سہیل آفریدی، ایک شکست خوردہ بلدیاتی امیدوار، وزیر اعلیٰKPکیسے بنا؟

سیاست میں کامیابی کے لیے عوامی مقبولیت، سیاسی جدوجہد، تجربہ اور تنظیمی صلاحیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے، لیکن پاکستان کی سیاست میں بعض اوقات ایسے کردار بھی سامنے آتے ہیں جن کا سفر نچلی سطح کی انتخابی سیاست سے شروع ہو کر چند ہی برسوں میں اقتدار کی بلند ترین منزلوں تک پہنچ جاتا ہے۔ سہیل آفریدی کا سیاسی سفر بھی اسی حوالے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ ایک ایسے شخص کو، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے، بالآخر خیبر پختونخوا جیسے اہم صوبے کی وزارتِ اعلیٰ تک پہنچنے کا موقع کیسے ملا؟

خیبر پختونخوا کی سیاست میں سہیل آفریدی کا چند برسوں کے دوران بلدیاتی انتخاب لڑنے والے ایک امیدوار سے صوبے کے وزیرِ اعلیٰ بننے تک پہنچنا ایک غیر معمولی سیاسی سفر ہے۔ 2015 میں ڈسٹرکٹ کونسل کا انتخاب ہارنے سے لے کر 2024 میں صوبائی اسمبلی کی نشست جیتنے اور اکتوبر 2025 میں وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے تک ان کے سفر میں طلبہ سیاست، جماعتی وابستگیاں، سیاسی سرپرستی اور عمران خان کے فیصلے نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے سیاسی عروج کے ساتھ ہی ان کی انتظامی اہلیت، تجربے اور وزارتِ اعلیٰ کے لیے انتخاب کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

سہیل آفریدی 12 جولائی 1989 کو خیبر کے علاقے باڑہ میں پیدا ہوئے۔ سرکاری سوانح کے مطابق وہ 6 بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں اور انہوں نے پشاور میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشیات میں گریجویشن کیا۔ ان کے خاندان کی باڑہ سے پشاور منتقلی کو قبائلی علاقے میں بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔ ان کا تعلق سابق قبائلی علاقے سے ہے، جہاں کئی خاندانوں کو امن و امان کی صورت حال کے باعث نقل مکانی کرنا پڑی۔ یہی پس منظر ان کی سیاسی شناخت کا بھی حصہ بنا اور بعد میں وہ خیبر سے صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

سہیل آفریدی کا سیاسی سفر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے شروع ہوا، جو پاکستان تحریک انصاف کا طلبہ ونگ ہے۔ ان کی سرکاری سوانح کے مطابق وہ طلبہ سیاست کے دوران تنظیم کے صوبائی صدر کے عہدے تک پہنچے۔ بعض غیر سرکاری اور صحافتی بیانات میں ان کی تنظیمی ترقی کے مراحل اور عہدوں کے حصول کے بارے میں مختلف تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ فراہم کردہ متن میں ایک سابق عہدیدار سے منسوب دعویٰ بھی شامل ہے کہ سہیل آفریدی نے 2009 یا 2010 کے قریب تنظیم میں عام رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور بعد میں مراد سعید کے قریب آنے کے بعد ان کی ترقی تیز ہوئی۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق کے بغیر اسے حتمی حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ واضح ہے کہ طلبہ سیاست نے ان کے لیے جماعتی سطح پر آگے بڑھنے کا راستہ کھولا۔

ان کے انتخابی سفر کا ایک اہم مگر کم زیرِ بحث پہلو 2015 کا بلدیاتی انتخاب ہے۔ فراہم کردہ تحریر کے مطابق سہیل آفریدی نے پشاور کے علاقے لنڈی ارباب میں ڈسٹرکٹ کونسل کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے انتخاب لڑا، لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس انتخاب کے نتائج اور شکست کے فرق کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی، اس لیے اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار بیان کرنا مناسب نہیں۔ بہرحال، اس کے بعد ان کی انتخابی سیاست میں نمایاں واپسی 2024 کے عام انتخابات میں ہوئی، جب وہ خیبر کے حلقے پی کے 70 سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ سرکاری اسمبلی ریکارڈ بھی ان کے پہلی مرتبہ 2024 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔

