کیا بلوچستان میں پاکستانی جھنڈے اترنے کے قریب ہیں ؟

معروف صحافی، لکھاری اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان ڈوب رہا ہے لیکن ریاست حقائق چھپا رہی ہے اور صوبے کی سنگین ترین صورتحال کے باوجود آج بھی کھل کر سچ بیان نہیں کیا جارہا۔ ان کے مطابق بلوچستان میں حکومتی رٹ چند علاقوں کے اندر محدود ہوچکی ہے، کیونکہ مسلح علیحدگی پسند تنظیموں کی دہشت گرد کارروائیاں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورت حال بارے سچ تب بولا جائے گا جب بلوچستان سے پاکستان کے جھنڈے اتار دیے جائیں گے؟
جاوید چوہدری نے اپنے سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور اب کوئی خبر، تبصرہ یا خیال ریاستی مرضی کے بغیر اخبار یا ٹیلی ویژن پر پیش کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے، جبکہ یہی صورتحال سوشل میڈیا پر بھی نظر آرہی ہے۔ ان کے مطابق صحافیوں کے سامنے اب دو راستے رہ گئے ہیں کہ وہ اپنی تحریریں اور بیانات حذف کردیں یا پھر خود خاموش ہوجائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنے والے کئی صحافی اب اپنی بقا کی خاطر خاموشی اختیار کرچکے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حقائق چھپانے سے ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟
بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے جاوید چوہدری نے کہا کہ اگر ریاست نے ابتدا ہی میں صوبے کے انتظامی ڈھانچے، معاشی ترقی اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے مختلف فیصلے کیے ہوتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔ انکے مطابق بلوچستان کو انتظامی طور پر تقسیم کرنے، سرداروں کے بجائے عام شہریوں پر توجہ دینے، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سے ملحق بلوچ آبادیوں کے قریب صنعتی مراکز قائم کرنے اور انہیں ٹیکس میں خصوصی رعایتیں دینے سے روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکتے تھے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایسے صنعتی مراکز میں زیادہ تر ملازمتیں مقامی بلوچ نوجوانوں کو دی جاتیں تو احساس محرومی کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر جدید بندرگاہی اور تجارتی شہر آباد کرنے، انہیں بین الاقوامی کاروباری مراکز کی حیثیت دینے اور صوبے میں روایتی تعلیم کے ساتھ تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت تھی۔
ان کے مطابق اگر 1950ء کی دہائی میں ہی صوبے کے انتظامی اور قبائلی ڈھانچے میں اصلاحات کی جاتیں، لیویز کو مؤثر پولیس نظام کا حصہ بنایا جاتا اور فنی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو خلیجی ممالک سمیت ملک کے دوسرے صوبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے تو بلوچستان کی معاشی اور سماجی صورتحال آج مختلف ہوسکتی تھی۔ جاوید چوہدری کا کہنا یے کہ بلوچستان کا ایک بنیادی مسئلہ ریاستی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان بھی ہے، جہاں مختلف ادوار میں ایک ہی سیاسی شخصیت یا گروہ کے بارے میں متضاد فیصلے کیے جاتے رہے۔ انہوں نے خیر بخش مری اور ان کے خاندان، نواب اکبر بگٹی اور سردار اختر مینگل کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ایک دور میں بعض بلوچ رہنماؤں کو غدار قرار دیا گیا، جبکہ دوسرے دور میں انہیں واپس لاکر سیاسی عہدے دیے گئے۔ اسی طرح نواب اکبر بگٹی کو گورنر بنانے کے بعد 2006ء میں فوجی آپریشن کے دوران ان کی ہلاکت نے صوبے میں ریاست اور بلوچ قوم پرست حلقوں کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کیا۔ ایسے متضاد فیصلوں نے بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی مکالمے کے بجائے مسلسل تصادم کی طرف دھکیلا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی کارروائیوں اور حکومتی رٹ کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویش ناک ہوچکی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ سے منسوب حملوں میں مسافروں کو نشانہ بنانے، بسیں اور ٹرک روکنے اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے جیسے واقعات نے عام شہریوں اور کاروباری طبقے میں خوف پیدا کیا ہے۔ ان حالات کے باعث صوبے میں کپاس چننے والے مزدوروں، کھجوریں اتارنے والے کارکنوں، گاڑیوں کی مرمت کرنے والے مکینکوں اور دیگر پیشوں سے وابستہ افراد کی دستیابی بھی متاثر ہورہی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین بلوچستان میں تعیناتی سے گریز کرتے ہیں یا تبادلوں کے بعد طویل چھٹیاں لے لیتے ہیں۔
جاوید چوہدری نے مقامی سطح پر مسلح گروہوں کو ملنے والی مبینہ معاونت کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق حکومت کو شبہ ہے کہ بعض افراد اور سرکاری اہلکار شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کارروائیوں اور گرفتاریوں کے باوجود مسئلہ ختم نہیں ہورہا۔ انہوں نے گوادر میں جون 2026ء کے دوران 14 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کیے جانے اور جولائی 2024ء میں 200 اہلکاروں کو غفلت، نااہلی اور مسلسل غیر حاضری کی بنیاد پر برطرف کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کے اندر نظم و ضبط اور سکیورٹی کے معاملات بھی سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ کوئٹہ کے بعض علاقوں اور پشین جیسے قریبی اضلاع میں بھی سکیورٹی خدشات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ حکومتی شخصیات کو اپنی نقل و حرکت میں احتیاط کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں خودکش حملوں کے لیے خواتین کی بھرتی اور بیرون ملک سے مسلح تنظیموں کی مالی، تربیتی اور ابلاغی معاونت کے الزامات کو بھی تشویش ناک قرار دیا۔ ان کے مطابق بعض بیرونی عناصر اور تنظیمیں بلوچستان کی شورش کو تقویت دینے میں کردار ادا کررہی ہیں، جبکہ مختلف ممالک میں موجود بلوچ علیحدگی پسند حلقوں کو مالی وسائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے مدد ملنے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
جاوید چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ بلوچستان کی صورت حال کو مزید نظرانداز کرنا پورے ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایسی مستقل قومی پالیسی بنانا ہوگی جس میں صوبے کے عوام کو سیاسی نمائندگی، معاشی مواقع، تعلیم، روزگار، امن اور انصاف فراہم کیا جائے اور جسے ہر نئی حکومت اپنی مرضی سے تبدیل نہ کرسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ محض فوجی کارروائیوں، سیاسی رہنماؤں کو غدار یا محب وطن قرار دینے اور میڈیا کو خاموش کرانے سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر ریاست نے اب بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی اور سیاسی حل کی طرف پیش رفت نہ کی تو صوبے میں بدامنی مزید پھیل سکتی ہے اور پاکستان کو طویل خانہ جنگی جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
