فوجی وردیوں میں ملبوس شدت پسندوں کا جی ایچ کیو پر حملہ ناکام کیسے ہوا؟

10 اکتوبر 2009 پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک ایسا دن تھا جب فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز جیسے انتہائی حساس مقام کو نشانہ بنا کر شدت پسندوں نے ریاستی سکیورٹی نظام کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا۔ فوجی وردیوں میں ملبوس 10 حملہ آور ایک سفید سوزوکی وین میں سوار ہو کر جی ایچ کیو کے مرکزی حفاظتی حصار تک پہنچے۔ ان کے پاس خودکار ہتھیار، دستی بم اور فوجی نمبر پلیٹیں تھیں۔ شناخت طلب کیے جانے پر انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ابتدائی جھڑپ میں 5 حملہ آور مارے گئے، لیکن باقی 5 اندر داخل ہونے اور فوجی اہلکاروں سمیت دیگر افراد کو یرغمال بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ تقریباً 18 گھنٹے جاری رہنے والے اس محاصرے نے نہ صرف سکیورٹی انتظامات بلکہ شدت پسندوں کے نیٹ ورک، ان کی منصوبہ بندی اور خفیہ اطلاعات کے نظام پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔

اس حملے کا بنیادی مقصد محض فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ اعلیٰ فوجی افسران کو یرغمال بنا کر جیلوں میں قید شدت پسندوں کو رہا کروانا بھی تھا۔ اس وقت کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق، حملہ آوروں کے پاس 100 سے زیادہ قیدیوں کی فہرست موجود تھی۔ بعدازاں سامنے آنے والی عدالتی دستاویزات اور تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، اس منصوبے کی تیاری شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں کی گئی تھی، جہاں شدت پسند رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد جی ایچ کیو کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

حملے کے مرکزی کرداروں میں عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان بھی شامل تھا، جو ماضی میں فوج کے میڈیکل کور میں نرسنگ اسسٹنٹ رہ چکا تھا۔ اسی سابقہ وابستگی کے باعث وہ فوجی ماحول اور بعض طریقہ کار سے واقف تھا۔ رپورٹوں کے مطابق، لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر مارچ 2009 کے حملے کے بعد وہ شمالی وزیرستان پہنچا، جہاں اس کے رابطے شدت پسند رہنماؤں سے قائم ہوئے۔ عقیل کے مبینہ اعترافی بیان کے مطابق، ابتدا میں وہ فوج کو نشانہ بنانے پر آمادہ نہیں تھا، لیکن اس کے ساتھیوں نے فوج کو امریکہ کا اتحادی قرار دے کر حملے پر رضامند کرنے کی کوشش کی۔ منصوبے کا مرکزی ہدف فوجی افسران کو یرغمال بنا کر قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

حملے کی تیاری کئی ہفتوں تک جاری رہی۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، عقیل نے راولپنڈی میں مختلف مقامات پر رہائش اختیار کی اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے دوسرے نام کا استعمال بھی کیا۔ جی ایچ کیو کی عمارتوں، راستوں اور فاصلوں کا جائزہ لینے کے لیے گوگل ارتھ سے مدد لینے کا ذکر بھی اس کے مبینہ اعترافی بیان میں موجود ہے۔ حملے میں استعمال ہونے والی سفید سوزوکی وین 16 ستمبر 2009 کو راولپنڈی کے مری روڈ پر واقع ایک شوروم سے 368,000 روپے میں خریدی گئی تھی، جبکہ فوجی وردیوں کی تیاری پر 30,000 روپے خرچ ہونے کا ذکر کیا گیا۔ اسلحہ اور دیگر سامان بھی مختلف مراحل میں منتقل کیا گیا۔ حملہ ابتدا میں 6 اکتوبر کو ہونا تھا، تاہم بعض حملہ آوروں کی بیماری کے باعث اسے 10 اکتوبر تک مؤخر کر دیا گیا۔

اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ حملے سے پہلے ممکنہ خطرے کے بارے میں اطلاعات سامنے آ چکی تھیں۔ جولائی 2009 میں پنجاب پولیس کے شعبۂ انسدادِ جرائم کی جانب سے متعلقہ حکام کو خبردار کیے جانے کی رپورٹ موجود ہے کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے سے وابستہ شدت پسند راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اطلاعات میں فوجی وردیوں اور گاڑیوں کے استعمال اور افسران کو یرغمال بنانے کے امکان کا بھی ذکر تھا۔ اکتوبر میں حملے سے چند روز قبل بھی اسی نوعیت کے خدشات رپورٹ ہوئے۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حکام کو حملے کی مکمل منصوبہ بندی اور تمام تفصیلات پہلے ہی معلوم تھیں۔ اس کے باوجود یہ سوال اہم ہے کہ پیشگی انتباہات کے باوجود حملہ آور حساس ترین فوجی مقام تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئے۔

جی ایچ کیو کے اندر داخل ہونے کے بعد حملہ آور ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹوریٹ کی سمت بڑھے اور فائرنگ کے دوران فوجی اہلکاروں اور سویلین ملازمین کو یرغمال بنایا۔ انہوں نے فون کے ذریعے اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ عقیل کے بیان کے مطابق، ان مطالبات میں شدت پسند قیدیوں کی رہائی، سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ سے رہائی جیسے معاملات بھی شامل تھے، تاہم بعد میں اس نے قیدیوں کی رہائی پر زور دیا۔ فوج نے عمارت کا محاصرہ کر لیا اور مذاکرات کے ساتھ یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے کارروائی کی تیاری شروع کر دی۔

اس بحران کے حل میں جی ایچ کیو کے نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ نے اہم کردار ادا کیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، سکیورٹی افسر میجر اختر حسین قمر نے کیمروں میں حملہ آوروں کی نقل و حرکت دیکھی اور عقیل احمد کی شناخت میں مدد دی۔ اگلی صبح سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے کارروائی کی، جسے آپریشن جانباز کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران باقی حملہ آوروں میں سے 4 مارے گئے، جبکہ عقیل زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ رپورٹوں کے مطابق، اس کارروائی میں 2 کمانڈوز موقع پر جان سے گئے اور 3 دیگر بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ حملے اور جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر فوج کے 11 اہلکاروں اور افسروں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔

گرفتاریوں اور چھاپوں کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا اور متعدد افراد پر حملہ آوروں کو اسلحہ، رہائش، نقل و حمل اور حساس مقامات کی نگرانی میں مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان میں سپاہی عمران صدیق اور شہری واجد محمود کے نام بھی سامنے آئے۔ فوجی تحقیقاتی کارروائی کے بعد عقیل احمد کو 11 اگست 2011 کو سزائے موت سنائی گئی، جبکہ اس کے مبینہ معاونین کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں دی گئیں۔ عقیل کی اپیلوں کے باوجود سزا برقرار رہی۔ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد دوبارہ شروع ہوا، اور 20 دسمبر 2014 کو عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق فوجی ارشد محمود کو فیصل آباد جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

جی ایچ کیو حملہ محض ایک مسلح کارروائی نہیں تھا بلکہ اس نے یہ حقیقت بھی واضح کی کہ شدت پسند تنظیمیں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مقامی سہولت کاری، شناخت چھپانے، نگرانی اور منظم منصوبہ بندی سے کام لے سکتی ہیں۔ اس واقعے سے پیشگی اطلاعات پر فوری کارروائی، حساس مقامات کے حفاظتی انتظامات، اندرونی معاونین کی شناخت اور انٹیلیجنس اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عثمان کی گرفتاری اور بعدازاں سزا نے حملے کے ایک اہم کردار کو انجام تک پہنچایا، لیکن اس واقعے سے اٹھنے والے بنیادی سوال آج بھی اہم ہیں: خطرے کی بروقت شناخت کیسے یقینی بنائی جائے، سکیورٹی میں موجود خامیوں کو کیسے دور کیا جائے اور ایسے نیٹ ورکس کو دوبارہ منظم ہونے سے کیسے روکا جائے؟

Back to top button