پاک افغان سرحد کی بندش نے تاجروں کی چیخیں کیسے نکلوائیں؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا اس پالیسی سے دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی، یا دونوں ممالک کی معیشت، تجارت اور سرحدی آبادیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا؟ پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں اور افغانستان کی سرزمین سے مبینہ حملوں کے تناظر میں کابل پر دباؤ بڑھانے کے لیے سرحدی آمدورفت محدود کی، لیکن اگر سکیورٹی خدشات برقرار ہیں اور دوسری طرف اربوں ڈالر کی تجارت متاثر ہو چکی ہے تو اس حکمت عملی کے نتائج کا غیر جانب دارانہ جائزہ ناگزیر ہے۔ قومی سلامتی یقیناً اولین ترجیح ہے، لیکن کسی بھی پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس سے مطلوبہ سکیورٹی نتائج کس حد تک حاصل ہوئے اور اس کی معاشی و سماجی قیمت کتنی ادا کرنا پڑی۔
سرحدی بندش کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان کو سکیورٹی کے حوالے سے کچھ ریلیف ملنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم یہ بہتری مستقل ثابت نہیں ہوئی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق نومبر اور دسمبر 2025 میں سرحد پار حملوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، لیکن 2026 کے دوران تشدد میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں تیسری سہ ماہی کے دوران تشدد سے ہونے والی اموات میں 83 فیصد اضافے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد بند کرنا بذات خود دہشت گردی کے خاتمے کی ضمانت نہیں۔ جب تک دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی، مؤثر سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور ذمہ داری کے تعین کا قابل عمل نظام قائم نہیں ہوتا، محض تجارتی راستوں کی بندش سے پائیدار امن حاصل کرنا مشکل رہے گا۔
مبصرین کے بقول اس پالیسی کی معاشی قیمت بھی غیر معمولی رہی ہے۔ افغانستان کے لیے پاکستان ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ راستہ رہا ہے، لیکن طویل بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور سرحدی کاروبار کو شدید متاثر کیا۔ فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2022-23 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت 102,886 کنٹینرز کی نقل و حرکت ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 6.7 ارب ڈالر تھی۔ مالی سال 2025-26 میں یہ تعداد کم ہو کر 11,592 کنٹینرز اور مالیت تقریباً 367 ملین ڈالر رہ گئی۔ یوں کنٹینر ٹریفک میں مالی سال 2022-23 کے مقابلے میں تقریباً 89 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ اس کمی کا رجحان سرحدی بندش سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا، لیکن بعد کے اعدادوشمار تجارت پر پڑنے والے شدید دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق نقصانات صرف درآمدات اور برآمدات تک محدود نہیں رہے۔ کراچی کی بندرگاہوں سے لے کر پشاور، کوئٹہ، طورخم اور چمن تک ٹرانسپورٹرز، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں کے مالکان، مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کا روزگار متاثر ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 کے دوران تقریباً 10 ہزار ٹرانزٹ کنٹینرز پاکستان میں پھنسے رہے، جس کے نتیجے میں تاجروں کو اضافی جرمانوں، مال برداری کے اخراجات اور خراب ہونے والی اشیا کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کی جانب سے ستمبر 2026 میں تقریباً 2.5 ارب ڈالر کے مجموعی تجارتی نقصان کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا، تاہم مختلف اداروں کے اعدادوشمار الگ الگ ادوار اور طریقہ کار پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں ایک حتمی اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ رقم نہیں سمجھنا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ سرحدی بندش نے افغانستان کو متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ افغانستان نے ایران کی چابہار بندرگاہ اور وسطی ایشیائی راستوں کے ذریعے تجارت بڑھانے کی کوشش کی، جس سے پاکستان کا روایتی ٹرانزٹ کردار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ یہ درست ہے کہ متبادل راستے افغان تاجروں کے لیے زیادہ فاصلے اور اضافی اخراجات کا باعث بن سکتے ہیں، لیکن ایک بار جب کاروباری برادری نئے راستوں، سپلائی چین اور تجارتی شراکت داروں سے مطمئن ہو جائے تو سابقہ تجارتی تعلقات بحال کرنا آسان نہیں رہتا۔ یوں سرحدی بندش کا نقصان وقتی تجارت سے آگے بڑھ کر پاکستان کے علاقائی تجارتی اثر و رسوخ تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی ریاست کے لیے یہ قابل قبول نہیں کہ اس کی سرزمین پر دہشت گرد حملے ہوں اور وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہ کرے۔ اگر پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود عناصر اس کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں تو کابل سے قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ کرنا اس کا جائز سکیورٹی مفاد ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے ایسی حکمت عملی درکار ہے جو دہشت گردی کے خطرات کو براہ راست ہدف بنائے اور جائز تجارت و روزگار کو غیر ضروری طور پر متاثر نہ کرے۔
اس کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر اور قابل تصدیق سکیورٹی نظام، مشترکہ رابطہ کاری، معلومات کے تبادلے، سرحدی واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور خلاف ورزیوں کے تعین کا واضح طریقہ کار ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ تجارتی راستوں کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھنے، سرحدی گزرگاہوں پر سامان کی نگرانی بہتر بنانے اور ہنگامی حالات میں محدود مگر محفوظ تجارت جاری رکھنے کے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس عمل میں دونوں جانب کے تاجروں، کاروباری تنظیموں اور سرحدی آبادیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان افغان سرحد کی بندش کے ایک سال سے زیادہ عرصے کا جائزہ محض اس بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا کہ کس ملک کو زیادہ معاشی نقصان پہنچا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی میں پائیدار کمی آئی، کیا پاکستانی شہریوں کی سلامتی بہتر ہوئی اور کیا مستقبل کے لیے کوئی مؤثر نظام تشکیل پایا؟ اگر سکیورٹی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئے، جبکہ تجارت اور روزگار کو بھاری نقصان پہنچا ہے، تو پالیسی پر نظرثانی اور زیادہ مؤثر متبادل تلاش کرنا دانش مندی ہوگی۔ پاکستان کو ایسی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ علاقائی تجارت، روزگار اور وسطی ایشیا تک رسائی کے مواقع بھی محفوظ رکھے۔ سرحدوں کی بندش دباؤ کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار امن کے لیے مؤثر سفارت کاری، قابل تصدیق سکیورٹی تعاون اور معاشی مفادات میں توازن ناگزیر ہے۔
