سہیل آفریدی PTI کے اندر شدید تنقید کی زد میں کیوں؟

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی ہی جماعت کے اندر شدید تنقید کی زد میں آگئے ہیں۔ پارٹی میں موجود انکے ناقدین کا کہنا ہے کہ بغیر تیاری اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائے بغیر بغیر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان سہیل آفریدی کی سب سے بڑی سیاسی غلطی ثابت ہوا، جس کی قیمت تحریک انصاف کو صوبائی حکومت کے خاتمے کی صورت میں چکانا پڑی۔ عمران خان کی جانب سے ایک برس قبل علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان کی سیاسی ناپختگی نے عمران خان کے آخری سیاسی قلعے کو بھی کھو دیا دیا۔
ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ سہیل آفریدی نے کارکنوں کے دباؤ میں آکر ایسا سیاسی محاذ کیوں کھولا جس کے ممکنہ نتائج کا اندازہ لگانے اور حکومت بچانے کے لیے ان کے پاس کوئی مؤثر متبادل حکمتِ عملی موجود نہیں تھی؟ سیاسی مبصرین کے مطابق، موجودہ بحران کی بنیاد جولائی کے آخری ہفتے میں وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران پڑی، جب سہیل آفریدی نے پارٹی قیادت کو کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد مارچ کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں اسد قیصر اور تیمور سلیم جھگڑا سمیت بعض رہنماؤں نے احتجاج سے پہلے مناسب تیاری، سیاسی رابطوں اور وفاقی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا، تاہم سہیل آفریدی نے 5 اگست کو پشاور میں ہونے والے جلسے کے دوران 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کرنے کا اعلان کردیا۔
ناقدین کے خیال میں، یہی وہ مرحلہ تھا جب احتجاج کے سیاسی مقاصد، انتظامی مشکلات اور ممکنہ حکومتی ردعمل کا مکمل جائزہ لیے بغیر ایک بڑے سیاسی تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق، سہیل آفریدی کے لیے اصل چیلنج کارکنوں کے جوش کو ایک منظم سیاسی تحریک میں تبدیل کرنا تھا، لیکن اس مقصد کے لیے درکار تیاری اور پارٹی کے اندر اتفاقِ رائے کے حوالے سے کئی سوالات سامنے آئے۔ انہوں نے پنجاب اور سندھ میں رابطہ مہم کے ذریعے احتجاج کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم لانگ مارچ کو ایک ملک گیر تحریک بنانے کے لیے مرکزی قیادت، صوبائی تنظیموں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی۔
وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے مابین ستمبر کے دوران ہونے والے رابطے بھی کشیدگی کم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ سہیل آفریدی کو توقع تھی کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے کوئی راستہ نکل آئے گا، لیکن وفاقی حکومت کی مخالفت اور احتجاج سے متعلق انتظامی رکاوٹوں نے ان کے منصوبے کو مشکلات سے دوچار کردیا۔ 25 ستمبر کو مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کرنا بھی اس سیاسی مہم کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ ناقدین کے مطابق، تاریخ میں تبدیلی نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ احتجاجی حکمتِ عملی ابتدا ہی سے غیر یقینی کا شکار تھی اور قیادت نے ممکنہ رکاوٹوں کے لیے کوئی مؤثر متبادل منصوبہ تیار نہیں کیا تھا۔
بعدازاں 4 اکتوبر کو لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا جو اسلام اباد کا رخ کرنے کی بجائے جلیبی کی طرح خیبر پختون خواہ کے مختلف اضلاع میں ہی گھومتا رہا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑی احتجاجی تحریک کے لیے محض تاریخ کا اعلان یا کارکنوں کو سڑکوں پر لانے کا عزم کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے واضح اہداف، قیادت کی یکسوئی، کارکنوں کی منظم صف بندی اور حکومتی اقدامات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، سہیل آفریدی ان بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے اور مارچ اپنے اعلان کردہ سیاسی مقصد کے حصول کے بجائے صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ بن گیا۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں، سہیل آفریدی کی سب سے بڑی سیاسی کمزوری یہ تھی کہ وہ ایک طرف کارکنوں کے دباؤ پر اسلام آباد مارچ کی قیادت کررہے تھے اور دوسری طرف انہیں صوبے کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انتظامی معاملات، امن و امان اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات بھی سنبھالنے تھے۔
ناقدین کے مطابق، انہیں احتجاج کی شدت بڑھانے سے پہلے یہ اندازہ لگانا چاہیے تھا کہ اگر وفاقی حکومت مارچ روکنے کے لیے سخت اقدامات کرتی ہے تو اس کے صوبائی حکومت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے خیال میں، سیاسی قیادت کی ذمہ داری صرف کارکنوں کے مطالبات کی ترجمانی کرنا نہیں بلکہ ان کے حصول کے لیے ایسا راستہ اختیار کرنا بھی ہے جس سے جماعت اور حکومت دونوں کو غیر ضروری نقصان سے بچایا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پارٹی کے اندر یہ بحث شدت پکڑ گئی ہے کہ آیا عمران خان نے وزارتِ اعلیٰ کے لیے درست انتخاب کیا تھا یا نہیں۔
