پی ٹی آئی والے آج تک ڈی چوک سے باہرنہیں نکلے،شہبازشریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن یہ لوگ آج تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے۔

مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں سوات میں دوبارہ دہشتگردوں کی آمد شروع ہوئی، حالانکہ 2018 تک ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوچکا تھا۔

وزیراعظم نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور سے ملاقاتیں ہوئیں، جس میں ہم نے انہیں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

شہباز شریف نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ترقی کے سفر کو روکنے پر تلی ہوئی تھی، جبکہ گزشتہ چند ماہ سے صوبے میں صورتحال انتہائی خراب ہوچکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے ذمہ داران دہشتگردوں کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں تھے۔

وزیراعظم نے تحریک انصاف کے ماضی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2014 میں ان لوگوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں گندے کپڑے دھوئے اور قبریں کھودیں۔

انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے دوران بار بار مسودے کو تبدیل کیا گیا، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔

شہباز شریف نے مزید کہاکہ گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت اور مشاورت کے لیے تکنیکی ماہرین پر مشتمل 11 رکنی کونسل قائم کی گئی ہے۔

Back to top button