واوڈا کے ’بوٹ‘ اور ’ری بوٹ‘ کے اشاروں کا کیا مطلب ہے؟

سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے پاکستان کو ’ری بوٹ‘ کرنے کے بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ’بوٹ‘ کی اصطلاح سے اپنی وابستگی کا اظہار اور ’ری بوٹ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نئے سرے سے چلانے کی ضرورت ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس عمل سے ان کی مراد کیا ہے، اس کا دائرہ کار کتنا وسیع ہوگا اور ان کے بقول آنے والے ’پارٹس‘ میں کیا سامنے آئے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فیصل واوڈا نے کہا کہ پاکستان کی کہانی نئی نسل کو سنانے کے لیے ’ری بوٹ‘ کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی وضاحت کی کہ ان کی مراد وہ والا ’بوٹ‘ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی سیاست میں بوٹ کی اصطلاح عموماً فوج یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی طرف اشارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے، تاہم فیصل واوڈا نے ری بوٹ کی تشریح نظام کو دوبارہ درست کرنے اور نئے سرے سے چلانے کے تصور سے کی۔

فیصل واوڈا نے خیبر پختونخوا میں گعرنر راج کے نفاذ کے بعد بنائے گئے نئے انتظامی سیٹ اپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیابی کا فیصلہ اعلانات نہیں بلکہ عملی کارکردگی کرے گی۔ ان کے مطابق اس بندوبست کو 180 دن کا ہدف دیا گیا ہے، جبکہ 30 اور 60 دن بعد بھی اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ جو نتائج دے گا وہ برقرار رہے گا اور ناکام ہونے والوں کو ہٹا دیا جائے گا۔

انھوں نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی پر بھاری ذمہ داری عائد ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں۔ فیصل واوڈا کے بقول، موجودہ پیش رفت ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے اور اس کے مزید ’پارٹس‘ بھی سامنے آئیں گے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی نظر میں ری بوٹ کے عمل کا دائرہ صرف خیبر پختونخوا تک محدود ہے یا اس کے ذریعے ملکی سیاسی نظام میں وسیع تر تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

فیصل واوڈا کی گفتگو کے بعد صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کے بیانات کے مختلف مطلب اخذ کیے۔ ایک صحافی نے انکی پریس کانفرنس کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ پیغام کس کا ہے اور کس کے لیے ہے۔ انہوں نے اپنی تشریح میں کہا کہ پریس کانفرنس کا مرکزی نکتہ پاکستان کو ری بوٹ کرنا، خیبر پختونخوا کو اس عمل کا ابتدائی مرحلہ قرار دینا اور 60 سے 180 دن کے دوران کارکردگی جانچنے کا تصور تھا۔

صحافی نصرت جاوید نے بھی سوال اٹھایا کہ فیصل واوڈا کی گفتگو کا ہدف گورنر فیصل کریم کنڈی اور پاکستان پیپلز پارٹی تھے یا خیبر پختونخوا میں اختیارات رکھنے والے انتظامی عہدیدار۔ دوسری جانب بعض سوشل میڈیا صارفین نے ان کے اندازِ گفتگو کو سیاسی نظام کے زوال کی علامت قرار دیا، جبکہ کچھ نے ان کے مزید اشاروں اور ممکنہ ’پارٹ ٹو‘ کا انتظار کرنے کا ذکر کیا۔ یوں ان کی پریس کانفرنس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات نے سیاسی بحث کو محض صوبائی انتظامی تبدیلیوں سے آگے بڑھا دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ فیصل واوڈا کی سیاست میں ’بوٹ‘ کا حوالہ نمایاں ہوا ہو۔

یاد رہے کہ جنوری 2020 میں، جب وہ تحریک انصاف کی حکومت میں وفاقی وزیر تھے، انھوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں اینکر کاشف عباسی کے سامنے فوجی بوٹ میز پر رکھ دیا تھا۔ اس وقت انھوں نے آرمی ایکٹ 2020 کی حمایت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ’بوٹ کو عزت‘ دی ہے۔ اس واقعے پر پیمرا نے پروگرام کی نشریات پر 60 دن کی پابندی عائد کر دی تھی۔

 

Back to top button