KPKمیں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اب آگے کیا ہو گا؟

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاست ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف کے 13 سالہ دور اقتدار کے خاتمے اور گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل کے قیام نے سیاسی منظرنامہ بدل دیا ہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی حکومت اپنے انتظامی بندوبست کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگی یا تحریک انصاف اپنی عوامی طاقت کے ذریعے اس فیصلے کو چیلنج کر سکے گی؟
تحریک انصاف کی قیادت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف بھرپور عوامی مزاحمت کی توقع ظاہر کی تھی۔ سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ترکی کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں گے، جبکہ جنید اکبر نے بھی وفاقی حکومت کے لیے حالات مشکل بنانے کی بات کی تھی۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی کے بعد پشاور سمیت صوبے کے بڑے شہروں میں کوئی بڑا احتجاجی مظاہرہ سامنے نہیں آیا۔ مردان میں لانگ مارچ کے شرکا کی واپسی اور دیگر مقامات پر محدود احتجاج نے تحریک انصاف کی مزاحمتی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ترکی کی مثال اور خیبر پختونخوا کی صورت حال میں بنیادی فرق یہ ہے کہ عوامی مزاحمت محض سیاسی اعلانات سے جنم نہیں لیتی، بلکہ اس کے لیے منظم قیادت، واضح حکمت عملی اور مسلسل عوامی رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ طویل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث کارکنوں کی تھکن، قیادت کے درمیان عدم ہم آہنگی اور گرفتاریوں کے دباؤ نے بھی تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ کیا ہو سکتا ہے۔ تاہم پارٹی کی سیاسی طاقت کا حتمی اندازہ آنے والے دنوں میں اس کی تنظیمی سرگرمیوں اور عوامی ردعمل سے ہی لگایا جا سکے گا۔
دوسری طرف وفاقی حکومت نے بظاہر متبادل انتظامی بندوبست کی تیاری پہلے سے کر رکھی تھی۔ مشاورتی کونسل کے قیام، انتظامی تبادلوں اور سرکاری امور کی بحالی نے اسے ابتدائی برتری فراہم کی ہے۔ لیکن انتظامی کنٹرول قائم کرنا اور سیاسی بحران کو مستقل طور پر حل کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔ حکومت کو اپنے اقدامات کے آئینی جواز، قانونی اعتراضات اور عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تحریک انصاف کی مشکلات میں ایک اہم پہلو سیاسی تنہائی بھی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایمرجنسی کے خلاف کسی مشترکہ احتجاجی تحریک کا سامنے نہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ تحریک انصاف فی الحال وسیع سیاسی اتحاد قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمٰن سمیت مختلف رہنماؤں کے بیانات کے باوجود کسی بڑے مشترکہ احتجاج کی عدم موجودگی نے وفاقی حکومت کے لیے دباؤ کم رکھا ہے۔ تاہم دوسری جماعتوں کی عدم شرکت کو حکومتی فیصلے کی مکمل حمایت تصور کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی کب ختم ہوگی اور خیبر پختونخوا میں مستقبل کا سیاسی بندوبست کیا ہوگا؟ اس بارے میں فی الحال حتمی پیش گوئی ممکن نہیں۔ اگر وفاقی حکومت انتظامی کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو موجودہ صورت حال طویل ہو سکتی ہے، جبکہ عدالتی کارروائیوں، آئینی اعتراضات اور سیاسی مذاکرات کے نتیجے میں نئی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ کسی بھی ممکنہ آئینی ترمیم یا مستقل انتظامی تبدیلی کا انحصار آئندہ اقدامات اور قانونی تقاضوں پر ہوگا۔ مبصرین کے مطابق موجودہ بحران وفاقی حکومت اور تحریک انصاف، دونوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ تحریک انصاف کو جذباتی نعروں کے بجائے منظم سیاسی حکمت عملی، قانونی چارہ جوئی اور عوامی رابطے پر توجہ دینا ہوگی، جبکہ وفاقی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال آئینی حدود اور قانونی تقاضوں کے مطابق کرے۔ آنے والے چند ماہ طے کریں گے کہ یہ بندوبست عارضی سیاسی مرحلہ ثابت ہوتا ہے یا اس پیشرفت سے خیبر پختونخوا کی سیاست میں کسی طویل تبدیلی کا آغاز ہوتا ہے۔
