کشکول توڑنے کے دعوے، لیکن قرض لینے والے ممالک کی سربراہی

قرضے چھوڑنے اور کشکول توڑنے کے دعوے کرکے اقتدار میں آنے والے وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ قیادت پاکستان کو اب یہ اعزاز حاصل ہوگیا ہے کہ وہ قرضے لینے والے ممالک کے گروپ کا سربراہ مقرر ہوگیا ہے۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس کے دوران بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ’باروئرز پلیٹ فارم’ Borrowers Platform کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھال لی۔ یاد رہے کہ اورنگزیب ماضی میں خود آئی ایم ایف کی ملازمت کرتے رہے ہیں۔
یوں پاکستان کو ان ممالک کی قیادت سونپی گئی ہے جو قرض لینے کے بعد اسے چکانے کے لیے پیش آنے والی مالیاتی مشکلات سے نمٹنے کی سٹریٹجی تیار کرتے ہیں۔
تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پچھلے کئی برس سے پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالنے اور کشکول توڑنے کے عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ شہباز حکومت کی معاشی پالیسیوں کے ناقدین کے مطابق یہ شہباز حکومت کا ایک کھلا تضاد ہے کیونکہ ایک طرف قرض پر انحصار ختم کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف معیشت چلانے اور مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف کے پروگرام سے رجوع کرنے والے ممالک کی سربراہی حاصل کی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان قرضوں کا سارا بوجھ پاکستانی عوام کو اٹھانا پڑتا ہے جو مہنگائی، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق محمد اورنگزیب نے باروئرز پلیٹ فارم کی چیئرمین شپ سنبھالتے ہوئے سال 2026-27 کے لیے پاکستان کی ترجیحات بھی بیان کیں۔ ان میں قرضوں کے انتظام کو مضبوط بنانا، اصلاحات کے لیے دوسرے ممالک کے تجربات سے سیکھنا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنا شامل ہیں۔ وزیرِ خزانہ نے اس مؤقع پر اپنے خطاب میں زور دیا کہ قرض کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔۔
پاکستان پر قرضوں کا حجم ادے درپیش معاشی چیلنج کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 کے اختتام تک وفاقی حکومت کے ذمے 82 ہزار 953 ارب روپے کا قرض واجب الادا تھا، جبکہ اگست 2025 کے اختتام پر یہ رقم 77 ہزار 458 ارب روپے تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مجموعی قرضوں میں اندرونی اور بیرونی دونوں قرضے شامل ہیں، جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 87 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضوں میں پیرس کلب کے رکن ممالک کے 5.2 ارب ڈالر، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے 43.5 ارب ڈالر اور مختلف ممالک سے حاصل کردہ 14 ارب ڈالر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے عالمی سرمایہ منڈیوں سے یورو بانڈز، سکوک اور دیگر مالیاتی بانڈز کے ذریعے تقریباً چھ ارب ڈالر حاصل کیے، جبکہ 6.4 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے بھی واجب الادا ہیں۔
ایک سال سے کم مدت کے قرضوں میں 8.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ایک ارب ڈالر شامل ہیں، جبکہ آئی ایم ایف سے حاصل کردہ قرضوں کا حجم تقریباً 11 ارب ڈالرز بتایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ باروئرز پلیٹ فارم اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی کے تحت قائم کیا گیا ایک بین الاقوامی فورم ہے، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے انتظام، مالیاتی پالیسیوں اور ترقیاتی وسائل کے حصول سے متعلقہ تجربات کے تبادلے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے رکن ممالک تکنیکی تعاون حاصل کرسکتے ہیں، ایک دوسرے کی پالیسیوں سے سیکھ سکتے ہیں اور قرضوں سے متعلق عالمی مباحث میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک 31 ترقی پذیر ممالک اس پلیٹ فارم میں باضابطہ طور پر شامل ہوچکے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم 15 اپریل 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں قائم کیا گیا تھا، جہاں مصر کو عبوری چیئرمین اور پاکستان کو ابتدائی ورکنگ گروپ کا نائب چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ کولمبیا، ہونڈوراس، مالدیپ، نیپال اور زامبیا بھی اس گروپ کا حصہ تھے۔ اب پاکستان کی جانب سے گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالنے کے بعد اسے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں سے متعلق تجربات کے تبادلے اور مالیاتی تعاون کی قیادت کا موقع ملا ہے۔ تاہم اس فورم کی سربراہی بذاتِ خود قرضوں میں کمی یا معاشی خود مختاری کی ضمانت نہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے اصل کامیابی محض قرض لینے والے ممالک کی سربراہی حاصل کرنا نہیں بلکہ قرضوں پر انحصار کم کرنا، معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا اور عوام کو مہنگائی کی عفریت سے نجات دلانے میں ہے۔
