اربوں ڈالر کے دفاعی بجٹ کے باوجود سعودیہ حوثی حملوں کو روکنے میں ناکام کیوں؟

سعودی عرب دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو اپنے دفاع پر خطیر رقوم خرچ کرتے ہیں۔ جدید ترین لڑاکا طیارے، امریکی ساختہ پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام، جدید عسکری ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالر کے دفاعی اخراجات کے باوجود اگر ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والا مسلح گروہ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مملکت کے اہم ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور حساس مقامات کے لیے مسلسل خطرہ بنا رہے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر اتنے بڑے دفاعی بجٹ اور جدید ہتھیاروں کے باوجود سعودی عرب حوثیوں کے حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو پا رہا؟ یہ معاملہ محض ہتھیاروں کی برتری یا کمی کا نہیں بلکہ جدید جنگ کی بدلتی ہوئی حکمت عملی، دفاعی نظام کی حدود، جغرافیائی وسعت اور کم لاگت حملہ آور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا بھی عکاس ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 2025 میں اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 6.5 فیصد دفاع پر خرچ کیا، جبکہ اس کا سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 83 ارب ڈالر بتایا گیا۔ اس بھاری خرچ کے ساتھ سعودی عرب دنیا میں فوجی اخراجات کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر رہا۔ مملکت کے پاس امریکی ساختہ ایف 15 لڑاکا طیارے، یورپی ٹائفون جنگی طیارے اور پیٹریاٹ و تھاڈ جیسے جدید میزائل دفاعی نظام موجود ہیں۔ بظاہر یہ عسکری صلاحیت کسی بھی علاقائی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر معمولی سمجھی جا سکتی ہے، لیکن حوثیوں کے حملے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ جدید ہتھیاروں کی موجودگی اور ہر ممکن حملے کو روکنے کی عملی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔

اس مسئلے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت ہے۔ یمن کے حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد اپنے میزائلوں اور بغیر پائلٹ کے ڈرونز کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اب ان کے لیے ضروری نہیں کہ وہ روایتی فضائیہ کی طرح مہنگے لڑاکا طیارے استعمال کریں یا کسی بڑی فوج کے ساتھ براہ راست میدان جنگ میں اتریں۔ نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز، مختلف فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور بیک وقت متعدد سمتوں سے حملے جدید فضائی دفاع کے لیے پیچیدہ صورت حال پیدا کر سکتے ہیں۔ ان کے بعض ہتھیار اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت بھی ظاہر کر چکے ہیں، جو ان کی بڑھتی ہوئی عسکری استعداد کی نشاندہی کرتا ہے۔

جدید فضائی دفاعی نظام انتہائی مؤثر ہونے کے باوجود ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتے۔ کسی میزائل یا ڈرون کو روکنے کے لیے اس کا بروقت پتا چلانا، اس کی پرواز کا راستہ متعین کرنا، خطرے کی سطح کا اندازہ لگانا اور مناسب دفاعی ہتھیار استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر حملہ آور بیک وقت مختلف رفتار اور بلندی پر متعدد اہداف بھیجیں تو دفاعی نظام کو فوری طور پر ترجیحات طے کرنا پڑتی ہیں۔ ایسے حالات میں ایک بھی کامیاب حملہ اہم تنصیبات کو نقصان پہنچانے، معمولات زندگی متاثر کرنے اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ہے؛ سعودی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ متعدد حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔

سعودی عرب کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ اس کا وسیع جغرافیائی رقبہ ہے۔ کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے سکیورٹی تجزیہ کار تھامس جونیو کے مطابق مملکت کا تقریباً 22 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا رقبہ ہر اہم مقام کا مسلسل دفاع مشکل بنا دیتا ہے۔ سعودی عرب کو اپنے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات، فوجی اڈوں، شہری مراکز اور مقدس شہروں کی حفاظت بیک وقت یقینی بنانا ہوتی ہے۔ کسی محدود علاقے یا چند فوجی اڈوں کے دفاع کے مقابلے میں اتنے وسیع خطے کی نگرانی، بروقت اطلاع رسانی اور مؤثر فضائی تحفظ کے لیے کہیں زیادہ وسائل اور مربوط نظام درکار ہوتے ہیں۔

یہاں دفاعی اخراجات کے ایک اہم پہلو کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ 83 ارب ڈالر کا بجٹ اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر میزائل اور ہر ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جائے گا۔ دفاعی صلاحیت کا انحصار صرف خرچ کی گئی رقم پر نہیں بلکہ اس رقم کے استعمال، مقامی عسکری صنعت کی استعداد، تربیت یافتہ افرادی قوت، نگرانی کے نظام، انٹیلی جنس معلومات اور مختلف دفاعی اداروں کے درمیان رابطے پر بھی ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے لیے بیرون ملک سے جدید ہتھیاروں کی درآمد پر انحصار بھی ایک اہم پہلو ہے، کیونکہ جدید دفاعی نظام کی دیکھ بھال، فنی معاونت، پرزوں کی فراہمی اور مسلسل اپ گریڈیشن اپنی جگہ مستقل تقاضے رکھتے ہیں۔ البتہ صرف درآمدی انحصار کو حوثیوں کے حملوں کی ناکامیابی کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