2024 میں کامیابی کے بعد ان کی سیاسی ترقی نے رفتار پکڑی۔ انہیں علی امین گنڈاپور کی صوبائی حکومت میں مواصلات و تعمیرات کے شعبے سے متعلق معاونت کی ذمہ داری دی گئی۔ اس کے بعد اکتوبر 2025 میں عمران خان کی نامزدگی پر وہ خیبر پختونخوا کے 19ویں وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے 15 اکتوبر 2025 کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا اور اس وقت ان کی عمر 36 برس تھی۔ یوں ایک ایسے سیاست دان نے، جس نے صوبائی اسمبلی میں پہلی مرتبہ 2024 میں قدم رکھا تھا، تقریباً ڈیڑھ سال کے اندر صوبے کی قیادت سنبھال لی۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی سیاست دان کے لیے وزارتِ اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے طویل انتظامی تجربہ لازمی ہے، یا جماعتی اعتماد، سیاسی حمایت اور اسمبلی میں اکثریت فیصلہ کن عوامل ہیں؟ پارلیمانی نظام میں وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کا بنیادی تعلق اسمبلی کی اکثریت سے ہوتا ہے، لیکن انتظامی تجربہ، ٹیم بنانے کی صلاحیت، قانون سازی کی سمجھ بوجھ اور مختلف اداروں کے ساتھ معاملات چلانے کی اہلیت بھی حکمرانی کے معیار پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سہیل آفریدی کے ناقدین ان کے محدود حکومتی تجربے کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ ان کے حامی انہیں نئی نسل کی قیادت اور عمران خان کے سیاسی اعتماد کی علامت قرار دے سکتے ہیں۔ اس لیے ان کی کارکردگی کا جائزہ صرف سابقہ عہدوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے فیصلوں اور حکومتی نتائج سے بھی لیا جانا چاہیے۔

ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا، خصوصاً وفاقی حکومت کے ساتھ اختلافات، پی ٹی آئی کے احتجاج اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر تنازع نے ان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات کو بنیاد بنا کر صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کی، جبکہ پی ٹی آئی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی سطح پر تعاون اور وسائل کی فراہمی کے معاملات اٹھائے۔ 11 اکتوبر 2026 کو صدر آصف علی زرداری نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی، جس کے نتیجے میں منتخب صوبائی حکومت معطل ہو گئی۔ 12 اکتوبر کو خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ سہیل آفریدی کو بھی حراست میں لیا گیا۔ یہ پیش رفت ان کے سیاسی سفر میں ایک بڑی تبدیلی ہے، تاہم اس کے سیاسی اور قانونی نتائج کا حتمی تعین متعلقہ کارروائیوں کے بعد ہی ہو سکے گا۔

سہیل آفریدی کے خلاف بعض قانونی معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔ ان کی وزارتِ اعلیٰ پر تقرری کو شیر افضل مروت نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست میں سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے اور سہیل آفریدی کے انتخاب کے قانونی طریقۂ کار پر اعتراض اٹھایا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے کی سماعت 15 اکتوبر 2026 کے لیے مقرر کی تھی۔ یہ ایک زیرِ سماعت قانونی تنازع ہے؛ درخواست دائر ہونے یا سماعت مقرر ہونے کو بذاتِ خود نااہلی کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اسی طرح ہری پور کے ضمنی انتخاب کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق معاملہ بھی الیکشن کمیشن میں زیرِ کارروائی رہا ہے۔ 8 اکتوبر 2026 کو ڈان کی رپورٹ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے سہیل آفریدی کی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے معاملے کے میرٹ پر حتمی فیصلہ دینے کے بجائے قرار دیا کہ کمیشن کی انکوائری جاری رہنے میں قانونی رکاوٹ ثابت نہیں کی گئی۔ اس لیے اس کارروائی کو بھی نااہلی کے حتمی فیصلے کے برابر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

سہیل آفریدی کے سیاسی سفر سے متعلق سب سے اہم سوال ان کی اہلیت یا نااہلی کے بارے میں فوری فیصلہ سنانا نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اہم عوامی عہدوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کن بنیادوں پر کرتی ہیں۔ اگر جماعتی وابستگی اور قیادت کا اعتماد کسی نسبتاً نئے سیاست دان کو اعلیٰ منصب تک پہنچا سکتا ہے تو پھر اس کے ساتھ مؤثر تربیت، مضبوط مشاورتی ٹیم، انتظامی نگرانی اور عوام کے سامنے جواب دہی کا نظام بھی ہونا چاہیے۔ اسی طرح کسی سیاست دان کے خلاف الزامات کو عدالتی فیصلے سے پہلے ثابت شدہ جرم قرار دینا بھی مناسب نہیں۔

سہیل آفریدی کا سفر پاکستانی سیاست میں جماعتی سرپرستی، انتخابی کامیابی اور قیادت کے فیصلوں کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ ان کے ناقدین کے نزدیک ان کا تیز رفتار عروج محدود انتظامی تجربے کے باوجود ایک بڑے صوبے کی قیادت سونپنے کے فیصلے پر سوال اٹھاتا ہے، جبکہ ان کے حامی اس پیش رفت کو سیاسی اعتماد اور نئی قیادت کے ابھرنے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ اب اصل توجہ ان کے خلاف جاری قانونی معاملات، صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور اس سیاسی بحران کے نتائج پر رہے گی۔ یہ واقعات صرف ایک فرد کے سیاسی مستقبل تک محدود نہیں، بلکہ اس وسیع تر سوال سے بھی جڑے ہیں کہ پاکستان میں قیادت کے انتخاب، حکمرانی کے معیار اور آئینی عمل کو کس طرح مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

Back to top button