دروازہ توڑ گرفتاری کے بعد سہیل آفریدی کہاں ہیں؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ خیبر پختون خواہ کے معطل وزیراعلی سہیل آفریدی کو چیف منسٹر ہاؤس سے گرفتاری کے بعد ایک غیر مانوس مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ سخت اضطرابی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔

 

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی نے دعوی کیا کہ سہیل آفریدی نے گرفتاری سے پہلے کافی مزاحمت کی اس لیے سیکیورٹی حکام کو ان کے کمرے کا دروازہ توڑنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ مردان میں اپنا لانگ مارچ چھوڑ کر ہنگامی طور پر وزیراعلی ہاؤس پشاور پہنچنے والے سہیل آفریدی گرفتاری کے وقت اپنے کمرے میں اکیلے موجود تھے اور انہوں نے اندر سے دروازہ لاک کر رکھا تھا۔ سیکیورٹی اہلکاروں اور سہیل آفریدی کے درمیان دروازہ کھلوانے کے لیے کافی دیر تک بحث ہوتی رہی جس کے بعد دروازہ توڑ دیا گیا۔ گرفتاری کے آدھے گھنٹے بعد آفریدی کو ایک نا مانوس اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

 

منیب فاروق کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے صدر جنید اکبر خان گرفتاری کے وقت وزیراعلی ہاؤس کے کچن سے ملحقہ سٹور میں چھپ گئے تھے لہذا انہیں بھی دروازہ توڑ کر گرفتار کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سہیل آفریدی کو نظر بند کرنا مقصود ہوتا تو انہیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں بھی رکھا جا سکتا تھا، تاہم ان کو وہاں سے منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی موجودہ لوکیشن ایک نا مانوس مقام ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ سہیل آفریدی سخت دباؤ میں ہیں اور پریشانی کا شکار ہیں اور فیصلہ سازوں سے معافی تلافی کی درخواست کر رہے ہیں جس کا امکان بہت کم نظر آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کے خلاف نو مئی 2023 کے حملوں کا کیس بھی کھل چکا ہے۔

 

تحریک انصاف کے خلاف مزید کارروائیوں کے امکان بارے منیب فاروق نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریاں ہونے والی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نو مئی کے مقدمات میں مطلوب اور مفرور قرار پانے والے تحریک انصاف پنجاب کے رہنماؤں کی خیبر پختون خواہ سے گرفتاریوں کا منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

 

سینیئر اینکر پرسن نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا کہ آنے والے دنوں میں وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت درجنوں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف نئے کیسز درج ہونے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ معروف لوگوں کے خلاف ریاست مخالف عناصر سے مجرمانہ روابط کے الزامات پر بھی مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے حکومتی نظام کی خامیوں، انتظامی کمزوریوں اور سکیورٹی صورت حال کے وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

 

منیب فاروق نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ سے ایک سال کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگز میں حکومتی نظام کی خامیوں اور انتظامی مسائل کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ ان کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیلڈ مارشل نے بھی حکومتی نظام کی کمزوریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان خامیوں کو فوجی اہلکار اپنے خون سے پورا کرتے ہیں۔ بعد ازاں دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا، جبکہ منشیات، اسمگلنگ، غیر قانونی سرگرمیوں اور کان کنی سے متعلق مسائل بھی زیر بحث آتے رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل ایک خصوصی نشست میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بتایا گیا تھا کہ خیبر پختون خوا میں ان کی جماعت سے وابستہ بعض افراد کے روابط خطرناک دہشت گردوں سے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد کا حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

منیب فاروق کے مطابق اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا تھا کہ پارٹی کے بعض افراد ایسے عناصر کے ساتھ کیوں وابستہ ہیں اور ان کے درمیان کس نوعیت کے تعلقات ہیں۔منیب فاروق نے مزید کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس نوعیت کے معاملات پر بات کی ہے، جبکہ بعض پارلیمنٹیرینز کے روابط کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ افراد کے نام اور ان کے خلاف شواہد سامنے آنے سے پہلے کسی مخصوص شخصیت کا نام لینا مناسب نہیں۔

Back to top button