طالبہ خودکشی کیس: فراڈیا ISI کی نوکریاں بھی بیچتا رہا

 

 

 

اسلام آباد میں 23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ ویزا فراڈ کر کے اسے خودکشی پر مجبور کرنے والے ملزم نعمان کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ فوج اور آئی ایس آئی میں نوکریوں کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے ہتھیانے کے الزام پر بھی مانسہرہ پولیس کو مطلوب تھا۔ نعمان پر اپنے بھائی وقاص اور دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایک خاندان کے 12 افراد کو پاک فوج اور آئی ایس آئی میں بھرتی کروانے کا جھانسہ دے کر لمبی چوڑی رقم بٹورنے کا الزام تھا، جس کے بعد سے وہ مفرور تھا۔

 

اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزم محمد نعمان اس وقت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر زیرِ حراست ہے۔ لائبہ اعجاز کیس کی تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ نعمان کے خلاف مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں بھی فراڈ کا مقدمہ درج ہے اور عدم گرفتاری کے باعث اسے اشتہاری قرار دیا جا چکا تھا۔ مانسہرہ میں اس کے خلاف درج مقدمے میں الزام ہے کہ اس نے اپنے بھائی وقاص اور دو دیگر افراد کے ساتھ مل کر ایک خاندان کو سرکاری ملازمتوں کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کیے۔

 

یاد رہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کی لاش 9 اکتوبر کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس کے مطابق لائبہ ملزم نعمان کے ہاتھوں لاکھوں روپے کے فراڈ سے دلبرداشتہ ہو گئی تھیں۔نعمان نے لائبہ اور ان کے اہلخانہ کو امریکا کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر 50 لاکھ روپے وصول کیے، تاہم بعدازاں داخلے کے لیے فراہم کردہ دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں، جس کے بعد لائبہ نے خودکشی کر لی۔

 

مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں درج ایف آئی آر کے مطابق فوج اور آئی ایس آئی میں بھرتی کروانے کے نام پر فراڈ کا واقعہ جولائی 2024 میں پیش آیا، تاہم اس کا مقدمہ 27 اگست 2026 کو درج کیا گیا۔ سلطان محمد نامی شخص کی مدعیت میں درج مقدمے میں محمد نعمان، اس کے بھائی وقاص اور دو دیگر افراد کو نامزد کیا گیا۔ مقدمے کے مطابق ملزم نعمان کی ایک بھابھی نے متاثرہ خاندان کو بتایا تھا کہ نعمان ماضی میں ٹرپل تھری بریگیڈ سے وابستہ رہا ہے اور اس وقت آئی ایس آئی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تعینات ہے۔ لائبہ اعجاز کیس میں بھی ملزم نے مبینہ طور پر خود کو سپریم کورٹ کا ملازم ظاہر کیا تھا۔

 

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے اپنے اثر و رسوخ اور تعلقات کا دعویٰ کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ وہ اس کے بچوں سمیت 12 افراد کو پاک فوج اور آئی ایس آئی میں بھرتی کروا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے فی آسامی سکیورٹی کے نام پر بھاری رقم وصول کرنے اور تقرری کے بعد باقی رقم ادا کرنے کی شرط رکھی گئی۔ مدعی مقدمہ کے مطابق خاندان نے مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ملزم وقاص کے اکاؤنٹ میں تقریباً 85 لاکھ روپے جمع کروائے، جس کے بعد 3 دسمبر 2024 کو انہیں فوج اور آئی ایس آئی میں تقرری کے حوالے سے 10 اپائنٹمنٹ لیٹرز فراہم کیے گئے۔

 

مقدمے کے مطابق تقرر نامے ملنے کے بعد متاثرین کو ملزم نعمان سے راولپنڈی میں ملنے کے لیے کہا گیا، تاہم وہ وہاں دستیاب نہ ہوا اور ملزمان سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ متاثرین نے جب چکلالہ کینٹ راولپنڈی میں تقرر ناموں کی تصدیق کروائی تو معلوم ہوا کہ وہ جعلی ہیں۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خاندان کو دھوکہ دیا۔ مقدمے کے ساتھ رقم کی منتقلی، ایزی پیسہ اور بینک اکاؤنٹس کے ریکارڈ، واٹس ایپ گفتگو اور مبینہ جعلی تقرری نامے بھی شواہد کے طور پر فراہم کیے گئے ہیں۔

 

مدعی سلطان محمد کے مطابق انہوں نے ملزمان کو ایک کروڑ روپے سے زیادہ رقم ادا کی تھی، تاہم 85 لاکھ روپے کی ادائیگی کا دستاویزی ریکارڈ موجود ہونے کے باعث مقدمے میں یہی رقم درج کروائی گئی۔ ان کے مطابق جعلی تقرری ناموں کا انکشاف ہونے کے بعد ملزمان پہلے ٹال مٹول کرتے رہے، پھر رقم واپس کرنے کے لیے مہلت مانگی، لیکن بعدازاں غائب ہو گئے۔ سلطان محمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابتدا میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے رجوع کیا، تاہم وہاں انہیں بتایا گیا کہ معاملہ پولیس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جس کے بعد متعلقہ تھانے میں درخواست دی گئی اور مقدمہ درج ہوا۔

 

سلطان محمد کے مطابق وہ نعمان کی گرفتاری کے لیے خیبر پختونخوا پولیس کے ہمراہ اسلام آباد کے علاقے شمس کالونی بھی گئے تھے، کیونکہ ملزم کی آخری لوکیشن وہیں ظاہر ہو رہی تھی، تاہم اس وقت اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ مدعی کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں ماتحت عدالتوں سے مسترد ہو چکی ہیں اور انہوں نے ضمانت کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ سلطان محمد کے مطابق متاثرہ خاندان نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل اور روزگار کی امید پر ملزمان پر اعتماد کیا تھا، لیکن انہیں دھوکے اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

Back to top button