خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا : خواجہ آصف

 

 

 

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بگڑتی امن و امان کی صورت حال کے باعث حکومت کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچاتھا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے فیصلے سے پہلے حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کی اور خاصی لچک دکھائی،تاہم حالات سے ظاہر ہوتا تھاکہ اس اقدام کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو ایوان میں اپنے ماضی کو سامنے رکھ کر بات کرنی چاہیے۔اسی ایوان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی موجودگی میں دہشت گردوں کو واپس لانے کی حمایت کی گئی تھی۔

خواجہ آصف نے کہاکہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں تقریباً 13 سال سے حکومت میں رہی ہے،اس لیے اسے اپنی حکمرانی اور فیصلوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے،سیاسی جماعتوں کو ماضی کی غلطیاں بھلاکر خود کو ہر الزام سے بری الذمہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی اور مختلف معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کےلیے لچک دکھائی۔دہشت گردی کےخلاف مشترکہ اقدامات کو مذاکرات کا بنیادی مقصد ہونا چاہیے تھا۔

بلاول بھٹو کی حکومت کو اپوزیشن سے دوبارہ مذاکرات کی تجویز

خواجہ آصف نے طالبان کی جانب سے ایمرجنسی کے فیصلے اور بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی پر تنقید کا حوالہ دیتےہوئے کہاکہ پاکستان کی ریاست کے مخالفین کی شناخت واضح ہے۔طالبان پاکستانی شہریوں اور بچوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں، اس لیے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر ریاست کا ساتھ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتےہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان اور انتظامی مسائل حل کرنے کے بجائےسیاسی معاملات کو زیادہ اہمیت دی گئی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کےخاتمے اور قومی سلامتی کےلیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

 

Back to top button