کیا گورنر راج پی ٹی آئی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا؟

خیبر پختون خواہ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک طالبان نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے اس فیصلے کی مذمت کردی ہے، چنانچہ اب صوبے میں دہشت گرد حملے تیز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں وفاقی حکومت کا امتحان شروع ہوگیا ہے کیونکہ اگر امن و امان کی صورت حال بہتری کی بجائے ابتری کی طرف جاتی یے تو عوام اگلے الیکشن میں اپنا غصہ پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ دے کر نکالیں گے، یوں گورنر راج پی ٹی آئی کے نقصان کی بجائے اس پر احسان ثابت ہو گا۔
معروف تجزیہ کار اور اینکر پرسن سلیم صافی نے جنگ اخبار کے لیے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔ صافی کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی منتخب حکومت معطل کرکے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد دہشت گردی پر قابو پانے کی ذمہ داری اب براہ راست وفاقی حکومت کے کندھوں پر آگئی ہے۔ وفاقی حکومت نے سہیل آفریدی کی حکومت برطرف کرنے کے لیے دہشت گردی میں اضافے، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو مطلوبہ وسائل فراہم نہ کرنے اور بعض اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہونے کو جواز بنایا ہے، تاہم اب اسے اپنے اقدامات کے ذریعے ثابت کرنا ہو گا کہ نیک نیتی سے کام کیا جائے تو صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
سلیم صافی کا کہنا یے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد سیاسی محاذ پر کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ہے کیونکہ صرف پی ٹی آئی ہی نہیں بلکہ جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ اس صورت حال میں تحریک طالبان کی جانب سے بھی گورنر راج اور ایمرجنسی کی مذمت سامنے آئی ہے، جو اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ صافی کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک طالبان نے ملکی سیاست پر رد عمل دیا ہے جو بظاہر تحریک انصاف کے حق میں ہے۔
ان کے مطابق اگر وفاقی حکومت دہشت گردی میں کمی لانے میں کامیاب ہو گئی تو عوام اس ایکشن کو قبول کر سکتے ہیں لیکن اگر حالات جوں کے توں رہے یا مزید خراب ہو گئے تو اس کا سیاسی نقصان وفاقی حکومت کو اٹھانا پڑسکتا ہے۔
صافی نے خبردار کیا کہ اگر گورنر راج کے باوجود دہشت گردی پر قابو نہ پایا جاسکا تو اس کا سب سے ذیادہ سیاسی فائدہ پی ٹی آئی کو پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ عوام فوری طور پر سڑکوں پر نکل کر احتجاج نہ کریں، لیکن اگلے انتخابات میں وہ اپنے غصے کا اظہار پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ ڈال کر کرسکتے ہیں۔
اس طرح وفاق کے جس ایکشن کو صوبے میں امن و امان کی بحالی اور پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کے ازالے کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے، وہی فیصلہ الٹا عمران خان کی مقبولیت میں مذید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ محض کسی ایک حکومت کی ناکامی یا انتظامی اقدامات کی کمی تک محدود نہیں ہے۔ ماضی میں مختلف سیاسی اور عسکری ادوار میں بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، معاہدے کیے گئے اور فوجی آپریشنز شروع کیے گئے، لیکن اس کے باوجود مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق اس پس منظر کو نظرانداز کرکے یہ توقع رکھنا درست نہیں ہوگا کہ صرف گورنر راج نافذ کرنے یا صوبائی انتظامیہ کی تشکیل نو سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا۔
سلیم صافی کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کا مسئلہ نظریاتی، تزویراتی، معاشی اور سماجی پہلو بھی رکھتا ہے، اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی درکار ہے۔ ان کے بقول افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت اور جنگجوؤں کی موجودگی کے باعث اس مسئلے کا تعلق خارجہ پالیسی سے بھی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں جنگی معیشت اور اس سے وابستہ مفادات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان عوامل کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف انتظامی یا عسکری اقدامات پر انحصار کرنے سے دیرپا نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے بغیر بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ صافی کے مطابق ٹی ٹی پی کی عسکری صلاحیت اور جدید ہتھیاروں تک رسائی کے تناظر میں ریاستی اداروں کو زیادہ مؤثر اور مربوط اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ گورنر راج کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ سلیم صافی نے زور دے کر کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی کامیابی کا اصل پیمانہ سیاسی مخالفین کو اقتدار سے الگ کرنا نہیں بلکہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی میں نمایاں کمی لانا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر وفاقی حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہوئی تو اسے نہ صرف سکیورٹی کے محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایسی صورت میں پی ٹی آئی یہ مؤقف اختیار کرسکے گی کہ اس کی منتخب حکومت کو ہٹانے کے باوجود حالات بہتر نہیں ہوئے۔
