خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد پیپلزپارٹی تنقید کی زد میں کیوں؟

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر جمہوریت، آئین اور منتخب حکومتوں کے اختیار سے متعلق بنیادی سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ نے نہ صرف وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی بڑھا دی ہے بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی ایک مشکل سیاسی اور اخلاقی سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے دستخطوں سے اس اقدام کی توثیق کے بعد ناقدین پوچھ رہے ہیں کہ جمہوریت، آئینی بالادستی اور عوامی حقوق کی علمبردار کہلانے والی پیپلز پارٹی آخر کس سمت جا رہی ہے؟ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور امن و امان کی خراب صورت حال کے باعث یہ قدم آئینی ضرورت کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس کے بعد صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دستاویزات پر دستخط کیے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر زرداری نے کسی صوبے میں گورنر راج کی منظوری دی ہو۔ 2009 میں پنجاب اور جنوری 2013 میں بلوچستان میں بھی ان کے دورِ صدارت میں ایسے اقدامات کیے گئے تھے۔ یوں ناقدین کے نزدیک یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے جمہوری تشخص اور اس کے سیاسی دعوؤں کا بھی امتحان ہے۔

پیپلز پارٹی کو تنقید کا سامنا اس لیے بھی ہے کہ اس جماعت کی سیاسی تاریخ جمہوریت کی بحالی، آمریت کے خلاف جدوجہد اور عوامی حقوق کے نعرے سے جڑی رہی ہے۔ سابق وزیر گورنر سندھ محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ پیپلز پارٹی کے لبرلز کہاں ہیں اور کیا جماعت اب جمہوریت، آئین اور عوام کے حقوق پر یقین نہیں رکھتی؟ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی گورنر راج کو جمہوریت پر شب خون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی صوبائی حکومتوں کے خلاف ایسے اقدامات پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئے۔ ان کے بقول یہ عمل جمہوریت، آئین اور انسانی حقوق کی نفی کے مترادف ہے۔

پیپلز پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اقدام کو آئینی قرار دیا ہے۔ جماعت کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری کا کہنا ہے کہ 1973 کے آئین میں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے ایسی شقیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اور گورنر کی رپورٹس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جبکہ صدر آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی اقدام کی آئینی گنجائش موجود ہونا اور اس کا جمہوری اصولوں سے ہم آہنگ ہونا دو الگ پہلو ہیں۔ اگر کسی صوبے میں منتخب حکومت کو ختم یا معطل کیا جائے تو اس فیصلے کی ضرورت، تناسب، سیاسی اثرات اور عوامی مینڈیٹ کے احترام پر بحث ناگزیر ہو جاتی ہے۔

صحافی و تجزیہ کار اویس توحید کے مطابق اس فیصلے سے پیپلز پارٹی کے اس حلقے کو مایوسی ہوئی ہے جو آمریت کے خلاف جدوجہد اور جمہوریت کی بحالی کی تاریخ سے وابستہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ ہائبرڈ نظام میں ایسے فیصلوں کی ذمہ داری صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا کردار بھی زیر بحث آتا ہے۔ پیپلز پارٹی یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ انتظامی اختیار مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے پاس ہے اور وہ اس عمل میں فیصلہ ساز نہیں تھی، مگر سیاسی مبصرین کے نزدیک صدر کے دستخط اور خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر کی موجودگی نے جماعت کو سیاسی تنقید سے بچنے نہیں دیا۔

سیاسی تجزیہ کار عارفہ نور کے مطابق اس صورت حال سے پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا تاثر پیدا ہوا ہے، کیونکہ جماعت پہلے ہی سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں اقتدار میں ہے اور خیبر پختونخوا میں گورنر کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔ ان کے خیال میں پیپلز پارٹی ایک طرف خود کو وفاقی حکومت سے الگ اور بعض معاملات میں اپوزیشن کے قریب ظاہر کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے پاس مختلف علاقوں میں اقتدار اور انتظامی اثر و رسوخ موجود ہے۔ یہی تضاد جماعت کے سیاسی بیانیے کو کمزور کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ خود کو جمہوریت اور وفاق کی مضبوطی کی علمبردار قرار دیتی ہے۔

