شہبازگل نے PTI لیڈرشپ کو چارج شیٹ کیوں کر دیا؟

 

 

 

عمران خان کے سابق چیف آف سٹاف اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کے سربراہ شہباز گل نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پارٹی کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کی قیادت اور کارکن پورے صوبے میں کوئی بڑا احتجاج نہیں کر سکے۔ اپنے وی لاگ میں انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار سہیل آفریدی کی ناپختہ قیادت اور سینیئر لیڈرشپ کی طوطا چشمی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان تو کیا، لیکن اسلام آباد جانے کا حوصلہ نہیں دکھا سکے۔

 

شہباز گل کے مطابق لوگ ان سے سوال کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد احتجاج کیوں نہیں کیا گیا اور پارٹی قیادت اس موقع پر کارکنوں کو متحرک کرنے میں کیوں ناکام رہی۔ گل نے کہا کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت معطل کیے جانے کے بعد دو تین پریس کانفرنسیں تو کیں، لیکن احتجاج کی کوئی کال نہیں دی۔ اسی طرح سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، شاہ فرمان اور پارٹی سیکرٹری کی جانب سے بھی احتجاج یا کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق سابق سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان نے بھی احتجاج کا اعلان نہیں کیا، جبکہ اعظم سواتی احتجاجی سرگرمیوں کے بجائے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی افتتاحی تقریب میں دکھائی دیے۔

 

شہباز گل نے شبلی فراز کے حوالے سے کہا کہ انکی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو لانگ مارچ کا مشورہ دینے اور مذاکرات سے پرہیز پر مجبور کرنے والے مراد سعید نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنا مؤقف ضرور دیا، تاہم طویل عرصے سے روپوش ہونے کے باعث ان سے احتجاجی کی توقع کرنا مناسب نہیں۔ شہباز گل کے مطابق سپیکر خیبر پختون خواہ اسمبلی بابر سلیم سواتی کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ زیرِ حراست ہیں، جبکہ عاطف خان، شہرام خان ترکئی اور علی محمد خان نے بھی کارکنوں کو احتجاج کے لیے باہر نکلنے کی کال نہیں دی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ علی محمد خان اس سے پہلے حکومت سے مذاکرات کی اپیل کرتے رہے تھے۔

 

اسی طرح شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی جانب سے بھی احتجاج کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ سینیئر پارٹی رہنما شاہد خٹک نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ ٹویٹ کیا تھا کہ جہاں زیادہ لوگ اکٹھے ہوں گے، وہ وہاں پہنچ جائیں گے، لیکن جہاں چار پارٹی ورکرز اکٹھے ہوئے وہ وہاں بھی نہیں پہنچے۔

شہباز گل نے کہا کہ مشتاق غنی، تیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب خان اور ارشد ایوب خان نے بھی احتجاج کے حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا۔ شوکت یوسفزئی نے حکومت معطل کرنے کی مذمت ضرور کی، لیکن احتجاج کی کال نہیں دی، جبکہ مینا خان نے بھی زبانی جمع خرچ کیا۔

سہیل آفریدی کی فیصلہ سازوں سے معافی تلافی کی درخواست

پاکستان سے فرار ہو کر امریکہ میں پناہ لینے والے شہباز گل نے مزید کہا کہ شفیع اللہ جان، آفتاب عالم آفریدی، مشال یوسفزئی اور کامران بنگش کی جانب سے بھی نہ تو کوئی احتجاج کیا گیا اور نہ ہی احتجاج کی کال دی گئی۔ شہباز گل نے کہا کہ ان کا مقصد باہر بیٹھ کر پارٹی رہنماؤں پر بلاوجہ تنقید کرنا نہیں، کیونکہ انہیں احساس ہے کہ اگر وہ خود بھی وہاں موجود ہوتے تو حالات اتنے مشکل ہیں کہ وہ شاید کچھ نہ کر پاتے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو عوام کے سامنے غیر حقیقی دعوے کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی سیاسی اور تنظیمی کمزوریوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

 

انہوں نے کہا کہ جب سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی میدان تنگ کر دیا جائے اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال ہونے لگے تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں مسلح مزاحمت کی طرف جانے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے سیاسی جدوجہد کو پُرامن اور جمہوری دائرے میں رکھنا ضروری ہے۔ شہباز گل نے خیبر پختونخوا کی حکومت گرانے کو آخری حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی سہیل آفریدی، عثمان بزدار، پرویز الٰہی، محمود خان اور علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر استعفے دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ماضی میں بھی اپنی صوبائی حکومتیں قربان کرتی رہی ہے، تاہم موجودہ حالات میں سیاسی کارکنوں کے لیے اپنا مؤقف پیش کرنے اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔

Back to top button