آفریدی کا سیاسی کیریئر پانی کا بلبلہ کیوں ثابت ہوا؟

حادثاتی طور پر خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ بن جانے والے سہیل آفریدی کا سیاسی کیریئر پانی کا بلبلہ ثابت ہوا کیونکہ وہ اپنے جذباتی پن اور غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے وزارتِ اعلیٰ ملنے کے ایک برس بعد ہی نہ صرف حکومت گنوا بیٹھے بلکہ پارٹی کو بھی تقسیم کر دیا اور گرفتار بھی ہو گئے۔

یاد رہے کہ عمران خان نے سہیل آفریدی کو علی امین گنڈا پور کی جگہ اپنی تیسری اہلیہ بشری بی بی کے مشورے پر خیبر پختون خواہبخا وزیراعلی نامزد کیا تھا۔ موصوف نے وزارت اعلی سنبھالنے کی ایک برس بعد وفاقی حکومت کو الٹانے اور عمران خان کو رہا کروانے کے مقصد سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا تھا لیکن ان کے وفاقی دارالحکومت پہنچنے سے پہلے ہی ان کی حکومت لپیٹ دی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے دوران پاکستان کا جھنڈا نہ لہرانے اور قومی ترانے کا احترام نہ کرنے کا اعلان کر کے ریاست کی ریڈ لائن کراس کر لی تھی جس کے بعد ان کا اقتدار میں رہنا ناممکن ہو گیا تھا۔

چنانچہ وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا یعنی آفریدی حکومت معطل ہو چکی ہے اور موصوف زیر حراست ہیں۔ یاد رہے کہ سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے ہے۔ ان کا سیاسی سفر تحریک انصاف کے طلبہ ونگ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن سے شروع ہوا، جہاں وہ تنظیمی عہدوں پر ترقی کرتے ہوئے صوبائی صدر بنے۔ تاہم ان کی سیاسی شناخت زیادہ تر جماعتی وابستگی اور تنظیمی سرگرمیوں کے ذریعے بنی، نہ کہ طویل انتخابی یا انتظامی تجربے کی بنیاد پر۔

2015 کے بلدیاتی انتخابات میں سہیل آفریدی نے پشاور کے علاقے لنڈی ارباب سے ڈسٹرکٹ کونسل کی نشست پر انتخاب لڑا، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ تقریباً 9 برس بعد، 2024 کے عام انتخابات میں وہ حلقہ پی کے 70 خیبر سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یوں صوبائی اسمبلی میں پہلی مرتبہ پہنچنے کے بعد ان کا سیاسی سفر غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھا۔ صوبائی اسمبلی میں کامیابی کے بعد انہیں علی امین گنڈاپور کی حکومت میں ذمہ داریاں ملیں، جبکہ اکتوبر 2025 میں وہ بشری بی بی کی سفارش پر خیبر پختونخوا کے 19ویں وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ محدود حکومتی تجربے کے باوجود اتنے بڑے منصب تک ان کی رسائی نے ان کے انتخاب کے معیار اور صوبے کی قیادت کے لیے درکار انتظامی صلاحیتوں پر بحث چھیڑ دی۔

آفریدی کے حامی اسے پارٹی قیادت کے اعتماد اور نئی نسل کی قیادت کا موقع قرار دیتے رہے، جبکہ ناقدین نے تجربے کی کمی پر سوال اٹھائے۔ وزارتِ اعلیٰ کے دوران وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدگی، عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال ان کے لیے بڑے چیلنجز بنے۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں شدت پسندی اور انتظامی کارکردگی پر تنقید کی، جبکہ تحریک انصاف نے وفاق پر سیاسی دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے۔ اس سیاسی محاذ آرائی میں صوبائی حکومت کی انتظامی ذمہ داریوں اور جماعتی احتجاج کے درمیان توازن ایک اہم مسئلہ بن گیا۔

یہ بحران تب شدت اختیار کر گیا، جب 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد منتخب صوبائی حکومت معطل کر دی گئی اور سہیل افریدی اور ان کی کابینہ کے درجن بھر اراکین کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس پیش رفت نے ان کا سیاسی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایکطرف وفاقی حکومت نے آفریدی کے خلاف 9 مئی 2023ء کو ریڈیو پاکستان پشاور کی بلڈنگ پر حملہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع کروا دی ہے تو دوسری طرف شیر افضل مروت نے ان کے بطور وزیر اعلی الیکشن کو عدالت میں چیلنج کر دیا یے۔

بلدیاتی انتخاب میں شکست سے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ تک اور پھر اپنی حکومت کی معطلی اور اپنی گرفتاری تک سہیل آفریدی کا سیاسی سفر پاکستانی سیاست میں تیز رفتار عروج اور تیز ترین زوال کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ان کے سیاسی مستقبل کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، لیکن ان کے مختصر دور نے یہ سوال ضرور اٹھایا ہے کہ کیا محض جماعتی سرپرستی اور سیاسی مقبولیت کسی بڑے صوبے کی حکمرانی کے لیے کافی ہیں، یا اقتدار کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے تجربہ، سیاسی تحمل اور انتظامی صلاحیت بھی اتنے ہی ضروری ہیں؟

Back to top button