صدر زرداری نے گورنر راج لگانے کی ہیٹ ٹرک مکمل کر لی

صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرکے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کرلی ہے۔ اس سے قبل وہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی گورنر راج نافذ کرنے کی سمریوں پر دستخط کرچکے ہیں۔ یوں وہ ملک کے پہلے صدر بن گئے ہیں جنہوں نے تین مختلف صوبوں میں گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلوں میں بطور صدر مرکزی کردار ادا کیا۔
ان خیالات کا اظہار معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو یہ اقدام بار بار کرنے والی جماعتوں میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ آصف علی زرداری بطور صدر تین مرتبہ گورنر راج نافذ کرنے کی سمریوں پر دستخط کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق جمہوری جماعتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی مسائل کا حل منتخب حکومتوں کی برطرفی کے بجائے جمہوری طریقوں سے تلاش کریں۔
بلال غوری کے مطابق آصف علی زرداری نے پہلی مرتبہ 25 فروری 2009ء کو پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کیے، جو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھجوائی تھی۔ دوسری مرتبہ 14 جنوری 2013ء کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی ایڈوائس پر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا گیا، جبکہ اب 11 اکتوبر 2026ء کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھجوائی گئی سمری پر دستخط کرکے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طرح آصف علی زرداری نے اپنے صدارتی دور میں تین مختلف صوبوں میں گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی ہے۔
بلال غوری کے مطابق پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ خاصی طویل ہے اور اب تک ملک کے مختلف حصوں میں کئی بار منتخب حکومتوں کو برطرف کرکے صوبائی اختیارات گورنروں یا وفاق کے زیر انتظام منتقل کیے جاچکے ہیں۔ ان کے تجزیے کے مطابق پنجاب اور سندھ میں تین تین مرتبہ، مشرقی پاکستان میں دو مرتبہ جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں چار چار مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا۔
پنجاب میں پہلا گورنر راج 1949ء میں وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت برطرف کیے جانے کے بعد نافذ ہوا، جبکہ مارچ 1951ء میں انتخابات کے نتیجے میں ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔
بلال غوری نے مشرقی پاکستان اور بلوچستان کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیاسی اختلافات اور وفاقی حکومت کے فیصلوں کے نتیجے میں بھی صوبائی حکومتیں برطرف کی جاتی رہی ہیں۔ 30 مئی 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے مشرقی پاکستان میں وزیراعلیٰ اے کے فضل الحق کی حکومت برطرف کردی، حالانکہ ان کی جماعت یونائیٹڈ فرنٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکی تھی۔
اسی طرح فروری 1973ء میں بلوچستان میں اسلحے کی ایک کھیپ برآمد ہونے کے بعد سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا، جس کے ردعمل میں صوبہ سرحد، یا موجودہ خیبر پختونخوا، کے وزیراعلیٰ مفتی محمود نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ گورنر راج نافذ کیا جاچکا ہے۔ فروری 1975ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کی حکومت برطرف کرکے 90 روز کے لیے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس سے قبل 1973ء میں بھی صوبے میں مختصر مدت کے لیے صدر راج نافذ ہوا تھا، جبکہ فروری 1994ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں صدر فاروق لغاری نے وزیر اعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کردیا۔ یہبگورنر راج اپریل 1994ء میں تب ختم ہوا جب آفتاب احمد خان شیرپاؤ وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔
بلال غوری نے اکتوبر کے مہینے کو بھی پاکستان کی جمہوری تاریخ کے حوالے سے اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق 16 اکتوبر 1951ء کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا، 24 اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی برطرف کی، 7 اکتوبر 1958ء کو پہلا مارشل لا نافذ ہوا اور 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرکے جمہوری حکومت کا خاتمہ کردیا۔ ان تاریخی واقعات کے تناظر میں 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو بھی جمہوری تسلسل اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وفاق میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی شریک اقتدار ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق آئین میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود ماضی میں ان اختیارات کا استعمال اکثر سیاسی ضرورتوں اور اقتدار کی کشمکش کے تناظر میں کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے 3 نومبر 2007ء کو ایمرجنسی کے نفاذ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی آئینی اقدامات بسا اوقات حکومت کو مضبوط کرنے کے بجائے اس کے لیے مزید مشکلات پیدا کردیتے ہیں۔ بلال غوری نے خدشہ ظاہر کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا اقدام بھی بظاہر محدود مدت کے لیے ہو، لیکن اس کا دورانیہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے نگران حکومتوں کی مثال دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا یہ گورنر راج بھی اپنی مقررہ مدت سے آگے بڑھ کر صوبائی اسمبلی کی موجودہ مدت کے اختتام تک برقرار رکھنے کی کوشش تو نہیں بن جائے گا۔
