حوثیوں کے حملوں سے پاکستان سفارتی مشکل کا شکار

 

 

 

یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور دیگر اہم شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں نے پاکستان کو پیچیدہ سفارتی اور دفاعی صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست اور اہم دفاعی شراکت دار ہے، تو دوسری جانب ایران ہمسایہ ملک ہے، جس سے تصادم پاکستان کے علاقائی مفادات اور سرحدی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ سعودی عرب پر حملوں اور پاکستانی شہریوں کی اموات نے صورتِ حال مزید سنگین بنا دی ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پاکستان کے لیے اصل چیلنج سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی اور وسیع علاقائی جنگ سے بچنا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف حوثیوں کے حملوں کی مذمت اور سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کر چکے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات محض سیاسی حمایت تک محدود نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔ تاہم سعودی عرب کی حمایت اور حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی میں حصہ لینا دو الگ معاملات ہیں۔

 

پاکستانی وزارتِ خارجہ واضح کر چکی ہے کہ حملوں کے جواب میں مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوری فوجی کارروائی پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ اسلام آباد کو دفاعی وعدوں، علاقائی ذمہ داریوں اور قومی مفادات میں توازن قائم رکھنا ہوگا، کیونکہ کسی بھی اقدام کے اثرات معیشت، توانائی، خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں اور ایران کے ساتھ تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔

 

دراصل سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرنے والے حوثی باغیوں کا تعلق یمن کے شمالی علاقوں سے ہے اور اس کا باضابطہ نام انصار اللہ ہے۔ حوثی تحریک کا آغاز زیدی شیعہ مذہبی اور ثقافتی روایات کے احیا سے ہوا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک منظم سیاسی اور مسلح قوت بن گئی۔ سیاسی نمائندگی کا فقدان، علاقائی محرومی، حکومتی پالیسیوں سے ناراضی اور ریاستی اداروں کی کمزوری اس کے عروج کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ اس لیے حوثیوں کی تحریک کو محض مذہبی اختلافات کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

 

حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد ملک کو گہرے سیاسی بحران میں دھکیل دیا تھا۔ سعودی عرب نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر ان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی، جس کا مقصد یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی بحالی اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنا تھا۔ کئی برس کی جنگ کے باوجود حوثی شمالی یمن کے بڑے حصے پر قابض رہے۔ سعودی عرب سے ان کی دشمنی کی بنیادی وجوہات میں یمن کی اقتدار کی کشمکش، سعودی فوجی مداخلت، سرحدی سلامتی اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی رقابت شامل ہیں۔

ایران حوثیوں کا اہم علاقائی اتحادی ہے اور مختلف تجزیوں کے مطابق وہ انہیں میزائلوں، ڈرونز اور دیگر فوجی صلاحیتوں کے حصول میں مدد فراہم کرتا رہا ہے۔

 

تاہم حوثیوں کی اپنی مقامی قیادت اور سیاسی ترجیحات بھی ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانا سعودی عرب کے لیے بڑا خطرہ ہے اور اس سے اس کے دفاعی نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

سعودی عرب پر حالیہ حملوں میں ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور تیل کی تنصیبات سمیت اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے، جبکہ سعودی حکام نے بعض میزائلوں کو روکنے کی اطلاعات دیں۔

 

حملوں کے نتیجے میں فضائی آپریشنز میں تعطل، پروازوں کی منسوخی اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی نے سعودی سلامتی اور معیشت کو متاثر کیا۔ سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کی اموات نے اس بحران کو پاکستان کے لیے مزید حساس بنا دیا ہے۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں پاکستانی خدمات اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں، اس لیے طویل عدم استحکام ان کی ملازمتوں اور آمدنی کو متاثر کر سکتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے سفارت کاری سب سے اہم راستہ ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کے ساتھ ایران کے ساتھ تعلقات کو تصادم کی جانب بڑھنے سے روکنا بھی اسلام آباد کے مفاد میں ہے۔ پاکستان حملوں کی مذمت کے علاوہ علاقائی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ حوثیوں کے حملے رکوانے، یمن کے بنیادی مسائل حل کرنے اور سعودی سرحدی سلامتی یقینی بنانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرنا ضروری ہے۔

اس بحران کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں، جبکہ جنگ پھیلنے سے تیل کی قیمتوں، بحری تجارت، فضائی سفر اور توانائی کی ترسیل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت منظر نامے سے غائب کیوں؟

بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں حوثیوں کی سرگرمیاں عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ وسیع جنگ کی صورت میں پاکستان کو توانائی کے بڑھتے اخراجات، تجارتی مشکلات اور بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے تحفظ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے حملے پاکستان کے لیے محض علاقائی تنازع نہیں، بلکہ اس کے دفاعی، سفارتی اور معاشی مفادات سے جڑا بحران ہیں۔ پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو اسے وسیع جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ دفاعی تعاون، مؤثر سفارت کاری، ایران سمیت متعلقہ ممالک سے رابطے اور یمن میں سیاسی تصفیے کی کوششیں اس حکمتِ عملی کے اہم اجزا ہو سکتے ہیں۔

Back to top button