حامد میر کا شہباز کو عمران فوبیا سے نکلنے کا مشورہ

معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک ایسے شخص کے گرد گھوم رہی ہے جو گزشتہ تین سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ اس قیدی کا نام عمران خان ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر نے کہا کہ شہباز شریف حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی بن چکی ہے اور اس کی پالیسیاں ملک کو سول آمریت کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو اس سیاسی کیفیت سے نکل کر بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے۔

حامد میر کے مطابق 18 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کو دو دن کے اندر اسلام آباد کے الشفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، تاہم ان کے بقول حکومت نے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ عمران خان کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جانے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد ہو جاتا تو سیاسی کشیدگی میں کمی آ سکتی تھی اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے تک نوبت نہ پہنچتی۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ اس کے بعد وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ حامد میر کے مطابق سہیل آفریدی نے واضح کیا تھا کہ اگر عمران خان لانگ مارچ روکنے کا کہیں گے تو وہ اس فیصلے پر عمل کریں گے۔ تاہم مذاکرات میں ناکامی کے بعد وفاقی حکومت نے سہیل آفریدی کو ذمہ دار قرار دیا اور صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

حامد میر نے اپنے تجزیے میں کہا کہ شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورت حال پر غور کیا اور صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ سامنے آیا۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینے سے سیاسی تنازع مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گورنر راج کسی صوبے میں منتخب حکومت کے خاتمے کا باعث بنتا ہے، اس لیے ایسے فیصلے کے سیاسی اور آئینی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ماضی میں بھی گورنر راج اور سیاسی مداخلت کے تجربات ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ 1954ء میں مشرقی پاکستان میں انتخابات کے بعد یونائیٹڈ فرنٹ کے اے کے فضل الحق وزیراعلیٰ بنے، لیکن وفاقی حکومت نے انہیں برطرف کر کے صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ ان کے مطابق اس واقعے نے وفاق اور مشرقی پاکستان کے درمیان سیاسی فاصلے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ حامد میر نے کہا کہ ماضی کے ان واقعات سے سبق نہ سیکھنا ملکی سیاست کا ایک بڑا المیہ ہے۔

انہوں نے 1970ء کے الیکشن اور مشرقی پاکستان کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی لیگ کو اکثریت ملنے کے باوجود اقتدار منتقل نہیں کیا گیا اور بالآخر فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ان کے مطابق اس بحران نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ حامد میر نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بعد کے برسوں کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منتخب حکومتوں کی برطرفی اور سیاسی مخالفین کو ملک دشمن قرار دینے کی روش نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کیا۔

حامد میر کے مطابق عمران خان بھی 2018ء میں فوجی جرنیلوں کی حمایت کے ساتھ وزیراعظم بنے، لیکن طاقتور حلقوں سے اختلافات کے بعد انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور شہباز شریف وزیراعظم بن گئے۔ ان کے بقول یہ توقع کی جا رہی تھی کہ عمران خان بھی ماضی کے بعض سیاست دانوں کی طرح سمجھوتہ کر کے بیرون ملک چلے جائیں گے، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت عمران خان کی رہائی کے معاملے پر سیاسی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں، جس کے باعث سیاسی کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف حکومت اپنے اقدامات کو آئین کے مطابق قرار دیتی ہے، لیکن آئین کے تحت سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد بھی لازم ہے۔ حامد میر نے عمران خان کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے اور صحافیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے واقعات کا بھی ذکر کیا، تاہم ان کے مطابق موجودہ سیاسی صورت حال میں جمہوری آزادیوں اور آئینی تقاضوں سے متعلق سوالات مزید اہم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور دہشت گردی کے خطرات کے تناظر میں کہا کہ پاکستان کو داخلی سیاسی محاذ پر تصادم بڑھانے کے بجائے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

حامد میر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے حکومت کو تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ایسا تاثر صوبے میں امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ حامد میر نے زور دیا کہ شہباز شریف حکومت کو عمران خان فوبیا سے نکل کر سیاسی مفاہمت، آئین کی پاسداری اور جمہوری اصولوں کو ترجیح دینی چاہیے، ورنہ ان کے بقول ملک سول آمریت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا۔

Back to top button