جی ایچ کیو حملہ: میڈیکل کور کا عقیل جہادی کیوں بنا؟

10 اکتوبر 2009 کو راولپنڈی میں پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرکے سینیئر فوجی افسران کو یرغمال بنانے والے تحریک طالبان کے فدائی دستے کا سربراہ عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان دراصل فوج کی میڈیکل کور میں بطور نرسنگ اسسٹنٹ خدمات انجام دے چکا تھا۔ راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال سمیت مختلف مقامات پر فوجی ملازمت کے دوران نرسنگ سٹاف سے وابستگی کی وجہ سے اس کے ساتھی اسے ڈاکٹر کہتے تھے، جس کے باعث شدت پسند حلقوں میں وہ ڈاکٹر عثمان کے نام سے مشہور ہوا۔
10 اکتوبر 2009 کو فوجی وردیوں میں ملبوس دس حملہ آور ایک سفید سوزوکی وین میں سوار ہوکر جی ایچ کیو کے پہلے حفاظتی حصار تک پہنچے۔ گاڑی پر فوجی نمبر پلیٹیں نصب تھیں اور حملہ آوروں کے پاس خودکار رائفلیں اور دستی بم موجود تھے۔ جب سکیورٹی اہلکاروں نے ان کی شناخت طلب کی تو حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کردی۔ ابتدائی جھڑپ میں پانچ حملہ آور ہلاک ہو گئے، تاہم باقی پانچ سکیورٹی حصار توڑ کر جی ایچ کیو کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
حملہ آوروں نے فوجی ہیڈ کوارٹرز کی عمارت میں شدید فائرنگ کے بعد درجن سے زائد فوجی افسران، اہلکاروں اور ملازمین کو یرغمال بنا لیا۔ اس وقت کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق، شدت پسندوں کا بنیادی مقصد اعلیٰ فوجی افسران کو یرغمال بناکر جیلوں میں قید اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ حملہ آوروں کے پاس 115 قیدیوں کے ناموں کی فہرست بھی موجود تھی، بعد میں انہوں نے اپنے مطالبات حکام تک پہنچانے کے لیے یرغمالیوں کے فون استعمال کیے۔
حملے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، اس کی منصوبہ بندی شمالی وزیرستان میں کی گئی تھی، جہاں عقیل احمد کی ملاقات تحریک طالبان سے وابستہ عسکریت پسند رہنماؤں سے ہوئی۔ عقیل کے اعترافی بیان کے مطابق، بریگیڈ 313 کے کمانڈر الیاس کشمیری اور استاد اسلم یاسین نے اسے فوجی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنانے پر آمادہ کیا۔ حملے کی تیاری کے دوران جی ایچ کیو کی عمارتوں، راستوں اور فاصلوں کا جائزہ لینے کے لیے گوگل ارتھ استعمال کیا گیا، جبکہ راولپنڈی میں عارضی رہائش، اسلحے اور فوجی وردیوں کا انتظام بھی کیا گیا۔
عقیل احمد نے حملے میں استعمال ہونے والی سفید سوزوکی وین ستمبر 2009 میں راولپنڈی سے خریدی تھی، جس پر فوجی نمبر پلیٹیں لگائی گئیں۔ حملہ آوروں نے مقامی مارکیٹ سے فوجی وردیاں تیار کروائیں اور اسلحہ و دھماکہ خیز مواد راولپنڈی منتقل کیا۔ جی ایچ کیو میں داخل ہونے کے بعد حملہ آوروں نے فوجی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹوریٹ کی جانب پیش قدمی کی اور وہاں موجود افراد کو یرغمال بنایا۔ فوج نے عمارت کا محاصرہ کرلیا، جبکہ مذاکرات کے ساتھ یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے کارروائی کی تیاری بھی جاری رہی۔
اگلی صبح سپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے آپریشن جانباز شروع کیا، جس کے دوران چار حملہ آور مارے گئے اور عقیل احمد زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ دراصل زخمی ہونے کے بعد عقیل چھت کی فالس سیلنگ میں گھس کر چھپ گیا تھا جو چند گھنٹوں بعد اس کے بوجھ سے نیچے ان گری۔ اس کے بعد اس نے جی ایچ کیو اس کی بلڈنگ سے نکلنے کی کوشش کی لیکن نگرانی کرنے والے کیمروں کی فوٹیج سے اس کی شناخت ہو گئی اور اسے تقریباً 20 گھنٹے بعد بلڈنگ کے اندر سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔
اس حملے میں فوج کے 11 اہلکار اور افسر شہید ہوئے تھے۔ حملے کے بعد ہونے والی تحقیقات میں عقیل کے علاوہ متعدد دیگر افراد کے نام بھی سامنے آئے، جن پر حملہ آوروں کو اسلحہ، رہائش اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے یا جی ایچ کیو کی سکیورٹی اور راستوں کے بارے میں معلومات دینے کے الزامات عائد کیے گئے۔ فوجی عدالت میں مقدمے کی کارروائی کے دوران عقیل احمد کو 11 اگست 2011 کو سزائے موت سنائی گئی، جبکہ اس کے بعض معاونین کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں دی گئیں۔ عقیل کی سزا کے خلاف اپیلوں کے باوجود سزائے موت برقرار رہی، تاہم پاکستان میں سزائے موت پر عملدرآمد رکے ہونے کے باعث اس پر فوری عمل نہیں ہوسکا۔
یاد رہے کہ عقیل احمد 2005 اور 2006 کے دوران پاک فوج سے فرار ہوگیا تھا اور بعدازاں تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ ہوگیا۔ اس کا تعلق پنجاب کے علاقے کہوٹہ سے تھا اور جی ایچ کیو پر حملے سے قبل بھی اس کے شدت پسند گروہوں سے روابط تھے۔ وہ مارچ 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں بھی ملوث رہا تھا اور راولپنڈی میں جنرل مشرف پر ہونے والے خودکش حملوں میں بھی حصہ دار تھا۔
دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملے کے بعد حکومت کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد بحال کیے جانے کے بعد عقیل احمد عرف ڈاکٹر عثمان کو 20 دسمبر 2014 کو فیصل آباد جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ یوں جی ایچ کیو پر حملے کے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور عقیل احمد کی زندگی کا اختتام فوجی عدالت سے سنائی گئی سزا پر عملدرآمد کے ساتھ ہوا۔
