گورنر راج کے نفاذ نے PTIکی عوامی مقبولیت کا غبارہ کیسے پنکچر کیا؟

تحریک انصاف کی مقبولیت کے دعووں اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ملک گیر احتجاج کی محدود سرگرمیوں نے پارٹی کی تنظیمی صلاحیت، قیادت کے باہمی رابطوں اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی حکمت عملی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سندھ، پنجاب، بلوچستان اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے، لیکن متعدد شہروں میں کوئی بڑا عوامی اجتماع سامنے نہیں آیا۔ کہیں قیادت کے بیانات تک ردعمل محدود رہا، کہیں احتجاجی مقامات پر کارکنوں کی حاضری کم دکھائی دی اور کہیں پارٹی رہنماؤں سے رابطہ ہی ممکن نہ ہو سکا۔

یہ صورت حال اس لیے بھی توجہ طلب ہے کہ تحریک انصاف ماضی میں بڑے عوامی اجتماعات اور احتجاجی تحریکوں کے ذریعے اپنی سیاسی قوت کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ گورنر راج جیسے اہم سیاسی فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال مؤثر انداز میں کیوں سامنے نہ آ سکی؟ کیا اس کی بنیادی وجہ قیادت کی عدم موجودگی، گرفتاریوں کا خوف اور مقدمات کا دباؤ ہے، یا پارٹی کے اندر تنظیمی کمزوری اور واضح حکمت عملی کا فقدان بھی اس صورت حال میں کردار ادا کر رہا ہے؟

کراچی میں تحریک انصاف ماضی میں بڑے جلسے منعقد کرتی رہی ہے اور عمران خان سمیت پارٹی قیادت کو یہاں نمایاں عوامی پذیرائی بھی ملتی رہی۔ رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی کے کراچی دورے کے موقع پر بھی ان کا استقبال کیا گیا، لیکن خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ تحریک انصاف کے سابق کراچی صدر راجہ اظہر نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج اور پارٹی قیادت کے خلاف اقدامات غیر آئینی ہیں اور کارکن پرامن جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق مرکزی قیادت کی ہدایت ملتے ہی سندھ بھر میں احتجاج شروع کیا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ مؤقف ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر کارکن احتجاج کے لیے تیار ہیں تو انہیں متحرک کرنے کے لیے واضح لائحہ عمل اور عملی قیادت کب فراہم کی جائے گی؟ سیاسی جماعتوں میں مرکزی قیادت کی ہدایات اہم ہوتی ہیں، لیکن ایک مضبوط تنظیم کی پہچان یہ بھی ہے کہ وہ ہنگامی حالات میں مقامی سطح پر رابطہ کاری اور سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کی موجودہ صورت حال میں گرفتاریوں کا خوف، مقدمات اور تنظیمی کمزوری اہم عوامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں واضح چین آف کمانڈ دکھائی نہیں دیتا اور قیادت کی عدم موجودگی میں کارکنوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کہاں اور کس وقت پہنچنا ہے۔ ان کے مطابق محض بیانات جاری کرنے سے احتجاجی تحریک نہیں چلائی جا سکتی؛ اس کے لیے مقام، وقت، ذمہ دار افراد اور واضح حکمت عملی کا اعلان ضروری ہے۔

یہ نکتہ احتجاجی سیاست کی عملی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کسی جماعت کے حامیوں کی تعداد اور ان حامیوں کو کسی مخصوص وقت پر سڑکوں پر لانے کی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔ سیاسی مقبولیت کا دعویٰ اپنی جگہ، لیکن احتجاج کی کامیابی کے لیے تنظیمی ڈھانچہ، کارکنوں سے مسلسل رابطہ، قیادت کا اعتماد اور واضح اہداف بھی درکار ہوتے ہیں۔ اگر کارکنوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ احتجاج کہاں ہونا ہے اور اس کی قیادت کون کرے گا تو ان کی ممکنہ حمایت عملی سرگرمی میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔

تاہم پی ٹی آئی قیادت اس صورت حال کو طویل سیاسی جدوجہد سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ون ڈے یا ٹی 20 نہیں بلکہ ٹیسٹ میچ ہے۔ ان کے مطابق کراچی کی قیادت کارکنوں کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور صوبے میں موجود رہنما اعلیٰ قیادت کی ہدایات کے منتظر ہیں۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے بعض رہنما فوری اور بڑے احتجاج کے بجائے طویل سیاسی حکمت عملی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم اس حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انتظار کے دوران تنظیمی رابطے اور کارکنوں کی سرگرمیاں کس حد تک برقرار رہتی ہیں۔

