کیا امریکہ نے دفاع کے نام پر سعودیہ کو اربوں کا چونا لگایا؟

سعودی عرب نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ کو اربوں ڈالرز دے کر جدید ترین فضائی اور میزائل دفاعی نظام خریدے تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکے، لیکن جب وقت آیا تو پتہ چلا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون سعودی عرب کے اہم ترین ہوائی اڈوں اور حساس تنصیبات کو درست درست نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں اب یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے اپنے اہم ترین خلیجی اتحادی کو جدید دفاعی نظاموں کے نام پر اربوں ڈالرز کا چونا لگایاہے۔
سعودی عرب نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ سے جو جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی خریدی تھی اس میں ٹرمینل پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم نمایاں تھے، یہ سسٹم دشمن کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو اس کے ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے فضا میں ہی تباہ کر دیتے ہیں۔ تاہم حوثیوں کے سعودی عرب پر کامیاب حملوں اور 15 لوگوں کی اموات نے ان جدید ائیر ڈیفنس سسٹمز کی عملی افادیت پر سوالات اٹھا دیئےہیں۔
یاد رہے کہ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے گزشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ تازہ حملوں میں بھی سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا یے۔ اگرچہ سعودی فضائی دفاع نے کئی حملوں کو ناکام بھی بنایا، تاہم زیادہ تر میزائل حملے امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ ایر ڈیفنس سسٹم کو عبور کرتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے جس سے درجن بھر سے زائد لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ یعنی اب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ کے فراہم کردہ ایئر ڈیفنس سسٹم بھی حملے روکنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق کسی ملک کے پاس جدید دفاعی نظام موجود ہونا اور اس کے ذریعے ہر میزائل یا ڈرون کو روک لینا دو مختلف باتیں ہیں۔ ان کے مطابق کسی فضائی دفاع کی کامیابی کا انحصار صرف میزائل ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ ریڈار، نگرانی کے نظام، بروقت اطلاعات، دفاعی یونٹوں کے باہمی رابطے اور حملے کی نوعیت پر بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی حملے میں بیک وقت مختلف سمتوں سے کئی میزائل اور ڈرون داغے جائیں تو دفاعی نظام کے لیے تمام اہداف کی بروقت نشاندہی اور انہیں تباہ کرنا بہٹ زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
حوثیوں کے حملوں کا ایک اہم پہلو ان کے زیر استعمال تھیاروں کی کم لاگت اور دفاعی میزائلوں کی بھاری قیمت کے درمیان فرق ہے۔
یعنی نسبتاً سستے ڈرونز یا میزائلوں کو روکنے کے لیے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے دفاعی نظام چلانے کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
دراصل مسلسل حملوں کی صورت میں دفاعی میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ پڑتا ہے اور انہیں دوبارہ بھرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اسلیے محدود تعداد میں انتہائی جدید دفاعی نظام بھی مسلسل اور بڑے پیمانے پر ہونے والے میزائیل اور ڈرون حملوں کے سامنے مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب کا جغرافیہ بھی اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ملک کا وسیع رقبہ، طویل سرحدیں اور تیل کی تنصیبات سمیت اہم مقامات کا مختلف علاقوں میں پھیلاؤ ہر جگہ یکساں فضائی تحفظ فراہم کرنا مشکل بناتا ہے۔ دفاعی نظاموں کو ترجیحی اہداف کے تحفظ کے لیے تعینات کرنا پڑتا ہے، جبکہ دشمن مختلف مقامات کو بیک وقت نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حوثیوں کی فوجی صلاحیت میں اضافے اور بہتر میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال نے بھی سعودی دفاعی نظام کے لیے خطرات بڑھائے ہیں۔ ایران اور حوثیوں کے درمیان روابط پر طویل عرصے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، جبکہ ایران حوثیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال نے خطے میں دفاعی توازن کے بارے میں تشویش پیدا کی ہے۔ ان ہتھیاروں کی بدلتی ہوئی صلاحیتوں کے مقابلے کے لیے دفاعی نظاموں کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا اور حملوں کے طریقۂ کار کے مطابق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا ضروری ہے۔
