پی ٹی آئی بطور سیاسی قوت ختم ہوچکی: فیصل واوڈا

سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی بطور سیاسی قوت ختم ہوچکی ہے، آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ میں ایک برس پہلے بتاچکا تھا،پاکستان کا پرچم نہ اٹھانے کی بات کرنے والوں کی نسل تباہ کردیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے آئندہ 180 دن انتہائی اہم ہیں اور اس عرصے میں عملی کارکردگی سامنے آنی چاہیے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ پی ٹی آئی تقسیم ہوچکی ہے اور سیاسی طور پر اس کی حیثیت بالکل ختم ہوچکی۔پاکستان کے سیاسی معاملات سے متعلق ایک وسیع تر سلسلے کی پہلی قسط جاری ہونے کےبعد مزید قسطیں بھی سامنے آئیں گی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ میں عمران خان کو ایسے لوگوں سے بچاناچاہتا تھا جو ان کا نام بیچتےتھے،لیکن میں کامیاب نہ ہوسکا۔پی ٹی آئی والے دوستوں کو کہتا ہوں کہ وہ کسی پارٹی میں جائیں،نئی پارٹی بنائیں اب پی ٹی ائی ختم ہے۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا عوام کا صوبہ ہے، کسی کی جاگیر نہیں، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانےکا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے۔قومی ترانے اور پرچم کی بےحرمتی کرنےوالوں کو عوام عبرت کا نشان بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا مقصد لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے،خیبرپختونخوا میں دیرپا امن کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
فیصل واوڈا نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں اور آپ من مانیاں کرتےپھریں،ایسا نہیں ہوسکتا،خیبرپختونخوا میں گزشتہ 2 سال میں 95 فیصد دہشت گردی بڑھی،ہر صورت پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
فیصل واوڈا نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں 13 سال کی حکومت کی کارکردگی دیکھ لیں،تباہی ہی تباہی ہے،پوری امید ہے گورنر خیبرپختونخوا کام کرکے دکھائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان سے بڑا کوئی نہیں،پی ٹی آئی والے کہتےتھے لیڈر نہیں ہوگا تو پاکستان نہیں ہوگا۔پی ٹی آئی کے جھوٹےنعرے عوام کے سامنے بےنقاب ہوگئے،پہلا پارٹ ریلیز ہوگیا،ابھی پارٹ ٹو،پارٹ تھری اور پارٹ فور آنےہیں۔
انہوں نے کہاکہ 60 دن کے اندر نتائج نظر آنا شروع ہوجائیں گے،گورنر فیصل کریم کنڈی کو واضح کہتا ہوں اب ناکامی کاکوئی آپشن نہیں،پاکستان کی ترقی میں صدر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان ہمارےساتھ ہوں گے۔خیبرپختونخوا کے ذریعے ہم ری بوٹ یا ریسٹارٹ کے آپشن دیکھ رہے ہیں۔سپہ سالار نے جو ہمیں کامیابی دی،ان کی اور شہداء کی قدر کرنا ہوگی،امید ہے گورنر فیصل کریم کنڈی کام کرکے دکھائیں گے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ ان میں جمہورے،جمہوروں کو چینج کرنا پڑےگا، خیبرپختونخوا میں جمہورے اپنے آئےہیں،اگر ہمیں اس میں رزلٹ ملا اور جمہوریت کے اندر اچھے لوگ آتے ہیں،ہمیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کابینہ کے لوگ میرے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے، سمگل گاڑیوں کے معاملے پر بھی ان میں لڑائیاں ہو رہی ہیں، گرفتاری کرانے کے لیے سب خود سامنے آئے، پیسوں کا ان کا جھگڑا چل رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے سیاسی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاسی رہنماؤں کی صلاحیتوں اور طرزِ قیادت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان یا کسی صوبے کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھے۔ ان کے مطابق قومی پرچم، قومی ترانے اور ریاستی اداروں کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی ان کے پرانے دوست ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ صوبے میں عوامی مسائل کے حل، امن و امان کی بہتری اور انتظامی کارکردگی کے حوالے سے نتائج دیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی بندوبست میں ناکامی کا کوئی متبادل نہیں ہونا چاہیے اور اگر موجودہ ٹیم مطلوبہ نتائج نہ دے سکی تو اس سے بہتر کارکردگی دکھانے والے افراد کو موقع دیا جانا چاہیے۔ کابینہ میں شامل افراد کی صلاحیتوں کا فیصلہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ ان کے نام یا ظاہری حیثیت پر۔
انہوں نے بعض سیاسی عناصر پر دہشتگردی کے معاملے میں دوہرے معیار اپنانے کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاسی شخصیت یا جماعت دہشتگردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار نہیں کرتی تو اس سے سوالات کیے جانے چاہییں۔ تاہم انہوں نے کسی بھی فرد یا جماعت کے خلاف ان الزامات سے متعلق پریس کانفرنس میں قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں میں ایسے افراد بھی موجود ہو سکتے ہیں جو پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، لیکن جو لوگ قانون کی خلاف ورزی یا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں، ان کے خلاف شواہد کی بنیاد پر کارروائی ہونی چاہیے۔
فیصل واوڈا نے سیاسی مذاکرات اور بعض گرفتاریوں کے پس منظر سے متعلق بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں بعض سیاسی شخصیات اور رہنماؤں سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ بعض مذاکرات میں حکومتی اور سیاسی حلقوں کے افراد بھی شامل تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی معاملات میں پس پردہ رابطے اور مذاکرات جاری رہے اور ان کے مطابق گرفتاریوں اور دیگر واقعات کے پیچھے بھی مختلف عوامل کارفرما تھے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا ان مذاکرات میں شریک تمام افراد کا مؤقف پریس کانفرنس کے متن میں موجود نہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ سیاسی، ریاستی اور معاشی معاملات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا گورنر راج اور ایمرجنسی ہائی کورٹ چیلنج کرنے کا اعلان
فیصل واوڈا نے بلوچستان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سیاسی تعاون ضروری ہے اور قومی سلامتی کے معاملات پر اختلافات کو مؤثر اقدامات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں 180 روزہ انتظامی بندوبست کو کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جائے گا اور عوامی توقعات پر پورا نہ اترنے والوں کو تبدیل کرنے کا راستہ کھلا رہنا چاہیے۔
