190ملین پاؤنڈکیس :بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد

وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ سنایا۔

بشریٰ بی بی کی سزا معطلی اپیل مسترد ہونےکا تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا گیا، چیف جسٹس امین الدین خان نے3 صفحات پرمشتمل فیصلہ تحریر کیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی اپیل مسترد کی جاتی ہے، اپیل 61 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی، متفرق درخواست کے ذریعے استدعا کی گئی کہ تاخیر کا معاملہ درگزر کیا جائے، تاخیر سے اپیل دائر کرنے کی وجہ بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل قید بتائی گئی، 61 دن کی تاخیر کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 30 اپریل کے حکم کو چیلنج کیا گیا، سلمان صفدر نے میاں نوازشریف کیس کا حوالہ دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں مرکزی اپیل پہلے مقررکی جاچکی ہے۔

فیصلے کے مطابق متوازی جائزے کے بجائےمرکزی اپیل کےفیصلےکوجلد یقینی بنایاجائے، وفاقی آئینی عدالت اس سطح پرمناسب سمجھتی ہےکہ مداخلت نہ کی جائے، توقع ہےکہ ہائیکورٹ مرکزی اپیل پرجلد فیصلہ کرےگی، امید ہے اسلام آباد ہائیکورٹ غیرضروری التوا کی حوصلہ شکنی کرے گی۔

قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر  نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون کیلئے عدالتوں نے ہمیشہ نرم گوشہ رکھا ہے، نیب کا کنڈکٹ 13 مہینوں میں قابل اعتراض رہا، نیب نے کئی سماعتوں پر التوا لیا، نیب نے سزا معطلی کی درخواست پر بھی اعتراض کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ سزا کے بعد اب بشریٰ بی بی کی ضمانت کا قانونی جواز بن چکا ہے، بشریٰ بی بی نے خاتون ہونے پر سزا معطلی مانگی، کیس میں سارا فوکس بانی کی اپیل پر رہا۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے کہا میرٹ پر اس موقع پر نہ جائیں، عدالت کے سامنے سزا معطلی کا کیس ہے جبکہ جسٹس باقر نجفی بولے کہ مرکزی اپیل سماعت کیلئے کتنی بار لگی ہے۔

عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو تحریری دلائل کے پوائنٹس جمع کرانے کا حکم دیا جبکہ چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کہا کہ حکم کا انتظار کریں۔

 

Back to top button