خیبرپختونخوامیں گورنرراج،ایمرجنسی کانفاذآئین کے تحت ہوا،محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، اپوزیشن لیڈر نے جذباتی تقریر کی، وہ بتائیں کہ آئین کی کس شق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ و سینیٹر محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر آئین کی ایک ایک شق کا جائزہ لیا گیا۔ اس اقدام کو درست یا غلط قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے، کیونکہ آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کا طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والے مذاکرات میں اپوزیشن لیڈر بھی شریک تھے۔ اگر کسی کے پاس مذاکرات سے متعلق کوئی اسکرپٹ ہے تو وہ سامنے لائے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے ہی دن دہشت گردی کے معاملے پر بات ہوئی تھی۔ اسد قیصر نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے بھی وہ اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں رہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پیرا فورس میں تبدیلیوں کے لیے پورا دن ان کے انتظار میں رہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن 26 نومبر کو بھی موجود تھا، لیکن اگر اس روز معاہدہ ہوجاتا تو ایمرجنسی نافذ نہ کرنا پڑتی۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ کسی صوبے میں پولیس اہلکار شہید ہوتے رہیں اور کوئی ان کے ساتھ کھڑا نہ ہو۔ جس صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی قیادت کرنی چاہیے تھی، وہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مسودے میں 4 مرتبہ تبدیلیاں ہوئیں، جبکہ چوتھی مرتبہ 6 تجاویز پیش کی گئیں جنہیں حکومت نے تسلیم کرلیا۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مذاکرات میں بلایا جائے، لیکن وہ نہیں آئے۔ اگر پی ٹی آئی کے وفد کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار نہیں تھا تو اسے وزیراعلیٰ کو بلانا چاہیے تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں 80 فیصد دہشت گردی افغانستان سے ہورہی ہے۔
