوا میں قائم ہوئی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ہر صورت برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ ترکی کے صدر اردگان کا تعلق جس جماعت سے رہا وہ اکثر کالعدم ٹھہرائی گئی۔ اس کی قیادت عموماََ زیر اعتاب رہی۔ اردگان مگر نہایت صبروتحمل سے استنبول کے میئر منتخب ہوجانے کے بعد اپنے عہدے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ بطور میئر انہوں نے اپنے اختیارات کو کمال ذہانت سے استنبول کی پہاڑیوں میں قائم کچی بستیوں کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق اور شہری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ یوں استنبول جیسے ’’لبرل‘‘ شہر میں اپنے لئے طاقت ور ووٹ بینک کے قیام میں کامیاب ہوئے۔
بدقسمتی سے کسی نہ کسی طرح پاکستان سے بیرون ملک منتقل ہوئے عمران خان کے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوئے حمایتی یوٹیوب کے ذریعے حکم صادر فرمارہے کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت اپنے زیر نگین علاقے کو ’’بیس کیمپ‘‘ کی صورت استعمال کرے۔ یہاں سے صوبائی حکومت کے وسائل کے بھرپور استعمال کے ساتھ ہوئی اسلام آباد پر یلغار عمران خان کو جیل سے رہائی یقینی بناسکتی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے یوٹیوب پر چھائے ذہن سازوں کی تیار کردہ حکمت عملی پر دوبارہ عمل کیا۔ آخری بار بانی تحریک انصاف کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ اسلام آباد داخل ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔ ’’اٹک کے اس پار سے اسلام آباد پر یلغار‘‘ کا تصور وفاقی حکومت کو مذکورہ یلغار کو پسپا کرنے کے لئے ریاستی قوت کے بے رحم استعمال کا جواز فراہم کرتا ہے۔ وہ استعمال ہوئی۔ علی امین گنڈاپور مستعفی ہونے کو مجبور ہوئے اور سہیل آفریدی کو ’’وفاداری نبھانے کے لیے‘‘ وزیر اعلیٰ منتخب کرلیا گیا۔
منصف مزاجی کا تقاضا ہے کہ کھل کر اعتراف کیا جائے کہ آفریدی نے تحریک انصاف کے انتہا پسندوں کے تمام تر دبائو کے باوجود ’’اٹک کے اس پار سے ایک اور یلغار‘‘ کے تصور سے گریز کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے سندھ اور پنجاب کے دورے مگر ملک گیر احتجاج کے توقع دلوانے میں ناکام رہے۔ بالآخر وہ اسلام آباد کی جانب ایک اور مارچ کا اعلان کرنے کو مجبور ہوگئے۔ ’’آخری معرکے‘‘ کو حیلے بہانوں سے ٹالتے بھی رہے کیونکہ ان ہی کی جماعت کے معتدل مزاج رہ نمائوں کو امید تھی کہ وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے عمران خان کی رہائی تو نہیں مگر جیل میں رسائی تک کی سہولتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔
مذاکرات کے دوران مگر وفاقی حکومت نے ہوشیاری اور چالاکی سے دہشت گردی کو خیبرپختونخوا کا کلیدی مسئلہ قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کا تقاضا شروع کردیا۔ سہیل آفریدی اس کے لیے آمادہ ہوجاتے تو عمران خان کی طالبان کے حوالے سے سوچ کے ’’غدار‘‘ تصور ہوتے۔ جواں سال آفریدی اپنی وفاداری ثابت کرنے کو ڈٹ گئے اور تحریک انصاف ’’بیس کیمپ‘‘ سے محروم ہوگئی۔ بیس کیمپ سے محرومی کے بعد اسے نئے بحران کا سامنا ہے۔ ایمرجنسی جمع گورنرراج کے ذریعے متعارف ہوئے نئے صوبائی بندوبست نے مگر وفاقی حکومت کے لئے بھی کئی مشکلات کھڑی کردی ہیں جن سے نبردآزما ہونے میں ناکامی کے اثرات تاریخی اور ملک گیر ہوں گے۔
