سہیل آفریدی کی فیصلہ سازوں سے معافی تلافی کی درخواست

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختون خوا کے معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر پی ٹی آئی جنید اکبر خان نے گرفتاری کے بعد اضطراب کا شکار ہو کر طاقتور فیصلہ سازوں سے معافی تلافی کی درخواست کر دی ہے اور لانگ مارچ کا سارا مدعا عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان پر ڈال دیا ہے۔

 

منیب فاروق نے آفریدی حکومت کی معطلی کے بعد ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی اور جنید اکبر خان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ وفاقی حکومت صوبے میں ایسا غیرمعمولی قدم اٹھانے کا حتمی فیصلہ کر لے گی۔

منیب فاروق کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 برس سے برسر اقتدار تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نہ صرف پارٹی کی صوبائی بلکہ مرکزی قیادت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، کیونکہ لانگ مارچ کے نتیجے میں تحریک انصاف کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔

 

ان کے بقول، جس لانگ مارچ کا آغاز وفاقی حکومت گرانے اور عمران خان کو رہا کروانے کے لیے کیا گیا تھا، اس کا اختتام تحریک انصاف کے آخری صوبائی سیاسی قلعے کے خاتمے کی صورت میں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت نے جس احتجاجی تحریک سے حکومت پر دباؤ بڑھانے اور عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کرنے کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، اس کے نتیجے میں اسے اپنی واحد صوبائی حکومت سے بھی محروم ہونا پڑا۔ منیب فاروق کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر پی ٹی آئی و رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان سمیت پارٹی کے کسی بھی رہنما کو یقین نہیں تھا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو اس اچانک انداز میں ختم کر دیا جائے گا۔

 

ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی معطلی کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے درجن بھر ارکان کو حفاظتی تحویل کے نام پر گرفتار کر لیا، تاہم اب ان کے خلاف مختلف نوعیت کے مقدمات بھی کھولے جا رہے ہیں تاکہ انہیں زیادہ عرصہ تک حراست میں رکھا جا سکے اور ممکنہ طور پر سزائیں بھی دلوا دی جائیں۔ منیب فاروق کے مطابق، فیصلہ سازوں کے ان اقدامات نے تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کو ایک نئی مشکل سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ اب اسکی مرکزی قیادت کو قانونی کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

منیب فاروق کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف فوری طور پر زیر التوا مقدمات کی کارروائیاں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، اس سلسلے میں سب سے پہلے سہیل آفریدی کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت 9 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے کیس کی عدالتی سماعت شروع کروا دی گئی ہے۔ منیب فاروق کے مطابق، اس مقدمے کی کارروائی آفریدی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اس کے نتائج ان کے سیاسی مستقبل اور قانونی حیثیت پر اثر انداز ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔

 

اسلام آباد میں باخبر حکومتی ذرائع کے حوالے سے منیب فاروق نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور 9 مئی کے مقدمے میں بھی انہیں سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم نااہلی یا سزا سے متعلق کسی بھی امکان کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتی کارروائی اور قانونی تقاضوں سے مشروط ہے۔ منیب فاروق کے مطابق، سہیل آفریدی کے لیے مشکلات اس لیے بھی بڑھ گئی ہیں کہ ایک طرف ان کے خلاف ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ان کی آئینی اہلیت کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ یوں تحریک انصاف کے معطل وزیراعلیٰ کو بیک وقت سیاسی اور قانونی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔

 

منیب فاروق کے مطابق سہیل آفریدی کی مشکلات میں فوری کمی کا امکان دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ 15 اکتوبر کو آئینی عدالت ان کے خلاف شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کردہ نااہلی کی درخواست کی سماعت بھی کرنے جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس درخواست پر کارروائی سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس بھی ان کے لیے ایک الگ قانونی چیلنج ہے۔ حکومتی ذرائع سے منسوب دعوے کے مطابق، ان حالات میں سہیل آفریدی کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، تاہم ان کی نااہلی یا کسی مقدمے میں سزا کا فیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہے۔

سہیل آفریدی نے خود خیبرپختونخوا میں گورنر راج کیسے لگوایا؟

منیب فاروق کے تجزیے میں حکومتی ذرائع سے منسوب دعوے کے مطابق، سہیل آفریدی نے گرفتاری کے بعد طاقتور فیصلہ سازوں سے معافی تلافی کی درخواست کی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے دباؤ میں آ کر لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ دعوے کے مطابق، انہوں نے لانگ مارچ کے فیصلے کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے اسے عمران خان کے فیصلے سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

منیب فاروق کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور وفاقی حکومت کے خاتمے کے لیے شروع کیا جانے والا لانگ مارچ تحریک انصاف کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا، کیونکہ اس کے بعد پارٹی کو خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے خاتمے اور صوبائی قیادت کی گرفتاریوں سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، سہیل آفریدی اور جنید اکبر خان کے لیے اب قانونی مشکلات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی صورت حال کا سامنا کرنا بھی اہم ہوگا۔

Back to top button