پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت منظر نامے سے غائب کیوں؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے باوجود تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر نکالنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے، حالانکہ عمران خان کی جماعت گزشتہ 13 سال سے صوبے میں برسر اقتدار رہی ہے۔
صوبے میں بڑے احتجاجی مظاہروں کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کے تمام مرکزی رہنما یا تو انڈر گراؤنڈ ہو گئے ہیں یا انہوں نے اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دی ہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف کی تنظیمی صلاحیت، عوامی حمایت اور احتجاجی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماضی میں پشاور سمیت خیبر پختونخوا کو تحریک انصاف کا مضبوط سیاسی گڑھ قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن موجودہ صورت حال میں پارٹی اپنی طاقت کا مؤثر مظاہرہ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما گرفتاریوں کے خوف سے انڈر گراؤنڈ ہیں اور اپنے ورکرز سے بھی رابطے ختم کر دیے ہیں جبکہ پشاور میں موجود پنجاب اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما بھی سیاسی منظر نامے سے غائب ہو چکے ہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج نہ ہونے سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا پارٹی قیادت کارکنوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہے یا موجودہ حالات میں کسی بڑے احتجاج سے گریز کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیرون ملک سے کام کرنے والا اس کا سوشل میڈیا بریگیڈ بھی اس وقت پارٹی قیادت کا رگڑا نکال رہا ہے۔ عمران خان کے چیف آف سٹاف اور سوشل میڈیا بریگیڈ کے سربراہ شہباز گل نے اپنے تازہ وی لاگ میں اعتراف کیا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں حکومت کی معطلی کے بعد پارٹی قیادت کسی قسم کا احتجاج کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تمام پارٹی رہنما منظر عام سے غائب ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ایم پی ایز ہاسٹل بھی تقریبا خالی ہو چکے ہیں کیونکہ ممبران اسمبلی گرفتاری کا رسک نہیں لینا چاہتے۔
اب یہ اطلاع بھی گردش میں ہے کہ حکومت کی معطلی کے خلاف رد عمل دیتے ہوئے تحریک انصاف خیبر پختون خواہ اسمبلی کے حکومتی اراکین استعفے بھی دے سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنما اس آپشن پر غور اور باہمی مشاورت کر رہے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں اجتماعی استعفے بظاہر حکومت کے خلاف بطور احتجاج ایک بڑا ردعمل ہو سکتے ہیں، لیکن اس سے پارٹی کی پارلیمانی نمائندگی، اندرونی اتحاد اور مستقبل کے سیاسی کردار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تمام ارکان اس فیصلے پر متفق نہ ہوئے تو قیادت کو اندرونی اختلافات اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خصوصا جب یہ اطلاع بھی آرہی ہے کہ سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کو 33 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب صوبے میں گورنر راج کے نفاذ پر عوامی ردعمل بھی سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ پشاور سمیت بعض علاقوں میں لوگوں نے وفاق کے حق میں ریلیاں نکالیں اور مٹھائیاں تقسیم کیں، جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے 11 اکتوبر کو یومِ نجات قرار دیتے ہوئے تقریبات کا انعقاد بھی کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کی حمایت کے باوجود اس کی حکومتی کارکردگی سے متعلق سنگین شکایات تھیں جن کے خلاف عوامی رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ 13 برس سے اقتدار میں ہونے کی وجہ سے پختونخوا طویل عرصے سے پی ٹی آئی کا قلعہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ وہان ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بڑے احتجاجی مظاہروں کا نہ ہونا قیادت کے لیے ایک سیاسی امتحان بن گیا ہے۔ اگر پارٹی اپنی تنظیمی مشینری کو متحرک کرنے اور کارکنوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب نہیں ہوتی تو اس کی احتجاجی سیاست اور عوامی حمایت کے دعووں پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
دروازہ توڑ گرفتاری کے بعد سہیل آفریدی کہاں ہیں؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کو بیک وقت سیاسی، تنظیمی اور عوامی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ابکے مطابق اجتماعی استعفوں کا ممکنہ فیصلہ اس صورت حال میں نیا موڑ لا سکتا ہے، لیکن اس کے منفی نتائج پارٹی کے اندرونی اتحاد اور پارلیمانی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اپنے کارکنوں کو متحرک کر کے عوامی طاقت کا مظاہرہ کر پاتی ہے یا اس کی احتجاجی سیاست محدود سرگرمیوں اور بیانات تک سمٹ کر رہ جاتی ہے۔