کراچی میں دفعہ 144 کے نفاذ نے بھی احتجاجی سرگرمیوں کے لیے قانونی اور انتظامی رکاوٹیں پیدا کیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق شہر میں 20 اکتوبر تک جلسے، جلوس، ریلیوں، مظاہروں اور دھرنوں پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ 5 سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی کا ذکر کیا گیا۔ ایسے اقدامات سیاسی جماعتوں کے لیے احتجاج منظم کرنا مشکل بنا سکتے ہیں، تاہم ان پابندیوں کے اثرات اور قانونی حیثیت کا جائزہ متعلقہ نوٹیفکیشن اور قانون کے مطابق لیا جانا چاہیے۔ اس لیے احتجاج نہ ہونے کو صرف کارکنوں کی عدم دلچسپی سے تعبیر کرنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

بلوچستان میں بھی گورنر راج کے خلاف تحریک انصاف کی جانب سے کسی بڑے احتجاج کی اطلاع نہیں ملی۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی رہنماؤں سے رابطے کی کوششوں کے دوران متعدد فون بند ملے، جبکہ بعض فعال نمبروں سے جواب موصول نہیں ہوا۔ بلوچستان میں تحریک انصاف کو دیگر بڑی جماعتوں کے مقابلے میں محدود سیاسی اثرورسوخ اور تنظیمی اختلافات جیسے مسائل کا سامنا رہنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی اہم سیاسی فیصلے کے خلاف منظم احتجاج نہ ہونا پارٹی کے صوبائی ڈھانچے اور رابطہ کاری پر سوالات اٹھاتا ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اتحادی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے بھی بلوچستان میں کوئی نمایاں احتجاج سامنے نہیں آیا۔ اس صورت حال میں سوال صرف تحریک انصاف کی تنظیمی قوت کا نہیں بلکہ ان اتحادی جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی کا بھی ہے جو آئینی اور سیاسی معاملات پر مل کر جدوجہد کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اگر اتحادی جماعتیں کسی مشترکہ مؤقف پر متفق ہیں تو اس مؤقف کو عملی سیاسی سرگرمی میں تبدیل کرنے کے لیے باہمی رابطہ اور واضح تقسیمِ ذمہ داری ضروری ہوتی ہے۔

پنجاب میں لاہور کے لبرٹی چوک پر احتجاج کی کال کے باوجود، رپورٹ کے مطابق، مقررہ وقت پر کوئی نمایاں اجتماع دیکھنے میں نہیں آیا۔ نہ مرکزی قیادت کا کوئی بڑا رہنما وہاں موجود تھا اور نہ ہی کارکنوں کی قابلِ ذکر تعداد پہنچ سکی۔ ذرائع کے مطابق لاہور کے بعض سینیئر رہنما گرفتاریوں کے خدشے کے باعث منظر عام پر نہیں آ رہے۔ ذرائع نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ جب کارکنوں کی رہنمائی کرنے والے رہنما ہی سامنے نہ ہوں تو کارکنوں کو متحرک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ مؤقف پارٹی کی موجودہ مشکلات کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ سیاسی کارکنوں سے قربانی اور جدوجہد کی توقع رکھنے والی قیادت پر بھی لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو واضح سمت دے اور مشکل حالات میں رابطے کا مؤثر نظام برقرار رکھے۔ اگر سینیئر رہنما گرفتاریوں کے خدشات کے باعث محدود سرگرمیاں اختیار کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مقامی تنظیمیں بھی غیر یقینی کا شکار ہو سکتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ تحریک انصاف اپنی مقبولیت کے دعوے کو ایک منظم سیاسی تحریک میں کس طرح تبدیل کرتی ہے۔ کیا پارٹی اپنے صوبائی اور ضلعی ڈھانچوں کو فعال بنا کر کارکنوں سے براہِ راست رابطہ بحال کرے گی، کیا مرکزی قیادت واضح حکمت عملی کا اعلان کرے گی، اور کیا اتحادی جماعتیں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں گی؟ ان سوالات کے جواب آنے والے دنوں کی سیاسی سرگرمیوں سے سامنے آ سکتے ہیں۔

 

 

Back to top button