مسلسل حملوں کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق حملہ آور کو ہر مرتبہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر وہ بار بار حملوں کی دھمکی دے کر دفاعی نظام کو متحرک رکھنے پر مجبور کر دے تو بھی اسے اپنے مقصد کا ایک حصہ حاصل ہو سکتا ہے۔ دفاعی میزائلوں کے ذخائر پر دباؤ، نگرانی کے اخراجات میں اضافہ اور حساس تنصیبات کی حفاظت کے لیے اضافی وسائل کی ضرورت حملہ آور کے مقابلے میں دفاع کرنے والے ملک کے لیے بھاری پڑ سکتی ہے۔ بالخصوص جب ایک مہنگا دفاعی میزائل نسبتاً سستے ڈرون کو روکنے کے لیے استعمال ہو تو اخراجات میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود دفاعی حکمت عملی میں صرف مالی لاگت نہیں بلکہ ممکنہ جانی نقصان اور اہم تنصیبات کی حفاظت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

سعودی عرب کے لیے خطرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مملکت اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سیاحت، سرمایہ کاری، تفریح، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں وسعت دینا چاہتی ہے۔ وژن 2030 کے تحت سعودی عرب خود کو عالمی سرمایہ کاری اور سیاحت کا ایک اہم مرکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات یا دیگر اہم مقامات پر حملوں کا خطرہ صرف سلامتی کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ کاروباری اعتماد، سرمایہ کاروں کے فیصلوں اور بین الاقوامی سیاحت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر کسی ملک کے اہم مقامات مسلسل خطرے کی زد میں رہیں تو اس کے لیے محفوظ اور مستحکم ماحول کا تاثر برقرار رکھنا مزید اہم ہو جاتا ہے۔

اس تنازع کا ایک اہم پہلو یمن کی صورت حال بھی ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے یمن میں جاری جنگ اور حوثیوں کے خطرے سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس مسئلے کا کوئی پائیدار سیاسی حل سامنے نہ آنے سے سلامتی کے چیلنجز برقرار ہیں۔ یمن میں جنگ کی شدت دوبارہ بڑھنے سے سعودی عرب کے لیے اس تنازع سے نکلنے اور اپنی جنوبی سرحدوں کو محفوظ بنانے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ محض فضائی حملوں یا دفاعی نظام کی مضبوطی سے اس مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں، کیونکہ اس کے پیچھے سیاسی اختلافات، علاقائی طاقتوں کی کشمکش اور یمن کے اندرونی تنازعات بھی کارفرما ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے باب المندب میں سعودی بحری ناکہ بندی اور مملکت میں تیل کی تنصیبات و ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات اس خطرے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ میں ہوائی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں پائلٹ سمیت 12 افراد کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان واقعات کی مکمل تفصیلات اور آزادانہ تصدیق کے بغیر تمام دعوؤں کو حتمی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ سعودی حکام کی جانب سے رپورٹ پر باضابطہ تبصرہ سامنے نہ آنے کے باوجود ان کا عمومی مؤقف یہ رہا ہے کہ حوثیوں کے بیشتر حملے ناکام بنائے گئے ہیں اور باقی ماندہ خطرات سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے لیے اصل چیلنج صرف مزید ہتھیار خریدنا نہیں بلکہ اپنے دفاعی نظام کو بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی کے مطابق مؤثر بنانا ہے۔ اس کے لیے مربوط فضائی نگرانی، کم لاگت والے ڈرون شکن نظام، مقامی دفاعی صنعت کی ترقی، اہم تنصیبات کے تحفظ، انٹیلی جنس تعاون اور مختلف نوعیت کے حملوں کے خلاف فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ یمن میں سیاسی حل کی تلاش اور علاقائی کشیدگی میں کمی بھی طویل مدتی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

بالآخر 83 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ اور جدید ترین ہتھیار سعودی عرب کو ایک مضبوط عسکری طاقت ضرور بناتے ہیں، لیکن جدید جنگ میں طاقت کا تعین صرف بجٹ، لڑاکا طیاروں یا میزائلوں کی تعداد سے نہیں ہوتا۔ کم لاگت کے ڈرونز، غیر روایتی جنگی حکمت عملی اور وسیع جغرافیائی حدود بڑی سے بڑی فوج کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ سعودی عرب کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی عسکری برتری کو کس حد تک مؤثر، پائیدار اور ہمہ جہت دفاع میں تبدیل کر سکتا ہے، تاکہ نہ صرف حملوں کو روکا جا سکے بلکہ مملکت کے شہریوں، اہم تنصیبات، معیشت اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔

Back to top button