ملزم نے مصنوعی ذہانت سے طالبہ لائبہ کو 50لاکھ روپے کا چونا کیسے لگایا؟

جعلی امریکی ویزے کا خواب، 50 لاکھ روپے کا فراڈ اور ایک ہونہار طالبہ کی المناک موت؛ لائبہ اعجاز کیس نے آن لائن دھوکا دہی اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے خطرناک پہلو بے نقاب کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ملزم نعمان نے طالبہ کے ساتھ فراڈ کا اعتراف کیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے خود کو بااثر سرکاری افسر ظاہر کرکے لائبہ کو امریکا میں تعلیم کے لیے اسٹڈی ویزا دلوانے کا جھانسہ دیا اور جعلی اکاؤنٹس اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ دستاویزات کے ذریعے تقریباً 50 لاکھ روپے حاصل کیے۔ اس واقعے نے نہ صرف ایک ہونہار طالبہ کے مستقبل کے المناک انجام پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں شناخت کی جعل سازی اور مالی دھوکا دہی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو بھی نمایاں کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ملزم کا لائبہ سے رابطہ رواں سال فروری میں اس کی دوست عائزہ کے ذریعے ہوا۔ لائبہ اور عائزہ نے مل کر آن لائن کاروبار شروع کرنے کی کوشش بھی کی تھی، تاہم یہ کام کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد ازاں لائبہ نے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ویزے کے حوالے سے عائزہ سے بات کی۔ الزام ہے کہ نعمان نے اسی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عائزہ اور اس کے بھائی کے نام سے جعلی ای میل اکاؤنٹس بنائے اور ان کے ذریعے لائبہ سے رابطہ کرتا رہا۔ اس نے مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی سمیت مصنوعی ذہانت کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے امریکی تعلیمی ویزے کی جعلی دستاویزات تیار کیں تاکہ فراڈ کو حقیقی دکھایا جا سکے۔

متوفیہ کے والد سے متعلق اطلاعات کے مطابق لائبہ نے پلاٹ فروخت کرکے حاصل ہونے والی تقریباً 21 لاکھ روپے کی رقم کے علاوہ اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی ملزم کو دیے تھے۔ جب دستاویزات کی حقیقت سامنے آئی تو لائبہ کو مالی نقصان کے ساتھ گھر میں زیورات واپس کرنے کے دباؤ کا بھی سامنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس نے ملزم سے رقم اور زیورات واپس کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن مبینہ طور پر اس کے بعد ملزم نے رابطہ کم کرکے بالآخر منقطع کر دیا۔ اس صورت حال نے لائبہ کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا، جس کے بعد اس نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ تاہم اس واقعے کے تمام محرکات اور ذمہ داری کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے۔

اس کیس کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی، جو تعلیم، تحقیق اور کاروبار میں بے شمار سہولتیں فراہم کر سکتی ہے، اسے مبینہ طور پر جعل سازی اور دھوکا دہی کے لیے استعمال کیا گیا۔ جعلی دستاویزات، فرضی شناخت اور الگ الگ اکاؤنٹس کے ذریعے کسی شخص کا اعتماد حاصل کرنا اب پہلے سے زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک تعلیم، ملازمت، ویزا اور سرمایہ کاری کے معاملات میں کسی ایجنٹ یا فرد کے دعووں پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے براہ راست تصدیق ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق لائبہ اعجاز کا واقعہ محض مالی فراڈ کا معاملہ نہیں بلکہ آن لائن تحفظ، خاندانی تعاون اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق بھی ایک اہم سبق ہے۔ مالی نقصان یا دھوکا دہی کا شکار ہونے والے افراد اکثر شرمندگی، خوف اور سماجی دباؤ کے باعث مدد طلب نہیں کر پاتے۔ ایسے حالات میں خاندان اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ افراد کو الزام دینے کے بجائے ان کی بات سنیں، انہیں تحفظ فراہم کریں اور فوری قانونی و نفسیاتی مدد تک رسائی ممکن بنائیں۔ کسی بھی مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے، لیکن انسانی زندگی کا کوئی متبادل نہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے میں پولیس اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ملزم کے خلاف الزامات کی مکمل تحقیقات کریں، رقم کی منتقلی اور جعلی اکاؤنٹس کے شواہد جمع کریں، ممکنہ سہولت کاروں کے کردار کا تعین کریں اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی بیرون ملک تعلیم کے خواہش مند طلبہ کے لیے ویزا فراڈ سے متعلق آگاہی بڑھانے اور مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

ماہرین کے مطابق لائبہ اعجاز کی المناک موت ایک ایسا سانحہ ہے جسے محض ایک خبر سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاشرے، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ ڈیجیٹل دھوکا دہی کے خلاف تحفظ مضبوط بنایا جائے اور مشکلات میں گھرے نوجوانوں کو بروقت مدد فراہم کی جائے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ذمہ دار افراد کا تعین شواہد کی بنیاد پر ہو، متاثرہ خاندان کو انصاف ملے اور ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی دوسرے گھر کو اس طرح کے ناقابلِ تلافی صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔

Back to top button