تاہم گورنر راج کے ذریعے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن کے لیے مستقل سیاسی جگہ بنانا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف 2013 سے اقتدار میں رہی ہے اور 2018 اور 2024 کے انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ سامنے آئی۔ مقامی تجزیہ کار غلام دستگیر کے مطابق عمران خان کا ووٹ بینک صوبے میں مضبوط ہے، جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی سیاسی گنجائش محدود ہوئی ہے۔ ان کے خیال میں گورنر اور ان کی ٹیم کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اپنی کارکردگی سے عوام کا اعتماد حاصل کریں اور یہ ثابت کریں کہ انتظامی تبدیلی کے نتیجے میں امن، حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل میں واقعی بہتری آئی ہے۔

گورنر راج کے حق میں حکومت کی بنیادی دلیل دہشت گردی اور شدت پسندی میں اضافہ ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ برس میں خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔ اس صورت حال سے نمٹنا یقیناً وفاقی اور صوبائی حکام کی اہم ذمہ داری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا منتخب حکومت کو ختم یا معطل کرنا اس مسئلے کا مؤثر اور پائیدار حل ثابت ہوگا؟ اویس توحید کے مطابق تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کا طالبان سے مذاکرات کے حق میں مؤقف رہا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے پھیلاؤ کی ذمہ داری صرف پی ٹی آئی پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق اس مسئلے کی جڑیں 2002 میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے دور تک جاتی ہیں، جبکہ جنرل پرویز مشرف کے دور اور اس وقت کے پالیسی سازوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

غلام دستگیر بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماضی میں صوبے میں متعدد فوجی کارروائیوں کے باوجود شدت پسندی کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔ ان کے نزدیک عوامی بداعتمادی دور کرنا اور دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں مستقل مزاجی برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ماضی میں اچھے اور برے طالبان کی تفریق پر مبنی پالیسیوں نے بھی ریاستی مؤقف کے بارے میں سوالات پیدا کیے۔ اس لیے موجودہ حکومت کے لیے محض سخت اقدامات کا اعلان کافی نہیں ہوگا؛ اسے واضح حکمت عملی، مؤثر انتظامی اقدامات اور مقامی آبادی کے اعتماد کے ذریعے نتائج دکھانا ہوں گے۔

گورنر راج سے پہلے ایوانِ صدر میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کی کوشش بھی ہوئی تھی، مگر بات چیت کامیاب نہ ہو سکی۔ اب سیاسی کشیدگی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ صوبے میں حکومت چلانے، امن قائم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے کی ذمہ داری کس طرح پوری کی جائے گی۔ اگر گورنر اور ان کی ٹیم امن و امان بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو گورنر راج کے جواز پر مزید سوال اٹھیں گے۔ اس کے برعکس اگر حالات میں بہتری آتی ہے تب بھی یہ بحث برقرار رہے گی کہ کیا اس مقصد کے لیے منتخب حکومت کو معطل کرنا ناگزیر تھا یا سیاسی مذاکرات اور صوبائی اداروں کو مضبوط بنا کر بھی یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا تھا۔

خیبر پختونخوا کا معاملہ محض پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان اقتدار کی کشمکش نہیں رہا۔ یہ پیپلز پارٹی کے جمہوری تشخص، مسلم لیگ ن کی سیاسی حکمت عملی، ریاست کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی اور آئینی اداروں کے کردار کا امتحان بن چکا ہے۔ حکومت نے دہشت گردی کو بنیاد بنا کر غیر معمولی اقدام اٹھایا ہے، اس لیے اب اس کے کندھوں پر امن بحال کرنے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے۔ اگر اس اقدام کے نتیجے میں حالات بہتر نہ ہوئے تو سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ اصل فیصلہ آنے والے مہینوں میں ہوگا کہ گورنر راج نے خیبر پختونخوا کو استحکام دیا یا جمہوری اعتماد کو مزید کمزور کیا۔

Back to top button